ذرا جذبات سے ہٹ کر، سوچئے
Feb 24, 2013

بلوچستان کی ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے پے بہ پے سانحات پر بے شک ہمارے دل و جگر پھٹ رہے ہیں۔ ان سانحات کو فرقہ واریت کے رنگ میں اچھالا جاتا ہے تو دلِ نا مہرباں میں مزید ٹیسیں اٹھتی ہیں، پتہ نہیں۔ زخموں پر پھاہے رکھنے کے عمل میں تاثیر نہیں رہی یا منافقتوں میں ڈوبے ہمارے اعمال بارگاہِ ربِ ایزدی میں ہماری دعاﺅں کی قبولیت کی نوبت نہیں لا رہے۔ بے چارگی سی بے چارگی ہے اور کیفیت ایسی آن پڑی ہے کہخوف کے یوں بیج ہم بونے لگےکوئی دستک دے تو گھر رونے لگےخدا کے لئے سوچئے کہ ہم پر یہ نوبت لانے والوں کا ایجنڈہ کیا ہے۔ میں تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس بیان پر ہی ٹھٹھک گیا تھا کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں رہیں۔ خدا کی پناہ، کیسے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ فرقہ واریت کی بنیاد پر فروعی اختلافات بھی یقیناً بطور امت ہماری صفوں میں دراڑیں پیدا کرتے کرتے ہمارے انتشار کی نوبت لا رہے ہیں مگر یہ کیا کہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والی ہماری ملت کے ایک طبقے کو امتِ مسلمہ سے کاٹ کر اقلیت کے کھاتے میں ڈال دیا جائے، یہی ایجنڈا تو اس ملکِ خداداد کو اس کے اسلامی تشخص سے ہٹا کر تقسیم کرنے کا ہے تاکہ اسلام کے اس قلعہ کو توڑا جا سکے۔ ذرا دیکھئے جناب، یہ گھناﺅنی سازش پروان کیسے چڑھائی جا رہی ہے۔ یو این سیکرٹری جنرل نے دانہ پھینکا اور آسٹریلیا نے اڑھائی ہزار ہزارہ فیملیز کو اپنے ملک میں اسی مجہول پراپیگنڈہ کی بنیاد پر پناہ دینے کی پیشکش کر دی کہ پاکستان میں اس ”اقلیت“ کا جینا محال ہو چکا ہے۔ اس گھناﺅنی سازش سے تو ہمارے بدبخت فرقہ پرست عناصر کو بھی پناہ مانگنی چاہئے کہ ان کی نادانیوں سے ملک و ملت کو ہونے والا خسارہ کس انتہا تک جاتا نظر آ رہا ہے۔ کوئٹہ میں گذشتہ اور رواں ماہ کے دوران ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی پر بلاشبہ ہر آنکھ اشکبار ہے مگر یہی وقت ہے ملک کی سالمیت کو منتشر کرنے اور ملت کو توڑنے کی سازشوں پر کڑی نگاہ رکھنے اور ان کا بروقت توڑ کرنے کا۔ ورنہ دشمن ہمیں بڑی کامیابی کے ساتھ اندھی کھائیوں کی جانب دھکیلے چلا جا رہا ہے۔ ان اندھیروں کی جانب بگٹٹ دوڑنے والی قاتل ایکسر سائز کے دوران ذرا ٹھنڈے دل کے ساتھ حکمران پیپلز پارٹی کے سینئر پارلیمنٹیرین رضا ربانی کی فکرمندی میں ڈوبی آواز کی جانب بھی کان دھر لیں، کیونکہ محض جذبات کے بہاﺅ میں بہتے رہے تو ہمیں توڑنے کی شعوری کوششوں میں شریک عناصر ہماری جیتی جاگتی آنکھوں کے سامنے اپنے مقاصد کی ہی سے تکمیل کراتے جائیں گے اور ہم مٹی کے مادھو بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے رہیں گے۔ اگر سینیٹر رضا ربانی ہزارہ برادری کے ساتھ دہشت گردی کو گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے کی مخالف بیرونی قوتوں کی سازش سے تعبیر کر رہے ہیں تو یہ ان کا محض وجدان نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں کہ ادھر پاکستان اور چین کے مابین گوادر پورٹ کا معاہدہ ہوا اور ادھر ہزارہ برادری پر قیامت توڑ دی گئی جبکہ ہزار برادری محض اس لئے نشانہ بنی کہ ایسی دہشت گردی کو آسانی کے ساتھ فرقہ واریت کا رنگ دے کر اصل سازش کی جانب کسی کی توجہ مبذول ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ اگر یہ گھناﺅنی واردات فرقہ واریت کا بھی شاخسانہ ہے تو بھی ایسی وارداتوں میں ملوث عناصر کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ پھر کیا یہ ہماری ایجنسیوں کے لئے لمحہ فکریہ نہیں کہ وہ کسی دہشت گردی کے اصل حقائق کا کھوج ہی نہیں لگا پاتیں، ذرا حالات کا جائزہ تو لے لیجئے کہ ہمارے ترقی اور خوشحالی کے معاملات پر کس کس کو تکلیف ہے۔ گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے پر بھارت کی پیشانی شکن آلود ہوئی اور اس کی احتجاجی چیخیں اقوامِ متحدہ تک جا پہنچیں تو ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا طے پانے والا معاملہ امریکہ کے تن بدن میں آگ لگنے کا موجب بنا جبکہ یہ دونوں ممالک ہماری سالمیت کو تہس نہس کرنے کے ایجنڈے پر ویسے ہی باہم متفق ہیں۔ بہت اچھا کیا اسلام آباد والوں نے کہ کسی امریکی دھمکی پر کان نہیں دھرے اور کسی بھارتی گیدڑ بھبکی سے مرعوب نہیں ہوئے۔ چین کے ساتھ بھی ملک کے مفاد کی خاطر معاملہ طے کر لیا اور ایران کے ساتھ کیا گیا عہد بھی نبھا لیا۔ مگر کیا اب نظر رکھنے کی ضرورت نہیں کہ دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں والے ہی تو کوئی گل نہیں کھلا رہے۔ نیت کیا ہو سکتی ہے۔ یہی کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں گھناﺅنی دہشت گردی اور اس کے ردعمل میں بپھرے ہوئے عوامی جذبات کی بنیاد پر گوادر پورٹ لینے والوں اور گیس پائپ لائن بچھانے والوں کو خوفزدہ کر کے یہاں سے بھگانے کی کوشش کی جائے۔ اور جیسے بھی ہو، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے یہ دونوں منصوبے مکمل نہ ہونے دئیے جائیں۔ خدارا، ان دونوں منصوبوں کے دوررس اثرات کو مدنظر رکھ کر ذرا جذبات سے باہر آئیے اور ایک ہی سمت دوڑتے چلے جانے کے بجائے دوسری سمت کے حقائق پر بھی نگاہ ڈال لیجئے۔ اگر ہمارے دشمنوں کا ایجنڈہ ہی ہمیں پارہ پارہ کر کے نیست و نابود کرنے کا ہے تو ہمیں اس ایجنڈے کو ناکام بنانا ہے نہ کہ ہم فروعی اختلافات کو ہوا دے کر ایک دوسرے کے گلے کاٹتے دشمن ہی کے ایجنڈے کی تکمیل پر جُتے رہیں۔ ہمیں خدا نے عقل دی ہے تو اس پر جذبات کو حاوی کر کے اس کے تحقیق و تجسس والے عنصر کو زنگ نہ لگائیں۔ آپ کا تجسس بیدار ہو گا تو کسی بدطینت کو ہمارے قومی وجود کے خلاف اپنی گھناﺅنی سازشیں پروان چڑھانے کا بھی موقع نہیں مل پائے گا، چہ جائیکہ وہ ان سازشوں کی تکمیل تک پہنچے۔ سویہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصہ¿ محشر میں ہےپیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com