فرسودہ نظام کے تحفظ کا اہتمام
Mar 09, 2013

مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف اپنے پارٹی سیکرٹریٹ کے موسم کی مناسبت سے مزین ہال میں پارٹی عہدیداروں کے جلو اور برادر خورد خادمِ پنجاب میاں شہبازشریف کی معیت میں اپنے پارٹی منشور 2013ءکے اجراءکی رسم ادا کرنے آئے تو اس سے قبل میڈیا کے لوگوں میں نرم و ملائم کاغذ پر انگریزی اور اردو پر طبع کئے گئے اس منشور کی دیدہ زیب فائل میں لپٹی کاپیاں تقسیم کی جاچکی تھیں۔ 116 صفحات پر مشتمل اس منشور کے چیدہ چیدہ نکات ایک الگ کاغذ پر میاں نوازشریف کی سہولت کیلئے انکی تحریری تقریر کی صورت میں مرتب کئے گئے تھے جو یقیناً مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل کا کارنامہ ہوگا۔ میں نے میاں نوازشریف کی آمد سے قبل اس منشور کا سرسری جائزہ لیا جس میں میاں نوازشریف کے بقول ترمیم و تبدیلی کی ابھی گنجائش موجود ہے مگر کیا یہ منشور عوام کے مقدر کی تبدیلی کی بنیاد بھی رکھ پائیگا؟ ذہن میں یہ سوال اٹھا تو سٹیج کے عقب میں آویزاں کئے گئے وسیع و عریض فلیکس پر درج نعروں کی جانب نگاہ اٹھی اور پھر مسلم لیگ (ن) کے اس مرغوب نعرے پر جم گئی کہ ”ہم بدلیں گے پاکستان“ بھئی، یہ تمنا آج کے اس پاکستان کو بدلنے کی ہے جو انہی حکمران اشرافیہ طبقات کی حصولِ جاہ و منصب کی نفسانی خواہشات کا اسیر بن کر ان طبقات سے اپنی آزادی یا خلاصی کا تمنائی ہے اور دھرتی پر بوجھ بنائے گئے حقیر و معتوب اور زندہ درگور انسانوں کی عزتِ نفس کی بحالی چاہتا ہے۔

پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ سے تو یہی توقع ہونی چاہئے کہ وہ بانیان پاکستان حضرت قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے متعین کردہ اصولوں، فلسفہ اور آدرشوں کے مطابق پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی بنیادیں مضبوط و مستحکم بنانے کیلئے خود کو وقف رکھے گی اور وہ پاکستان بناکر دکھائیگی جس کی خاطر پاکستان کے قیام کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ اس پاکستان میں تو ہندو اور انگریز کے استحصالی نظام میں عزتِ نفس سے محروم رکھے گئے اور راندہ¿ درگاہ بنائے گئے عام انسانوں کی عزتِ نفس کی بحالی اور خوشحالی مقصود تھی مگر بدقسمتی سے اس پاکستان میں بھی بقول اقبال

”برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر“

کی روایت ہی قائم رہی ہے بلکہ انگریز اور ہندو کی غلامی سے نجات حاصل کرنیوالے عام مسلم طبقات الٹا خودساختہ اور جعلی فیوڈل لارڈز، بے فیض سرمایہ داروں اور اسٹیبلشمنٹ کے مہرے مفادپرست طبقات کی غلامی میں چلے گئے۔ یہ معدودے چند طبقات آج بھی اشرافیہ طبقات بن کر بھاری اکثریت والے راندہ¿ درگاہ عوام الناس کے کندھوں پر سوار ہو کر اور انہیں کچلتے مَسلتے اپنے زورازوری لاگو کئے اور پروان چڑھائے گئے ”سٹیٹس کو“ میں کوئی دراڑ نہیں پڑنے دینا چاہتے۔ مسلم لیگ (ن) کے منشور میں بے شک عوام الناس کی بہتری اور ترقی کیلئے بہت سارے دل خوش کن نعرے لفاظی میں مزین کرکے اجاگر کئے گئے ہیں مگر ”ہم بدلیں گے پاکستان“ کا تصور ذہن میں لاتے ہوئے مجھے چند روز قبل شائع ہونیوالی اس خبر نے بھی کچوکے لگانا شروع کردئیے جو مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کی نامزدگی کے ”زرّیں اصولوں“ سے عوام الناس کو آگاہ کرنے کیلئے چلوائی گئی ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) نے آنیوالے انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کے اجراءکیلئے امیدواروں سے درخواستیں طلب کیں جو میاں نوازشریف کی پریس کانفرنس کے دوران انہیں مسلم لیگ (ن) کی ایک خاتون عہدیدار کی جانب سے فراہم کی گئی اطلاع کے مطابق دو ہزار سے زیادہ ہیں۔ ان درخواستوں کے ساتھ بطور زرضمانت فی درخواست 50 ہزار روپے قومی اسمبلی اور 30 ہزار روپے صوبائی اسمبلی کیلئے وصول کئے گئے جو قطعی ناقابل واپسی ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے اپنے ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق اس مد میں مسلم لیگ (ن) کے فنڈ میں 50 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جمع ہوئی ہے۔ اب آتے ہیں اس خبر کی جانب جو ”ہم بدلیں گے پاکستان“ کے ماٹو کا تصورات میں جائزہ لینے کے عمل میں مجھے مسلسل کچوکے لگاتی رہی۔ اس خبر کے مطابق امیدواروں کی موصولہ درخواستوں میں سے جو امیدوار پارٹی ٹکٹ کیلئے اہل قرار پائیں گے انہیں پارٹی ٹکٹ جاری کرتے وقت قومی اسمبلی کیلئے چار کروڑ اور صوبائی اسمبلی کیلئے دو کروڑ روپے فی ٹکٹ پارٹی فنڈ کیلئے وصول کئے جائینگے۔ ارے! اس کاروبارِ سیاست میں عام آدمی کے حقوق، انکی محرومیوں کے ازالہ اور ”ہم بدلیں گے پاکستان“ کے خواب دکھائے جا رہے ہیں۔ اس پارٹی پالیسی کے پیش نظر کیا راندہ¿ درگاہ، مجبور و مفلس عام آدمی مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم پر اپنی کلاس کی نمائندگی کی خاطر انتخاب لڑنے کا بھلا سوچ بھی سکتا ہے؟ بھئی یہ اکیلی مسلم لیگ (ن) کی بات ہی کیوں، پیپلز پارٹی کے اندر بھی تو مفاداتِ باہمی والے اشرافیہ طبقات کا یہی کلچر رائج ہے۔ وہاں بھی پارٹی فنڈ اسی طرح مالامال کیا جاتا ہے اور جناب، تبدیلی کا نعرہ لگانے والے سونامی خاں کی پارٹی صفوں کے ماحول کا جائزہ لیں تو مفاداتِ باہمی کے رکھوالے، فیوڈل لارڈز کی چکاچوند جلوہ آرائیاں کیا عام آدمی کا مقدر بدلنے کی گواہی دے رہی ہیں۔ تصور کیجئے کہ جو امیدوار پارٹی فنڈ میں کروڑوں روپے کا تاوان دیکر انتخابی میدان میں اتریگا اور پھر الیکشن کمشن کی پابندیوں کے باوجود مزید کروڑوں روپے انتخابی مہم پر لٹائیگا، وہ منتخب ہونے کے بعد اختیار و اقتدار کے ایوانوں میں آکر پاکستان کو اپنے لئے بدلے گا یا عوام الناس کیلئے؟ اس فرسودہ نظام میں چاہے کہیں سے بھی لگایا جائے، تبدیلی کا نعرہ محض ایک سراب ہے، دھوکہ ہے اور زندہ درگور عوام الناس کیلئے سوہانِ روح بننے والی مزید اذیت کا اہتمام ہے۔ ان زندہ درگور اور مفلس و قلاش عوام کو نوید ہو کہ اگلے انتخابات بھی اسی فرسودہ انتخابی نظام کے ماتحت منعقد کرانے کیلئے مفاداتی طبقات نے حکومت اور اپوزیشن والی نوراکشتی کے مظاہرے کرتے ہوئے پورا پورا بندوبست کرلیا ہے کیونکہ الیکشن کمشن کی جانب سے مرتب کئے گئے انتخابی اصلاحات کے بل کو قانون کے قالب میں ڈھالنے کی نوبت ہی نہیں آنے دی گئی۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں یہ بل موجود ضرور ہے مگر اسمبلی کی میعاد پوری ہوجائیگی اور یہ بل ”لیپس“ ہو کر غیرموثر قرار پائیگا۔ ڈھگے عوام نے تو بس لفاظی کی تہوں میں لپٹے پارٹی منشوروں کے دل خوش کن اعلانات سے ہی اپنی وقتی خوشیوں کا اہتمام کرنا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اسکی سبیل میں پہل کی ہے تو عدم کی زبان میں ”سٹیٹس کو“ والوں کو ”دل والوں“ سے محتاط رہنے کی یہی اپیل کی جاسکتی ہے کہ

دلِ عشاق کی خبر لینا
پھول کِھلتے ہیں ان مہینوں میں
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com