کان کو الٹے ہاتھ سے پکڑنے کی ”دانش“
Mar 27, 2013

سلطانی¿ جمہور کو پانچ سال کی آئینی میعاد کی تکمیل تک کامیابی سے چلائے رکھنے کے دعویدار سابقہ حکومتی اور اپوزیشن قائدین کو جب نگران سیٹ اپ کیلئے محض اپنی اپنی سیاسی دکانداری چلائے رکھنے کی خاطر باہم متفق نہ ہونے کا طعنہ ملتا ہے تو انکی جانب سے جبینوں پر شکنیں ڈالتے ہوئے یہ منطق داغ دی جاتی ہے کہ اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے کا اختیار بھی تو 20 ویں آئینی ترمیم کے تحت ہی حاصل ہوا ہے اسلئے آپ اس آئینی عمل کی تکمیل پر اعتراض کرنیوالے کون ہوتے ہیں۔ ایسی کج بحثی کی بنیاد پر تو آئین کی دفعہ 58(2)B کے تحت صدر کے آئینی صوابدیدی ٹوکہ اختیارات کے ذریعے پچھلی پانچ اسمبلیاں اور منتخب جمہوری حکومتیں توڑنے کے عمل پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ یہ سارے اقدامات بھی آئین کے ودیعت کردہ اختیار کے تحت ہی اٹھائے گئے تھے۔ آئین کی کسی شق کی منشاءکیا ہوتی ہے، اسکی منظوری دینے والے انگوٹھا چھاپوں کو اسکا ادراک ہوجاتا تو وہ کج بحثی کے ذریعے اپنی خفت مٹانے کی کوشش کیوں کرتے۔ حضور والا، آپ نے نگران وزیراعظم اور نگران وزراءاعلیٰ کی نامزدگی کیلئے 20 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تین مراحل طے کئے ہیں تو کیا ضروری ہے کہ آئین کے اس تقاضے کو آخری مرحلے تک نبھانے کی نوبت لائی جائے۔ اگر پہلے مرحلے میں ہی سلطانی¿ جمہور کو نبھانے کے دعویدار سیاسی قائدین باہمی اتفاق رائے سے نگران وزیراعظم اور خیبر پی کے، سندھ اور بلوچستان کی طرح پنجاب میں بھی نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کی نوبت لے آتے تو کیا اس سے قوم کو آئین کا تقاضہ پہلے ہی مرحلے میں خوش اسلوبی سے نبھانے کا مثبت پیغام نہ جاتا؟ اگر آپ نے بذریعہ الیکشن کمیشن نگران وزیراعظم کی نامزدگی قبول کرکے آئینی تقاضہ پورا کرنے کا ”کریڈٹ“ لیا ہے تو پہلے ہی مرحلے میں یہی آئینی تقاضہ نبھانے کا کریڈٹ آپ کیلئے شاندار ہوتا کہ اس سے نگران سیٹ اپ پر پوری قومی قیادت کے اعتماد کا مثبت پیغام جاتا۔ اب آپ کی بادل نخواستہ قبولیت نے آپ کیلئے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ

برسوں آنکھوں میں رہے، آنکھوں سے چل کر دل میں آئے
راہ سیدھی تھی مگر پہنچے بڑے چکر سے آپ

میر ہزار خاں کھوسو پر انکی بذریعہ الیکشن کمیشن نامزدگی کے بعد آپکو اعتماد کرنا پڑا تو ذرا تصور کیجئے، آپکے اپنے ذریعے ان کے تقرر کی صورت میں ان پر آپکا اعتماد کتنا وزنی ہوتا۔

حضور والا، اگر آئین میں رسمی طور پر کسی شق کے تحت کسی کو سیاہ و سفید کا اختیار دیا جاتا ہے تو کیا ضروری ہے کہ اس اختیار کی نوبت لاکر ہی آئینی تقاضہ پورا کیا جائے۔ پارلیمانی جمہوریت کے منبع برطانیہ میں بادشاہ یا ملکہ کو آئین کے تحت یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ نیلی آنکھوں والے تمام بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ خوش بختو! ذرا تصور کرو، برطانیہ میں تاجِ برطانیہ کو حاصل یہ آئینی اختیار استعمال ہونا شروع ہوجائے تو اس جمہوری معاشرے میں پوری کی پوری انسانیت دفن نہ ہوجائے اور کیا کبھی تاجِ برطانیہ نے یہ اختیار استعمال کرنے کا سوچا؟ آئین میں تاجِ برطانیہ کو ایسا ٹوکہ اختیار دینے کی منشاءتاجِ برطانیہ کے ماتحت انسانی معاشرے کو ڈسپلن میں رکھنے کی ہے۔ اگر متعلقہ آئینی شق کی بنیاد پر تاجِ برطانیہ کی بٹھائی گئی دھاک کے ذریعے معاشرے کا نظم و نسق قائم رکھنے کی سرخروئی حاصل کی گئی ہے تو درحقیقت یہی آئینی تقاضہ نبھانے کا عمل ہے۔ اسی طرح حضور والا، 1985ءکی غیرجماعتی اسمبلی کے ذریعہ آئین میں ترمیم کرکے دفعہ 58(2)B کے تحت صدر کو اسمبلیاں توڑنے کا صوابدیدی اختیار بھی جمہوریت کے راگ الاپنے والے سیاستدانوں کو یہ ڈراوا دینے کیلئے ودیعت کیا گیا تھا کہ آپ نے جمہوریت کا مردہ خراب کرنے کی بے ڈھنگی چال برقرار رکھی تو صدر کے ٹوکہ اختیار کے ذریعے جمہوریت کا سر قلم کرکے اسے آپ سے نجات دلا دی جائیگی۔ آئین کی منشاءاس اختیار کو ہرصورت استعمال کرنے کی قطعاً نہیں تھی، چنانچہ 1990ءکی اسمبلی اس ٹوکہ اختیار کی زد میں لانے کا اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تو اسی بنیاد پر کالعدم قرار پایا تھا کہ اس اختیار کو استعمال کرنے میں صدر کی بدنیتی کا عمل دخل تھا۔ اب آپ نے ایکا کرکے 20 ویں آئینی ترمیم کی شتونگڑی کے تحت نگران وزیراعظم اور وزراءاعلیٰ کے تقرر کیلئے تیسرے مرحلے میں الیکشن کمیشن کو بھی اختیار سونپا تو اسکی اصل منشاءیہی بنتی ہے کہ سیاستدان خود ہی نگران سیٹ اپ پر اتفاق رائے کرلیں ورنہ الیکشن کمیشن کو اپنا اختیار استعمال کرنا پڑیگا۔ پھر جناب، الیکشن کمیشن کی جانب سے اس اختیار کے استعمال کی نوبت نہ آتی تو 20 ویں آئینی ترمیم کی عملداری کے زیادہ ڈنکے نہ بجتے؟ اب تو آپ نے ”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے“ والا معاملہ بنا دیا ہے اور اسے گھسیٹتے گھسیٹتے پنجاب کے نگران سیٹ اپ تک بھی لے آئے ہیں۔ اگر آپ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے اپنی اپنی نامزد چاروں شخصیات کو محترم سمجھتے ہیں تو ان میں سے کسی ایک پر اتفاق کرنے سے اس کیلئے آپکا احترام دوچند ہوجاتا۔ اب آپ الیکشن کمیشن کے نامزد کردہ نگران وزیراعلیٰ کو بھی قبول کرینگے تو آپ کان کو الٹے ہاتھ سے ہی پکڑیں گے۔

ابھی میں ان سطور تک پہنچا تھا کہ نوائے وقت کے اجراءسے اب تک کے اسکے ایک محترم قاری عبدالجبار اپل نے ڈیفنس لاہور سے فون کرکے وفاقی اور صوبائی نگران سیٹ اپ میں قومی اتفاق و یگانگت کا رنگ بھرنے کی ایسی دل خوش کن تجویز پیش کی کہ اسکے قابل عمل ہونے کی صورت میں مجھے نگران سیٹ اپ کی غیرجانبداری کا حسن دوبالا ہوتا نظر آیا۔ انکے بقول سابقہ حکومتی اور اپوزیشن قائدین کی جانب سے نگران وزیراعظم اور نگران وزراءاعلیٰ کیلئے جتنے بھی نام تجویز کئے گئے وہ سب اپنے اپنے فیلڈ میں مستند اور معتبر مقام رکھتے ہیں۔ اگر ان سب کو متعلقہ وفاقی اور صوبائی نگران سیٹ اپ میں سینئر وزراءکی حیثیت سے شامل کرلیا جائے تو یہ صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے نگران وزیراعظم اور وزراءاعلیٰ کے دست و بازو بن جائیں گے اور اس نگران سیٹ اپ کے ماتحت منعقد ہونیوالے انتخابات کے نتائج تمام فریقین کیلئے قابل قبول بھی ٹھہریں گے۔ یہ نیک اور مفت مشورہ پلّے باندھنے والا ہے۔ آپ بھی اپنی اپنی نامزد شخصیات کو آمادہ کرکے اس مشورے کو آگے بڑھائیں اور نگران وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے بذریعہ الیکشن کمیشن تقرر کا آئینی تقاضہ پورا ہونے کی خفت مٹائیں ورنہ آپکا چال چلن ایسا ہے کہ آپ پر تو تاجِ برطانیہ والا اختیار لاگو ہونا چاہئے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com