”زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے“
Feb 18, 2013

یہ حکمتِ عملی تو سارا میٹھا ہَپ اور گھﺅ گھپ والی نظر آتی ہے۔ شرجیل میمن بھی جھوٹ موٹ کی تنقید فرماتے نظر آ رہے تھے کہ انہیں چار سال گیارہ ماہ کی اقتداری شراکت داری کے بعد اپوزیشن میں بیٹھنے کی سوچ کیوں آئی ہے اور ڈاکٹر فاروق ستار کے اس اظہارِ عزم کے تو صدقے واری جانے کو جی چاہتا ہے کہ اب تڑک سے ٹوٹنے والی عارضی نہیں ہے، مستقل ٹوٹی ہے۔ اب ہم پیپلز پارٹی کے حکومتی گناہوں کا بوجھ اٹھا کر عوام کے پاس نہیں جائیں گے۔ ایک منچلے صحافی نے سوال اچھال دیا کہ آپ کے گورنر صاحب تو ابھی گورنر ہاﺅس میں ہی بیٹھے ہیں۔ وہ آپ کے ساتھ اپوزیشن کی صفوں میں کب آئیں گے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک لمحہ توقف کیا پھر اپنے وجدان کی بنیاد پر یہ جواب دے کر پریس کانفرنس ختم کر دی کہ ان کے بارے میں متحدہ رابطہ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی، اس سے آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ بھئی اب موجودہ حکمرانی کے صرف تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ اب ان تین ہفتوں کے لئے دوبارہ اقتدار میں دم چھلا بننے کی کیا ضرورت ہے سو ڈاکٹر فاروق ستار کا اب حکومت میں واپس نہ جانے کا دعویٰ تو جھٹلایا نہیں جا سکے گا کہ یہ دعویٰ کیا ہی عین اس وقت گیا ہے جب موجودگان کے اقتدار کی بساط ویسے ہی لپٹنے والی ہے۔ مگر ذرا سوچئے کہ اس جھوٹ موٹ کی اپوزیشن کے پیچھے پھر کوئی حکومتی اتحادی حکمت و تدبر تو کار فرما نہیں؟ پیپلز پارٹی کے راندہ¿ درگاہ ڈاکٹر بابر اعوان گذشتہ رت ایک ٹی وی چینل پر اسی ”حکمت و تدبر“ کی گرہیں کھولتے نظر آ رہے تھے۔ 20ویں آئینی ترمیم کی پرتیں کھول رہے تھے اور بھولپن میں ایم کیو ایم متحدہ کے اپوزیشن میں جانے کی حکومتی اتحادی حکمت عملی کو بھی بے نقاب کئے جا رہے تھے۔ ان کے بقول 20ویں آئینی ترمیم خالصتاً نگران سیٹ اپ کی تشکیل سے متعلق ہے جس کے لئے حکومت اور اپوزیشن نے باہم متفق ہو کر یہ طے کیا ہے کہ نگران وزیراعظم اور وزراءاعلیٰ کا تقرر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈران کے متفقہ طور پر پیش کئے گئے ناموں میں سے ہی عمل میں آئے گا۔ یہ معاملہ اتفاق رائے سے طے ہو پاتا ہے یا نہیں۔ ابھی بہت سے مقامات سود و زیاں آنے ہیں مگر اس آئینی پابندی کا پہلا امتحان سندھ اسمبلی میں ہی ہونا ہے جہاں گذشتہ پانچ سال سے باہمی گِٹ مِٹ کے نتیجہ میں اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہی عمل میں نہیں آ پایا تھا۔ جبکہ نگران وزیراعلیٰ پر اتفاق کے لئے صوبائی اسمبلی میں بھی اپوزیشن لیڈر کی موجودگی لازمی آئینی تقاضہ ہے بصورت دیگر 20ویں آئینی ترمیم لاگو ہی نہیں ہو پائے گی۔
ایسا امتحان بلوچستان اسمبلی میں اور نوعیت کا ہونا ہے کہ وہاں اپوزیشن لیڈر تو کجا اب قائد ایوان بھی موجود نہیں۔ یہ گتھی سلجھانے کے لئے بھی یقیناً حکومتی اتحادی کھُسر پھُسر چل رہی ہو گی مگر سندھ اسمبلی میں 20ویں آئینی ترمیم کی عملداری کی خاطر حکومتی اتحادی گِٹ مِٹ ایم کیو ایم متحدہ کو اپوزیشن بنچوں پر بٹھانے پر منتج ہو چکی ہے تاکہ متحدہ کے اپوزیشن لیڈر کے ساتھ حکومتی اتحادی سہولت ہی کی طرح نگران وزیراعلیٰ کے لئے بھی باہمی اتفاقِ رائے کے جلوے دکھائے جا سکیں۔ ایم کیو ایم کے تمام وفاقی اور صوبائی وزراءاب اپنی وزارتوں سے مستعفی ہو کر اپوزیشن بنچوں پر آ چکے ہیں۔ چنانچہ سندھ اسمبلی میں ایک دو روز تک ایم کیو ایم میں سے اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہو جائے گا تو ساتھ ہی قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے مابین نگران وزیراعلیٰ کے لئے مشاورت کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ پھر دونوں کا نامزد کردہ وزیراعلیٰ چیئرمین نیب فصیح بخاری کی طرح اپنے ”خالقوں“ کے مفادات کی دیکھ بھال نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔ اس لئے متحدہ کی اپوزیشن والی بڑھکیں اور پیپلز پارٹی کے اسے چار سال گیارہ ماہ بعد اپوزیشن میں جانے کے طعنے سب نورا کشتی ہے جناب والا! اس میں عوام دونوں کی جانب سے ”دھیں بھڑاس“ کے نظارے کرتے ہوئے کسی کے لئے ہمدردی اور کسی کے لئے نفرت کے جذبات اپنے دلوں میں ابھارتے رہیں گے جبکہ اس ”دھیں بھڑاس“ میں ایک دوسر کے ساتھ گھُسن مُکی ہونے، اور ایک دوسرے کے گریبانوں تک پہنچنے والا کوئی فریق پھٹڑ نہیں ہو گا۔ دونوں کے چہرے اور بدن مبارک تر و تازہ رہیں گے اور اگلے اقتدار کی شرینیوں کی منصوبہ بندی کرتے نظر آئیں گے۔ اس لئے اصل آزمائش تو آج بھی اپنے مستقبل کے لئے بھٹکنے والے عوام کی ہی ہونی ہے جو ان دنوں انقلابی چکر بازوں کے چکمے میں آئے ان کے درمیان اس تصور کے تحت رولنگ سٹون بنے ہوئے ہیں کہ

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

نکھد عوام نہ جانے کب تک راہبر کی تلاش میں راہروﺅں میں گھُسے راہزنوں سے چکمے کھاتے اپنے مستقبل کے سہانے سپنوں کی ان کے ہاتھوں بھَد اڑواتے رہیں گے۔ وہ جانتے بھی ہیں اور بخوبی سمجھتے بھی ہیں کہ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا، پھر بھی وہ انہی کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں اور مارنے والے کے لئے یہ ہمدردی بھی رکھتے ہیں کہ

ویسے تو تمہی نے مجھے برباد کیا ہے
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا

راز و نیاز کے ایسے معاملات میں بھلا سود و زیاں کی کسے پرواہ ہوتی ہے سو کل کو ”راہبر“ کی تلاش کے لئے سرگرداں عوام کو میثاق جمہوریت کی تجدید کرتے جناب آصف زرداری اور میاں نوازشریف بھی ایک دوسرے کے ساتھ شراکتی اقتدار کی منصوبہ بندی کرتے نظر آئے تو یہ بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہو گی۔ سو

اس عہدِ خرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com