ہمارا سینہ حاضر ہے!
Apr 24, 2013

یہ احتساب ڈرامہ تو اب جناب نہیں چلنے والا، یہ احتساب نہیں، رسوائی کی بھونڈی کوشش ہے۔ وزارت اطلاعات کے اربوں کے سیکرٹ فنڈ میں سے محض 17 کروڑ 98 لاکھ کا حساب اور وہ بھی بے ضابطگی کا عملی نمونہ۔ صدر، وزیراعظم کے بیرونی سرکاری دوروں پر انکے ہمراہ جانیوالے صحافیوں کو بھی وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈ سے فیضیاب ہوتا دکھا دیا گیا۔ پوچھنے میں کیا مضائقہ ہے کہ ان سرکاری دوروں پر جانیوالے وفود میں شامل صدر، وزیراعظم، وزرا، سرکاری حکام اور دوسرے غیرصحافی ارکان کے اخراجات بھی کیا وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈ سے کئے جاتے رہے ہیں؟ اگر ایسا ہوا ہے تو پھر انکے نام سیکرٹ فنڈ کے فیض یافتگان میں کیوں شامل نہیں اور اگر ایسا نہیں تو سرکاری دورے پر جانے والے ایک ہی وفد کے میڈیا پرسنز کیلئے وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈ سے کیوں اخراجات کئے جاتے رہے جبکہ یہ دورے تو سیکرٹ نہیں ہوتے۔ سو اس سارے ڈرامے میں کوئی بے دھب چال کارفرما نظر آتی ہے جو بادی النظر میں یہی ہوسکتی ہے کہ میڈیا سرکار کے صوابدیدی سیکرٹ فنڈ کا حساب کتاب لینے سے باز آجائے ورنہ اس سیکرٹ فنڈ کے حوالے سے اسے اپنی رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑیگا، جبھی تو صحافتی تنظیموں کو بھی سیکرٹ فنڈ کے فیض یافتگان میں شامل کیا گیا ہے۔ بھلا بتائیے تو سہی کہ وکلاءتنظیموں بشمول بار ایسوسی ایشنوں اور بار کونسلوں کو جو کروڑوں روپے کی گرانٹ ہر سال سرکاری خزانے سے ادا کی جاتی ہے، کیا وہ سیکرٹ فنڈ سے نکال کر وکلاءتنظیموں کے ہاتھوں میں تھمائی جاتی ہے، اگر وہ گرانٹ کسی دوسرے صوابدیدی فنڈ میں سے جاتی ہے تو صحافتی تنظیموں کو جاری ہونیوالی اسی نوعیت کی محض ہزاروں یا چند لاکھ پر مبنی گرانٹ وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈ میں سے ادا کرنے کی کیا منطق ہے؟ بھئی ایسی چالبازیوں میں اب قوم مزید نہیں آسکتی۔ احتساب اداروں کو دی گئی گرانٹ کے استعمال میں کسی قسم کی بے ضابطگیوں پر تو ہوسکتا ہے اور اسی طرح احتساب کا شکنجہ انفرادی طور پر حکومتی فنڈز، پلاٹس، فلیٹس، امپورٹ، ایکسپورٹ لائسنس، ترقیاتی اداروں کے ٹھیکے، پٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنوں کے اجازت نامے، سرکاری گاڑیاں، بے نامی سرکاری ملازمتیں اور اس نوعیت کی دیگر سرکاری مراعات حاصل کرنیوالے میڈیا پرسنز کے پاﺅں کی زنجیر ضرور بنایا جانا چاہئے جس سے موجودہ نام نہاد احتساب کے عمل میں بھی گریز کیا گیا ہے تو پھر اس احتساب کے بے لاگ ہونے کا یقین کس کو آئیگا، پھر اگر وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈ میں مختص بعض ذرائع کی اطلاعات کے مطابق چار سے چھ ارب روپے میں سے صرف 18 کروڑ روپے کے قریب استعمال شدہ رقم کا حساب پیش کیا گیا ہے تو باقی پونے چھ ارب روپے کس مد میں، کس کے کھاتے میں اور کس کی جیب میں چلے گئے؟ پوچھنے والوں کو میڈیا کا حساب کتاب پیش کرنیوالوں سے باقی اربوں روپے کا حساب بھی تو لینا چاہئے اور جناب، یہ تو سیکرٹ فنڈز کی صرف ایک گرہ کھولی گئی ہے جبکہ کہانیاں تو صدر، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے سیکرٹ صوابدیدی فنڈز میں سے میڈیا پرسنز کی فیض یافتگیوں کی بھی سنی جاتی رہی ہیں۔ حکومتی، مملکتی معاملات کو غیرجانبداری اور شفافیت کے ساتھ بے لاگ انداز میں چلانے کا مینڈیٹ رکھنے والے نگران حضرات کو ذرا ایوان صدر، وزیراعظم ہاﺅس اور وزرائے اعلیٰ ہاﺅس کی دسترس میں آئے سیکرٹ صوابدیدی فنڈز کی جانب بھی جھانک لیناچاہئے کہ ان دیگوں میں سے گزشتہ زیادہ نہیںتو پانچ سال کے عرصہ میں ہی من و سلویٰ نکال کر اسکے کہاں اور کہاں کہاں چڑھاوے چڑھائے جاتے رہے ہیں۔ میڈیا کمیونٹی میں سے جو بھی انفرادی حیثیت میں وزارت اطلاعات اور دیگر ادارہ جات و محکمہ جات کے صوابدیدی فنڈز میں سے شیرخرمے کی وصولی کرتا کاغذات میں یا کسی زبانی گواہی کے ذریعے پایا گیا ہو، وہ قومی سرکاری خزانے کی لوٹ مار میں برابر کا شریک سمجھا جائیگا، تو جناب ذرا احتساب پورا پورا کیجئے اور حساب کتاب برابر کیجئے تاکہ بے لاگ احتساب کے ایسے عمل پر کسی کو یقین بھی آسکے۔

پھر یہاں پر ہی اکتفا کیوں؟ سیاسی جماعتوں نے خود بھی تو اپنے میڈیا سیل اور سیکرٹ فنڈ قائم کرکے ان میں سے میڈیا پرسنز کو فیضیاب کرنے کا سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کررکھا ہے۔ اپنے اداروں میں کل وقتی فرائض سرانجام دینے والے ان جماعتوں کے منظور نظر میڈیا پرسنز انکے میڈیا سیل کی وساطت سے پرکشش مشاہروں ہی نہیں، اپنے بچوں، بچیوں اور عزیز و اقارب کے بچوں بچیوں کی شادیوں اور تعلیم کے اخراجات، گھر کے کچن کے نقدی اور رسدی لوازمات اور زیرومیٹر گاڑیوں کے حصول کی صورت میں بھی فیضیاب ہوتے آئے ہیں اور ہورہے ہیں۔ یہ سارے معاملات خفیہ بھی ہوں گے تو بھی کسی حساب کتاب میں تو موجود ہوں گے۔ چلئے آغاز ہورہا ہے تو لگے ہاتھوں سارا حساب کتاب کیوں نہ ہوجائے، مگر آپ تو جینوئن طریقے سے اور باضابطہ طور پر کئے گئے اخراجات کو بھی میڈیا کمیونٹی کے مجموعی اللے تللوں کا نام دیکر اس کمیونٹی کی رسوائی کا کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت اہتمام کررہے ہیں۔ اس لئے بھائی صاحب، ذرا ٹھہر جائیے، بے سمت، بگٹٹ دوڑتے ہوئے آپ اپنے احتسابی عمل کو بھی بٹہ لگا بیٹھیں گے۔

میڈیا کمیونٹی یقیناً کوئی مقدس گائے نہیں، سوسائٹی میں موجود گند کے کرتا دھرتاﺅں میں یقیناً میڈیا کمیونٹی نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور پھر وصولا ہوا ہے اسلئے گند ڈالنے اور وصولنے والے دیگر طبقات مواخذے کی زد میں آئیں گے تو میڈیا کمیونٹی پر کسی تحفظ کی چادر کیوں ڈالی جائے۔ اس میں جو بھی مقدس چہروں کے لبادے اوڑھے کالی بھیڑیں موجود ہیں، انکے نقاب ضرور الٹائے جانے چاہئیں، مگر کالی بھیڑوں کے تحفظ کا اہتمام کرکے کسی اجتماعی معاملے میں یا باضابطہ سرکاری وفود کے رکن ہونے کے ناطے سرکاری اخراجات کے زمرے میں آنیوالے میڈیا پرسنز کو میڈیا کمیونٹی کی مجموعی رسوائی کے اہتمام کیلئے رگیدا جائیگا تو یہ بے لاگ احتساب نہیں، جانبدارانہ انتقام ہوگا۔ اسلئے خاطر جمع رکھئے، میڈیا کمیونٹی اپنے خلاف ایسی کسی انتقامی سوچ کو پسپا کرکے چھوڑیگی۔ یہ جان رکھئے کہ گند ڈال کر اور گند اچھال کر گند کی صفائی نہیں کی جاسکتی۔ آپ سامنے سے آکر وار کیجئے، ہمارا سینہ حاضر ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com