برف کے پگھلنے میں پَو پَھٹے کا وقفہ ہے
Apr 22, 2013

بھلا یہ کوئی طمانیت کے اظہار کا موقع ہے کہ باوردی جرنیلی رعونت اب چک شہزاد کے وسیع و عریض عالیشان فارم ہاﺅس کے ایک کمرے میں مقید ہو کر رہ گئی ہے۔ گزشتہ روز یہ خبر تمام ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے طور پر چلتی رہی اور یار لوگ اس پر بھی مطمئن ہوگئے کہ ”یہاں تک تو پہنچے، یہاں تک تو آئے“ ورنہ انصاف میں پورا پورا حساب کتاب ہو اور قانون کی عملداری ہو تو کسی سابقہ تو کجا، موجودہ مقام مرتبے کی بنیاد پر بھی سنگین جرائم میں ملوث کسی ملزم کو تمام دنیاوی سہولیات سے مزین اپنے ہی گھر کے چاہے ایک کمرے میں ہی سہی، ناز نخرے کے ساتھ نظربند کرنا فی الحقیقت قانون اور انصاف کو نظربند کرنے والا معاملہ ہوگا۔ اس رعونت والے جرنیلی آمر کے ہاتھوں تو فی الواقع قانون اور انصاف نظربند رہ بھی چکا ہے اور جرنیلی آمر کا خمار اب بھی اپنے اس ماورائے آئین اقدام کے جائز ہونے کے ڈھنڈورے پیٹ رہا ہے۔ سو اس ماحول میں جب سابق جرنیلی آمر کو آج بھی بندوق اور وردی کی طاقت کا نشہ چڑھا نظر آرہا ہو، جو آج بھی پوری ڈھٹائی کے ساتھ جامعہ حفصہ اور لال مسجد آپریشن میں بے گناہ بچیوں کی شہادتوں اور انکے لاپتہ ہونے کی حقیقت سے انکاری ہو، جسے آج بھی 12 مئی 2007ءکو کراچی میں گرتی انسانی لاشوں پر قوم کو مکہ دکھاتے ہوئے غرور و تمکنت کے ساتھ ادا کئے گئے اپنے اس ڈائیلاگ پر ندامت نہ ہو کہ ”یہ ہے ہماری طاقت کا مظاہرہ، ہم سے مت ٹکراﺅ ورنہ کچلے جاﺅ گے“ جسے نواب اکبر بگٹی کیلئے ادا کئے گئے اپنے اس ڈائیلاگ پر بھی کسی قسم کی خجالت کا احساس نہ ہورہا ہو کہ ”آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپ کے ساتھ کیا چیز ٹکرائی اور آپ ڈھیر ہوجاﺅ گے“ جسے 9 مارچ 2007ءکی باوردی رعونت کے زور پر ملک کے منصفِ اعلیٰ سے استعفیٰ طلب کرنے اور انکے انکار پر انہیں کسی ٹوکہ اختیار کے تحت معطل کر کے گھر بھجوانے کے قبیح جرم میں بھی اپنی ”معصومیت“ کی جھلک نظر آرہی ہو اور جو 3 نومبر 2007ءکو دوبارہ آئین توڑنے کے سنگین جرم کا سزاوار ہونے کے باوجود اس پر اترا رہا ہو، بھئی ذرا انصاف کیجئے، آج اسے اپنے ہی قلعہ نما گھر کے آراستہ و پیراستہ کمرے میں محض نظربند ہونا چاہئے یا اڈیالہ جیل یا ملک کی کسی بھی دوسری جیل میں معمولی جرائم میں رگڑے کھانیوالے قیدیوں کی تعداد میں ایک قیدی کے اضافے کا باعث بننا چاہئے۔ مگر یہاں کے الٹ پھیر میں تو اتنے کو بھی غنیمت سمجھا جا رہا ہے کسی ماورائے آئین جرنیلی اقدام کے تحت جمہوریت کو تاراج کرنے اور دس دس سال تک اپنے یکا و تنہا اقتدار کے مزے لوٹنے والے کسی جرنیلی آمر کے ساتھ آج تک اتنا کچھ بھی نہیں ہوا جتنا خود ہی جال میں پھنسنے والے سابق جرنیلی آمر مشرف کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔یہ حضرت، ملک واپس آئے تو چہ میگوئیوں کا طولانی سلسلہ شروع ہوگیا، یقیناً یہ کسی ڈیل، کسی این آر او، کسی خفیہ معاہدے یا بیرونی طاقتوں میں سے کسی کی آشیرباد کے ساتھ واپس آئے ہیں۔ وہ سنگین فوجداری جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود پورے طمطراق کے ساتھ کراچی اور اسلام آباد میں مٹر گشت کرتے رہے۔ وزارت عظمیٰ پر ہاتھ صاف کرنے کیلئے بیک وقت ملک کے چار قومی حلقوں سے امیدوار بھی بن بیٹھے۔ انکی کمین گاہ کی جانب سے برسائے گئے تیروں سے گھائل ہو کر اپنے منتخب جمہوری اقتدار سے اور پھر ملک سے آﺅٹ ہونیوالے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو بھی انکی ملک واپسی پر انہیں ٹارگٹ کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ انکے خلاف بے نظیر بھٹو کے قتل کی ایف آئی آر کٹوانے والی پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی سانپ سونگھ گیا اور عمران خان کا تو مشرف کے ہاتھوں کچھ بگڑا ہی نہیں تھا، سو انہوں نے بھی سنگین فوجداری جرائم کے الزامات کا ٹوکرا اٹھائے آزادانہ گھومنے اور انتخابات کیلئے امیدوار بننے والے اس سابق جرنیلی آمر کے بارے میں لب کشائی مناسب نہ سمجھی۔ شائد اس معاملہ میں اپنی اپنی حکمت عملی ہو یا اپنی اپنی بے نیازی ہو مگر بارعونت جرنیلی آمر کی دھڑلے والی پذیرائی سے بادی النظر میں یہی تاثر پیدا ہوا کہ یہ حضرت باقاعدہ یقین دہانیاں اور ضمانت لیکر انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ اسی طرح ایک تاثر یہ بھی گردش کرتا رہا کہ فوجی ادارے کے سابق سربراہ کی حیثیت سے انہیں اس ادارے کی عزت و عزیمت پر حرف نہ آنے دینے کی خاطر پروٹوکول سے نوازا جا رہا ہے اور شائد ایسا اس ادارے کی کسی ہدائت پر کیا جا رہا ہے۔ مگر یہ سب جعلی پروپیگنڈہ تھا، سب ہوائی باتیں تھیں۔ امریکہ کو اب کیا پڑی کہ جرنیلی طاقت کی محرومی کے بعد اقتدار سے بھی محروم ہونیوالے اس سابق جرنیلی آمر کو کندھوں پر بٹھا کر پاکستان کی انتخابی سیاست میں اپنے مہرے کے طور پر روشناس کروائے جبکہ اقتدار کی مسند پر موجود ہر حکمران ویسے ہی امریکی مہرے والے کردار کی ادائیگی کیلئے تیار ہوتا ہے، سو خالہ بلی کی سازشی سوچ کے تانے بانے بننے والے امریکہ کو کیا پڑی ہے کہ اپنے لئے پکی پکائی چھوڑ کر دھواں چھوڑتی گیلی لکڑیوں پر دھرے کسی پکوان کے ساتھ اپنی پیٹ پوجا کی آس باندھ لے۔ اس لئے امریکہ نے مشرف کی ضمانت کی منسوخی کے بعد ان سے فاصلہ پیدا کرنے کے فرض کفایہ کی ادائیگی میں پہل کی اور جھٹ سے امریکی سفیر کا بیان آگیا کہ ہمارا مشرف کے کسی عدالتی یا سیاسی معاملہ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اسی طرح بطور ادارہ افواج پاکستان نے بھی مشرف کو بطور سابق آرمی چیف تحفظ فراہم کرنے کے معاملہ میں اپنے دامن پر لگا نظر آتا داغ مٹانے کیلئے یہی موقع غنیمت جانا اور جیسے ہی مشرف اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز نظربندی کیس میں اپنی ضمانت کی منسوخی کے بعد اپنے سکیورٹی گارڈز کے جلو میں اپنے فارم ہاﺅس چک شہزاد کی جانب روانہ ہوئے تو انکے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی وہاں تعینات رینجرز کے دستے کو واپس بلوالیا گیا۔کیا یہ افواج پاکستان کے ادارے کی جانب سے واضح پیغام نہیں تھا کہ ہم نے تو مشرف کے معاملے میں آئین، قانون اور انصاف کی عملداری کا ساتھ دینا ہے۔ اب مسئلہ ”فیثا غورث“ یہ آن پڑا ہے کہ جب کوئی بھی بیرونی یا اندرونی طاقت مشرف کی پشت پر نہیں ہے تو انہیں سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود پروٹوکول دیکر گھر میں باسہولت نظربند کرنا اور اس سے پہلے کمرہ¿ عدالت سے فرار ہو کر گھر پہنچنے کا مکمل موقع فراہم کرنا چہ معنی دارد؟ یہ صورتحال یقیناً قانون اور انصاف کی عملداری کے معاملہ میں واضح دوعملی کی عکاسی کرتی ہے۔ آیا ایسا کسی کے کہنے پر ہورہا ہے یا متعلقین اپنے اپنے خوف یا وسوسے کی بنیاد پر کوئی سخت اقدام اٹھانے سے گریز کررہے ہیں؟ اگر ایک جرنیلی آمر کے ہاتھوں ایک منتخب وزیراعظم اقتدار سے ہاتھ دھو کر مری کے ریسٹ ہاﺅس اور پھر کوٹ لکھپت جیل کے عقوبت خانے میں پہنچے اور پھر اڈیالہ جیل کے پھانسی گھاٹ میں تختہ دار پر لٹکا دئیے گئے اور اسی طرح دوسرے جرنیلی آمر کے ہاتھوں ایک اور منتخب وزیراعظم اقتدار بدری کے بعد اڈیالہ اور کراچی جیل کے عقوبت خانوں میں قید تنہائی کاٹتے کاٹتے خاندان سمیت ملک بدر بھی ہوگئے تو اب کسی ایک جرنیلی آمر کو بھی تو ایسی عبرت کی مثال بننا چاہئے۔بے شک آج یہ جرنیلی آمر اپنے پرتعیش گھر کے آراستہ کمرے میں شائد قید تنہائی کی اذیت سے گزر رہے ہوں گے تو میرا وجدان گواہی دے رہا ہے کہ اس ”نیلی آنکھوں والے سپوت“ کیلئے مکافاتِ عمل شروع ہوچکا ہے۔ سو دیکھتے جائیے کہ انہیں کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ انصاف اور قانون کی عملداری کا گھیرا تنگ ہوگا تو محض ضمانت کی منسوخی اور پھر گرفتاری پر انکے چہرے کی ہوائیاں اڑتی کیفیت انکی اذیت میں بدلتی جائیگی۔ سو اب سرکار کے ہوش ٹھکانے آنے کی نوبت آیا ہی چاہتی ہے، بے شک آج وہ اپنے گھر کے ایک کمرے میں نظربند ہیں مگر مطمئن رہئے، یہ نظربندی انہیں جیل کی کال کوٹھڑی کا راستہ دکھا رہی ہے۔ اب تو بسبرف کے پگھلنے میں پو پھٹے کا وقفہ ہے.... خاطر جمع رکھئے حضور والا!
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com