آج کا 4۔ اپریل ”گور پیا کوئی ہور“
Apr 04, 2013

پیپلز پارٹی کا المیہ اس کی پارٹی قیادت اور جیالے کارکنوں کی جانب سے حقائق تسلیم نہ کرنے کی عادت سے شروع ہوا ہے۔ جنرل ضیاءالحق نے پی این اے کی تحریک کے دوران حکمران پیپلز پارٹی اور اپوزیشن پی این اے کے مابین نئے انتخابات کے لئے مذاکرات کامیاب ہونے کے باوجود 5 جولائی 1977ءکو ملک میں مارشل لاءنافذ کیا اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو حراست میں لے کر سہالہ ریسٹ ہاﺅس میں نظربند کرا دیا تو خود بھٹو صاحب کو اپنی حکمرانی پر مارے گئے اس شبِ خون پر یقین نہیں آ رہا تھا اور وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں تھے کہ ان کے ساتھ وفاداری کی قسمیں کھانے والے ضیا¿الحق نے ہی ان کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ دیا ہوا ہے چنانچہ اب وہ وزیراعظم کے بجائے قیدی بن کر سہالہ ریسٹ ہاﺅس میں آئے ہیں، وہ اپنے ملنے والوں کو یہی یقین دلاتے رہے کہ ضیا¿الحق نے ان کی حکومت کا تختہ نہیں الٹا بلکہ پی این اے کے مشتعل لوگوں سے ان کی زندگی بچانے کی خاطر انہیں سہالہ ریسٹ ہاﺅس میں حفاظتی تحویل میں رکھا ہے۔ ان کا یہی گمان انہیں تختہ دار تک پہنچانے کا باعث بنا کیونکہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر بھی آمادہ نہیں تھے کہ نواب محمد احمد خان کے قتل کیس میں ٹرائل کورٹ بنائی گئی ہائیکورٹ انہیں شریک ملزم کی حیثیت سے پھانسی کی سزا بھی سُنا سکتی ہے چنانچہ وہ عدالتی کارروائی کے دوران اپنے وکیل ڈی ایم اعوان کو ڈانٹتے اور بنچ کے سربراہ قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مولوی مشتاق حسین کے ساتھ الجھتے اس فوجداری کیس کے میرٹ کو برباد کرتے رہے، پھر انہیں موت کی سزا ہوئی تو بھی انہیں یقین نہ آیا کہ وہ تختہ¿ دار تک بھی پہنچائے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی اپنے وکیل یحیٰی بختیار کے ذریعے اس کیس کا میرٹ قانونی کی بجائے سیاسی بنائے رکھا۔ اس کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے متعلقہ بنچ کے ایک فاضل رکن سید نسم حسن شاہ کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ملزم بھٹو نے عدالت کے ساتھ الجھ کر کیس کا میرٹ خود خراب کیا ورنہ انہیں کبھی موت کی سزا نہ ہوتی۔
بھٹو مرحوم کی خود اعتمادی تو اس انتہا کی تھی کہ سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کو جنرل ضیاءسے رحم کی اپیل کرنے سے بھی روک دیا، پھر اڈیالہ جیل کے عینی شاہدین ان کے تختہ¿ دار تک جانے کا منظر بیان کرتے ہوئے مرحوم بھٹو کے اس استفسار کو دہراتے رہے ہیں کہ کیا واقعی یہ مجھے پھانسی دینے والے ہیں۔
حقائق کو تسلیم نہ کرنے کی یہ عادت پیپلز پارٹی کے اس وقت کے عہدیداروں اور کارکنوں میں بھی بدرجہ اتم موجود تھی۔ بھٹو مرحوم کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لئے جب لاہور سول سیکرٹریٹ کی جیک برانچ میں ان کے بلیک وارنٹ جاری کرنے کا پراسس شروع ہوا تو ہمارے ایک سینئر صحافی بھائی سید منیر کاظمی کو اس کی بھنک پڑ گئی، میں اس وقت ایک اخبار میں کورٹ رپورٹنگ کرتا تھا اور بھٹو قتل کیس کو کوّر کر چکا تھا۔ منیر کاظمی صاحب نے اپنے ”سورس“ کے حوالے سے مجھے اور ہمارے ایک دوسرے سینئر ساتھی قربان انجم کو اعتماد میں لیا اور بلیک وارنٹ کی نقل کے حصول کیلئے ہم نے سیکرٹریٹ کی متعلقہ برانچ تک رسائی حاصل کر لی۔ اس وقت کے کسی اخبار کے لئے یہ بہت بڑا سکوپ تھا جو یکم اپریل 1979ءکو اخبار کی بینر ہیڈ لائن کی صورت میں منظرعام پر آیا کہ بھٹو مرحوم کو اڈیالہ جیل میں 4 اپریل کو تختہ¿ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔ یہ خبر بالخصوص بھٹو مرحوم کی جان بچانے کے لئے خود سوزیوں کی راہ اختیار کرنے والے پیپلز پارٹی کے جیالوں پر تو بجلی بن کر گرنی چاہئے تھی مگر انہوں نے یہی سمجھا کہ میں نے یکم اپریل کو بھٹو مرحوم کی پھانسی کی خبر دے کر ان کے ساتھ ”اپریل فول“ کیا ہے۔ کئی پارٹی عہدیداروں اور جیالوں نے آفس میں مجھ سے فون پر رابطہ کر کے خبر کی تصدیق کی اس کے باوجود انہیں یقین نہ آیا۔ اس خبر کی اشاعت کے بعد میں پیپلز پارٹی کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل سابق جج ہائیکورٹ ملک سعید حسن کا ردعمل معلوم کرنے کے لئے ان کے آفس گیا، وہ بھٹو مرحوم کی پسندیدہ شخصیت تھے کہ ان کے خلاف قتل کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی جج کے منصب سے استعفیٰ دے کر کمرہ¿ عدالت میں حاضرین کی نشستوں پر آ بیٹھے تھے اور اس صلے میں بھٹو مرحوم نے خود انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا تھا۔ میں نے جب انہیں بھٹو مرحوم کی 4 اپریل کو پھانسی کی خبر کی جانب متوجہ کیا تو وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے زیب تن سوٹ کی سلوٹیں درست کر رہے تھے، انہوں نے یہ خبر سُن کر کسی صدمے کا اظہار کرنے کی بجائے مجھ سے اپنی وجاہت کے بارے میں استفسار کیا ”میں کیسا لگ رہا ہوں“ پھر بے نیازانہ انداز میں مجھ سے مخاطب ہوئے ”کسی مائی کے لال میں جرا¿ت ہے کہ بھٹو کو تختہ¿ دار تک لے جائے“ مگر اس جرا¿ت کا مظاہرہ فی الواقع 4 اپریل 1979ءکو ہو گیا اور بھٹو مرحوم کا یہ گمان بھی ان کے ساتھ ہی تختہ دار پر چڑھ گیا کہ مجھے پھانسی دی گئی تو ہمالیہ روئے گا، ان کی پھانسی کے روز تو کسی جیالے کی خود سوزی کی نوبت بھی نہ آئی۔ مارشل لا کا خوف اپنی جگہ مگر جیالوں کے اس یقین نے بھی انہیں سڑکوں پر احتجاج کے لئے نہ آنے دیا کہ چیئرمین بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا جائے، یہ ممکن نہیں ہے۔
ناممکنات والے ایسے یقین کے جلوے آج بھی پیپلز پارٹی کی صفوں میں ٹھاٹھیں مار رہے ہیں۔ بھٹو مرحوم کو اس دنیا سے رخصت ہوئے آج 34 برس ہو گئے ہیں، اتنے طویل عرصہ کے دوران تین بار پیپلز پارٹی کے اقتدار کی فیض یابی اور کئی سالوں کی ریاستی سختیاں۔ اس پارٹی کے دیرینہ جیالے آج بھی اس زعم اور گمان میں ہیں کہ ان کی پارٹی کا بھٹو ازم والا فلسفہ برقرار ہے جو کسی مائی کے لال کی کسی سازش سے برباد نہیں ہو سکتا۔ اس پارٹی کے متعلقین کے اس گمان اور حقائق نہ تسلیم کرنے کی اس روش نے اس پارٹی کے بانی چیئرمین کی طرح ان کی پارٹی کو بھی تختہ¿ دار تک پہنچا دیا ہے۔ آج کی پیپلز پارٹی زرداریز پارٹی میں تبدیل ہو کر مال منفعت والی روایتی انتخابی پارٹی کے قالب میں ڈھل چکی ہے جس میں فی الواقع بھٹو ازم سے وابستہ اس پارٹی کے دیرینہ جیالوں کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ اگر انہیں زرداری قیادت کی جانب سے کان سے پکڑ کر اور چن چن کر کونے کھدرے میں پھینکا جا رہا ہے تو انہیں اب اپنی پارٹی کے بانی چیئرمین کے ساتھ ان کے فلسفہ اور اصولوں کو بھی تختہ¿ دار پر چڑھتے دیکھ کر حقائق کی دنیا میں واپس آ جانا چاہئے۔ اگر آج اس پارٹی کی قیادت کی جانب سے اس پارٹی کے بانی چیئرمین کی برسی کے دن بھی برسی کی بڑی تقریب کی صورت میں ان کی یاد تازہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تو اس پارٹی میں یہ فلسفہ تو اب باطل ہو چکا ہے کہ
وارث شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہو
جیالوں کو تو اب اپنی پارٹی کی برسی کا اہتمام کرنا چاہئے ورنہ اس پارٹی کی نئی قیادتوں کے ذہن سے اس کے بانی چیئرمین ہی نہیں، ان کی پارٹی کی یاد بھی محو ہو جائے گی، آج 4۔ اپریل کے دن کا پیپلز پارٹی کے دیرینہ جیالوں کیلئے یہی سبق ہے کیونکہ 7 اپریل سے بھٹو ازم کے نام پر جس پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز ہونے والا ہے وہ زرداری منشور کے تابع پارٹی کی انتخابی مہم ہو گی!
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com