ملی بھگت کا شور پُرزور
Mar 22, 2013

یقیناً ملی بھگت تو ہورہی ہے، سندھ کا نگران سیٹ اپ بھی پیپلز پارٹی اور متحدہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ٹھہرا اور بلوچستان میں بھی اب نگران سیٹ اپ کیلئے زرداری، رئیسانی ملی بھگت کی تکمیل ہوگئی ہے مگر حضور والا، اس ملی بھگت کا موقع تو خود آپ نے ہی فراہم کیا ہے، اب اعتراض کیوں؟ جب آپ لوگ ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کے باوجود بڑے کروفر سے 18ویں کے بعد 19 ویں اور 20 ویں آئینی ترامیم کی بھی متفقہ منظوری کا اہتمام کررہے تھے تو اس وقت ہی آپکو ماضی کی بے وفائیوں کو ذہن میں لاکر آئندہ کی توقعات وابستہ کرنی چاہئیں تھیں۔ اب تو جناب، آپ نے خود اپنے ہاتھ پاﺅں کٹوا لئے ہیں اس لئے بیشک آپ ملی بھگت اور بندربانٹ کا الزام دھریں، مگر سندھ اور بلوچستان میں نگران وزراءکی نامزدگی 20 ویں آئینی ترمیم کے تقاضے کے عین مطابق ہوئی ہے۔ متفقہ طور پر منظور کرائی گئی اس ترمیم کے تحت جب آپ نے خود طے کرادیا کہ نگران وزیراعظم اور وزراءاعلیٰ کی نامزدگی پر فورم کے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے اتفاق رائے سے ہوگیا تو اب اس میں عذر نکالے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔ آپ نگران وزیراعظم کیلئے قومی اسمبلی کے قائد ایوان (وزیراعظم) کے ساتھ اتفاق رائے نہیں کرسکے تو 20 ویں آئینی ترمیم کے تقاضے کے تحت ہی یہ معاملہ وفاقی پارلیمانی کمیٹی کے سپرد ہوچکا ہے۔ اگر اس فورم پر بھی آج 22 مارچ کے دن تک اتفاق نہ ہوا تو نگران وزیراعظم کیلئے 20 ویں آئینی ترمیم کا تقاضہ الیکشن کمیشن کے ذریعے پورا ہوجائیگا۔ جب یہ سب مراحل آپکے اتفاق رائے سے منظور کردہ 20 ویں آئینی ترمیم کے عین مطابق طے ہوں گے تو بھلے آپ ”کِڑ“ نکالنے کیلئے عدالت عظمیٰ کا چکر لگا آئیں، آپ کیلئے اپنی مرضی کے ریلیف کی توقع عبث ہی رہے گی۔میرے جیسے عام آدمی کو تو مفاداتِ باہمی کی نگہبانی والی اس سیاسی شعبدہ بازیوں نے ہی سسٹم سے بدگمان کیا ہے۔ جب سندھ اسمبلی کی آئینی میعاد پوری ہونے سے دو ہفتے قبل متحدہ نے حکمران اتحاد سے نکل کر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا اور جھوٹ موٹ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید کا بھی سلسلہ شروع کردیا تو انہی سطور میں اس وقت بھی میں نے اس سارے عمل کو سیاسی شعبدہ بازی کا نام دیا تھا کیونکہ اس وقت بھی میرا یہی گمان تھا کہ یہ سیاسی شعبدہ بازی سندھ میں محض اپنی مرضی کا نگران وزیراعلیٰ لانے کیلئے دکھائی گئی ہے۔ حضور والا نے تو اس وقت ایم کیو ایم متحدہ کے اپوزیشن بنچوں پر جانے کے اصل پس منظر سے قوم کو آگاہ کرنا ضروری نہ سمجھا اور یہ آس لگالی کہ ماضی کی طرح ایم کیو ایم پھر آپکی انتخابی حلیف بن کر سندھ میں آپکی پوزیشن مستحکم بن سکتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی، متحدہ کی یہ ملی بھگت درحقیقت سندھ میں اپنی مرضی کا نگران سیٹ اپ لاکر آپکا طلسم توڑنے کی تھی۔ تو دیکھ لیا جناب اس ملی بھگت کا نتیجہ، نگران وزیراعلیٰ سندھ کے منصب کا حلف اٹھانے والے جسٹس (ر) زاہد قربان علوی کی جانب سے سابقہ دور حکومت میں سندھ کے اتحادی حکمرانوں کو فائدے پہنچانے کے کیسے کیسے کارنامے سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے پانچ سال تک زکوٰة کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے اور پھر سندھ فلڈ کمیشن کے سربراہ کے طور پر سندھ حکومت سے مراعات لیں تو اسکے بدلے انہوں نے اتحادی حکمرانوں کو اپنی مرضی کے لوگوں میں اربوں روپے کی زکوٰة تقسیم کرنے کی بھی مکمل سہولت فراہم کی۔ اگر سبکدوش ہونیوالی سندھ اسمبلی کے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر میں اس ”مرنجاں مرنج“ شخصیت کی بطور نگران وزیراعلیٰ نامزدگی کیلئے اتفاق باہمی ہوا تو یہ سچ مچ کا اپوزیشن کا کردار تھوڑا ہے۔ اس کردار کی خاطر ہی تو متحدہ نے قومی اور سندھ اسمبلی میں چند روز کیلئے چُوری کھانے والے مجنوں کا کردار قبول کیا تھا۔ اب سندھ کا پورا نگران سیٹ اپ دونوں کی مرضی کا ہوگا تو پولنگ کے مرحلہ تک کچھ نہ کچھ تو ہورہے گا۔ بےشک متحدہ کا اپوزیشن کا یہ کردار فرضی ہے مگر 20 ویں آئینی ترمیم میں آپ نے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت ہی کو نگران سیٹ اپ کی تشکیل کا پیمانہ بنایا ہے تو اب بھگتیں۔ سندھ میں ہی نہیں، بلوچستان میں بھی بھگتیں کہ وہاں کیسے اسلم رئیسانی کی حکومت معطل کرکے انکے خاندان کیلئے اپوزیشن کے کردار کی راہ نکالی گئی جس پر چل کر اسلم رئیسانی کے برادر خورد نواب لشکری رئیسانی پیپلز پارٹی کی صوبائی صدارت اور پارٹی رکنیت تج کر مسلم لیگ (ن) کی کشتی میں سوار ہوئے اور جب نگران سیٹ اپ کی تشکیل کا مرحلہ آیا تو نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کی ازخود بحالی کی نوبت لاکر انکی اور اپوزیشن لیڈر کی ملی بھگت کا ماحول بنایا گیا اور پھر اسلم رئیسانی کی ایوان صدر میں عزت افزائی کرکے انہیں نگران سیٹ اپ کیلئے گرین سگنل دیدیا گیا۔ بھائی صاحب، یہ سب معاملہ 20 ویں آئینی ترمیم کے تقاضے پورے کرنے کیلئے طے پایا ہے تو اب آپ کو اپنی آنکھوں میں دھول جھونکے جانے پر اعتراض کیوں؟ پنجاب میں نگران سیٹ اپ کیلئے بھی تو بہرصورت آپکو 20 ویں آئینی ترمیم کا تقاضہ پورا کرنا ہے۔ سو اب رنگ میں بھنگ نہ ڈالیں کہ ایسی کسی ”بھنگ“ کے نتیجہ میں ”جمہوریت“ کے پانچ سال کی تکمیل والی آپکی سرخروئی غارت ہوسکتی ہے۔ آپ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کیلئے گومگو میں ہوں گے۔ اگر آپ سیاسی انا کا مسئلہ نہ بنائیں تو پیپلز پارٹی کے ہاتھوں غلطی سے سابق جج لاہور ہائیکورٹ سید زاہد حسین بخاری نگران وزیراعلیٰ کیلئے نامزد ہوگئے ہیں۔ آپ اس پر صاد کرلیں کہ سید زاہد حسین بخاری کے دامن میں بطور منصف نیک نامی ہی نیک نامی ہے۔ آپ انکی نامزدگی والی پیپلز پارٹی کی غلطی کو اپنے حق میں کیش کرالیں، باقی کام الیکشن کمیشن خود کرلے گا۔ جمہوریت کا مردہ خراب کرنیوالی سیاستدانوں کی غلطیوں کا آخر کسی نے تو کفارہ ادا کرنا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com