پیپلز پارٹی سماجی گروپ بمقابلہ جیالا گروپ
Mar 25, 2013

الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کا تقاضہ پورا کرنے کیلئے ایوان صدر میں کرائے گئے پیپلز پارٹی کے خانہ پُری پارٹی انتخابات میں صدر زرداری کو سیاسی منصب سے ہٹانے اور ”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات“ بلاول زرداری کو پارٹی کا سرپرست اعلیٰ بنانے کی خبر پڑھ کر مجھے کوئی اچنبھہ نہیں ہوا، کیونکہ رسمی کارروائی کے اس انتخابی عمل نے بھٹوز کی پیپلز پارٹی اور زرداری سماجی پارٹی میں فرق کی پہچان کرانے میں آسانی پیدا کردی ہے، البتہ اس انتخاب میں پارٹی عہدیداروں کے رسمی چناﺅ کی خبر میڈیا کو پہنچاتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ”نومنتخب“ سیکرٹری جنرل سردار لطیف کھوسہ نے یہ لطیفہ سنا کر حاضرین کا دل باغ باغ کردیا کہ ایوان صدر کی جانب سے انہیں فراہم کی گئی پارٹی عہدیداروں کی فہرست میں صدر زرداری کا نام شامل نہیں جو اسکا بین ثبوت ہے کہ انہوں نے پارٹی کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ بھئی یہ انتخابات کہاں ہوئے اور ان میں کون سے ممبر ووٹروں نے رائے دہی کا حق استعمال کیا کہ آپ حضور والا کو اپنے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے کی خبر بھی آپ کو فراہم کی گئی نئے عہدیداروں کی فہرست میں اپنا نام پڑھ کر ہوئی ہے؟ اور کیا خوب عذر پیش کیا ہے حضور والا نے پارٹی کے جیالے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کے پاﺅں کے نیچے سے پارٹی عہدے کا قالین سرکاتے ہوئے۔ کیا جہانگیر بدر بھی اس عذر سے متفق ہیں؟ وہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے ٹکٹ پر سینٹ کے رکن منتخب ہوئے اور اس حیثیت میں سینٹ کے قائد ایوان بنے تو یہ پراسس انکی پارٹی عہدے سے نااہلیت کا عذر کیسے بن گیا۔ پیپلز پارٹی کے ہر امیدوار نے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کرائی گئی پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے ٹکٹ پر ہی تو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا انتخاب لڑنے کی اہلیت حاصل کی تھی جبکہ محض پارٹی ٹکٹ پر کسی کے رکن پارلیمنٹ بننے سے وہ پارٹی عہدے کیلئے نااہل قرار پاتا تو یہ اصول ساڑھے چار سال تک صدر کے منصب کے ساتھ ساتھ پارٹی کے شریک چیئرمین کے منصب کو انجوائے کرنے والے محترم آصف علی زرداری پر بھی شروع دن سے ہی لاگو ہوجاتا کہ انہوں نے بھی تو پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے ٹکٹ پر ہی صدر کا انتخاب لڑا اور جیتا تھا۔ پھر یہی اصول پارٹی ٹکٹ پر انتخاب لڑنے اور جیتنے والے دیگر پارٹی عہدیداروں پر بھی تو لاگو ہونا چاہئے تھا۔ اگر اکیلے ہمارے دیرینہ دوست جہانگیر بدر اس ”ٹوکہ اصول“ کی زد میں آکر ”شہید“ قرار پائے ہیں تو یہ کوئی گول مول سا سیدھا سادہ معاملہ نظر آتا ہے۔ اگر شہید محترمہ نے پارٹی قیادت میں سے اپنی والدہ مرحومہ بیگم نصرت بھٹو کو مکھن سے بال کی طرح نکال کر پارٹی قیادت خود سنبھالنے کے بعد ”بھٹوز پارٹی“ کو اپنے انکلوں (بھٹو مرحوم کے دیرینہ ساتھیوں) سے پاک کیا تھا تو انکے سیاسی جانشین جناب آصف علی زرداری کو بھی پارٹی قیادت سنبھالنے کے بعد اسے شہید بی بی کی باقیات سے پاک کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ انکا پارٹی عہدہ سنبھالنے کے بعد جہانگیر بدر کو پانچ سال تک ”زرداری پارٹی“ میں برداشت کئے رکھنا بذاتِ خود جہانگیر بدر کیلئے بہت بڑے کریڈٹ کے زمرے میں آتا ہے، ورنہ وہ موجودہ عذر ہی کے تحت فروری 2008ءکے انتخابات کے وقت ہی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے مکھن سے بال کی طرح نکال دئیے جاتے تو کیا پارٹی شریک چیئرمین کا ہاتھ کسی نے روکنا تھا۔ اب انکے ساتھ بس یہ مذاق ہوا ہے کہ ان سے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے الیکشن کمیشن میں پارٹی کی رجسٹریشن کی درخواست دلوانے کے بعد انہیں اس منصب سے فارغ کیا گیا اور سردار لطیف کھوسہ سے پارٹی رجسٹریشن کی نئی درخواست دلوا دی گئی۔ یہ وہی پیپلز پارٹی ہے جسے صدر مملکت کے پارٹی عہدے پر برقرار رہنے کا جواز نکالنے کیلئے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے روبرو سیاسی کے بجائے محض ایک فلاحی پارٹی قرار دیا تھا مگر اب اس فلاحی پارٹی کے عہدے سے صدر مملکت کو نکال کر اور بلاول زرداری کو سرپرست اعلیٰ بناکر اس پارٹی کے محض ایک سماجی تنظیم ہونے کی گواہی دیدی گئی ہے۔یہاں پارٹیوں کی تشکیل کا کوئی قاعدہ قانون تو ہے نہیں، ورنہ کسی سیاسی پارٹی میں سرپرست اعلیٰ کے عہدے کی گنجائش کہاں نکلتی ہے۔ سرپرست اعلیٰ کا عہدہ تو مختلف علاقوں کی فلاح و بہبود کی تنظیموں میں علاقے کی کسی معزز شخصیت کی عزت افزائی کیلئے مختص ہوتا ہے اور اس عہدے کا کوئی انتظامی یا مالیاتی کردار نہیں ہوتا۔ چنانچہ اگر آج پیپلز پارٹی چیئرمین یا چیئرپرسن کے بجائے محض سرپرست اعلیٰ کی زیرہدائت و نگرانی انتخابی سیاسی عمل میں شریک ہو کر انتخابی میدان میں اتریگی تو کیا اس پارٹی کے سیاسی کردار کا سوال نہیں اٹھے گا۔ سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ تو بلاول زرداری کی سرپرستی میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل بن کر بھی مطمئن ہوں گے، کہ اس پارٹی کو فلاحی پارٹی بنانے کیلئے انکی کوششیں بالآخر رنگ لائی ہیں مگر اب الیکشن کمیشن ضرور اس معاملے کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے سکتا ہے کہ سپریم کورٹ میںدئیے گئے بیان کی روشنی میں جس پارٹی کا کوئی سیاسی کردار ہی نہیں متعین اور اب بلاول زرداری کو سرپرست اعلیٰ بناکر اس پارٹی کے غیرسیاسی فلاحی کردار پر مہر تصدیق ثبت کردی گئی ہے تو اسکی رجسٹریشن بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن کے ماتحت ہونی چاہئے یا سماجی تنظیموں کی رجسٹریشن کے قانون کے ماتحت اسے محکمہ سماجی بہبود میں اپنی رجسٹریشن کیلئے رجوع کرنے کا کہا جائے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ جب پارٹی ٹکٹوں کے اجراءکیلئے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کرایا جاچکا ہے تو پھر اب خالص پیپلز پارٹی کو (جو اب زرداری ملغوبہ پارٹی بن چکی ہے) الیکشن کمیشن کے روبرو بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرانے کے پس پردہ کیا محرکات ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن بھی شش و پنج میں ہے کہ پیپلز پارٹی کے نام کی کس پارٹی کو بھٹوز پارٹی سمجھ کر تلوار کا انتخابی نشان دیا جائے کہ اسکی دعویدار بھٹو فیملی کی نسلی وارث غنویٰ بھٹو بھی ہیں اور شہید محترمہ کی سیاسی ساتھی ناہید خان بھی ہیں۔ بھٹوز پارٹی کے ان دو گروپوں میں بلاول زرداری کی سرپرستی میں پارٹی رجسٹریشن اور انتخابی نشان تلوار کے حصول کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دینے والی پارٹی تو فی الواقع اب پیپلز پارٹی (زرداری سماجی گروپ) ہی کہلائیگی۔ جہانگیر بدر اس گروپ کے سیکرٹری جنرل کے منصب سے فارغ ہوئے ہیں تو اس پر مایوس ہونے کے بجائے انہیں خوش ہونا چاہئے کہ انکا تعلق تو پارٹی کے جیالا گروپ سے ہے جبکہ یہ جیالا گروپ ہی ”بھٹوز پارٹی“ کی علامت ہے۔ پارٹی کی ایک دیرینہ جیالی ساجدہ میر بھی اب پریشان ہوگی کہ وہ پارٹی کی نئی صورتحال میں ”بھٹوز پارٹی“ کا حصہ ہے یا زرداری گروپ کی جانب سے ہی پارٹی ٹکٹ کا حصول اس نے دوبارہ اپنی منزل بنانا ہے۔ سود و زیاں کے مراحل طے ہونے میں اب وقت ہی کتنا رہ گیا ہے۔ اس پارٹی کے جیالا گروپ کو زرداری گروپ کے پارٹی ٹکٹ نہیں ملیں گے تو اس پارٹی کی گروپنگ بھی واضح ہوجائیگی اور پھر انتخابات میں پارٹی کے جیالے ورکرز کیلئے فیصلہ کرنا بھی آسان ہوجائیگا اسلئے اب یہ طلسم ٹوٹنے والا ہے کہ جیالا کارکن پارٹی قیادتوں سے ناراض ہو کر اور پارٹی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے بھی پولنگ بوتھ میں جاکر ٹھپہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ہی لگائے گا۔ بھائی صاحب، یہ قلعہ اب ٹوٹنے والا ہے، اسکا فائدہ کس کو پہنچے گا، سیاسی پنڈت حساب کتاب کرکے اسکا ابھی سے نتیجہ اخذ کرلیں تو مستقبل کی سیاست ”کرشمہ قیادتوں“ کے فریب سے نکل کر عملیت پسندی کا راستہ اختیار کرسکتی ہے۔ بدر بھائی جان اپنی دانشوری کا زور لگا کر اس گتھی کو بھی سلجھا دیں تو انکی ”بھٹوز پارٹی“ کی عاقبت خراب ہونے سے بچ سکتی ہے، ورنہ تو اب اس پارٹی کے جیالا گروپ کی ناکردہ گناہی بھی گناہوں میں آیا ہی چاہتی ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com