صحافتی آزادی میں ”قوتِ خرید“ کے جلوے
Feb 11, 2013

کہتے ہیں کہ صدر مملکت آصف علی زرداری قلعہ¿ لاہور فتح کرنے کے لئے اسلام آباد کے بنکر سے نکل کر لاہور کے بنکر میں آ براجمان ہوئے ہیں۔ ایک نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی میں کم و بیش ایک سو کنال پر مشتمل بلاول ہاﺅس اس سکیم کے مالک ملک ریاض کا عطیہ کردہ ہے جس کی صرف زمین کی مالیت دو ارب روپے کی بتائی جاتی ہے جبکہ انواع و اقسام کی سہولتوں بشمول ائرپیڈ پر مشتمل اس عظیم الشان محل کی تعمیر پر بھی خدا دعویداروں کو جھوٹ نہ بلوائے، تقریباً تین ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔ کیا اتنا بھاری اور وزنی تحفہ محض دوستی نبھانے کے لئے دیا گیا ہو گا یا صدر کے منصب کو دان کر کے اس تحفے کا حکومتی مراعات کی صورت میں چار گنا زیادہ فائدہ حاصل کرنا مقصود ہو گا۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس مملکت خداداد پاکستان کی دوسری امیر ترین شخصیت کے لئے، جن کے اب سوئس بنکوں میں محفوظ اثاثے مزید محفوظ ہو گئے ہیں۔ مالِ مفت کے طور پر اتنا بھاری تحفہ قبول کرنا، محض تقاضائے دوستی نبھانے کے زمرے میں آتا ہے یا کرپشن کلچر کو کھلے عام فروغ دینے کی دلیل ہے؟ مجھے فی الحال اس افتاد پر تشویش ہے جو صدر مملکت کے اس بنکر نما محل میں قدم رنجہ فرماتے ہی میری میڈیا برادری پر توڑتے ہوئے آزادی¿ صحافت کے حسین تصور کی درگت بنائی گئی اور ساتھ ہی شرف انسانیت کے ہر تقاضے کو بھی کان مروڑتے ہوئے نکال باہر پھینکا گیا اور اس سے بڑی اذیت یہ کہ اس دلخراش واقعہ کو میڈیا پر دبانے کے کامیاب اہتمام کی بھی سرخروئی حاصل کر لی گئی۔ جمعتہ المبارک کی شام ٹی وی چینلوں پر اس دلخراش منظر کو دیکھتے ہوئے مجھے آزادی¿ صحافت کی بھَد اُڑائی جاتی نظر آئی تو میرا گمان تھا کہ قلم و کیمرہ کی اس بے توقیری اور انسانیت کی تذلیل پر اب ریاستی دہشت گردی کے ایسے عملی نمونے پیش کرنے والوں کے پاﺅں کے نیچے سے اقتدار کا قالین سرکتے دیر نہیں لگے گی اور ایسا طوفان اٹھے گا جو بنکروں کے مکینوں سمیت تمام متعلقین کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گا۔ مگر پھر یکایک تمام ٹی وی چینلوں، ماسوائے وقت نیوز، کی سکرینیں انسانیت کی تذلیل والے ان اندوہناک مناظر کے معاملہ میں اندھی ہو گئیں اگلے روز سارے اخبارات کھنگالے۔ سوائے نوائے وقت، دی نیشن اور دو دوسرے اخبارات کے، کثیرالاشاعت ہونے کے دعویدار سمیت کسی بھی اخبار کے کسی کونے کھدرے میں بھی لاہوری بلاول ہاﺅس کے باہر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ کئے گئے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کی قارئین کو اطلاع دینے والی دو لفظی خبر تک نظر نہ آئی۔ صدر زرداری کی سرگرمیوں پر مبنی ہر خبر کا مطالعہ کیا۔ کئی کالم اور مضامین بھی پڑھ ڈالے مگر مجال ہے کہیں اس دیدہ دلیری کی خبر کے ایک دو لفظ ہی پڑھنے کو ملے ہوں۔ کثیرالاشاعت ہونے کے دعویدار اخبار کی صدر کی سرگرمیوں کو ہائی لائیٹ کرنے والی جھلکیوں کے صفحہ 18 پر دئیے گئے بقیہ کی آخری تین سطور میں یہ ”آئٹم“ بطور جھلکی موجود تھا کہ وہاں موجود صحافیوں نے سکیورٹی گارڈز کے خراب رویے کی شکایت کی۔ ارے توبہ سچ کو دبانے اور حقائق کو چھپانے کا یہ انداز، ایک شعر بے ساختہ زبان پر آ گیا کہاس شہر میں ہر شخص کا ایمان بِکا ہےقیمت مجھے معلوم ہے، تم نام بتاﺅمیرے ایک کالم نگار دوست آزادی¿ صحافت اور صحافی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنے کارناموں کا ڈھنڈورا پیٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ میرا گمان تھا کہ انہوں نے ضرور اپنے کالم میں صحافی برادری کے لئے آواز اٹھانے کا حق ادا کیا ہو گا۔ ان کا کالم پڑھا تو مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرا۔ ان کے کالم میں لاہوری بلاول ہاﺅس کے حدود اربع، شان و شوکت اور دوسرے لوازمات کا تذکرہ تو ضرور موجود تھا مگر اس میں صدر مملکت کے قدم رنجہ فرماتے ہی وہاں موجود میڈیا والوں پر توڑی گئی قیامت کا تذکرہ سرے سے ندارد۔ اب اپنے آج کے کالم میں شائد انہوں نے اس واقعہ کا تذکرہ کر کے کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے مگر اس میں بھی ڈنڈی یوں ماری کہ صحافی برادری کو ہی ایسے مقامات پر آگے بڑھ کر پھرتیاں نہ دکھانے کا لیکچر پلا دیا۔ جیسے متذکرہ واقعہ میں اپنی کمبختی کو انہوں نے خود دعوت دی ہو، مجھے مزید حیرت یہ ہوئی کہ جو صحافتی تنظیمیں کسی ”مینڈک“ کے چھینکنے پر بھی آزادی صحافت کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے بینر اٹھا کر سڑکوں پر کھڑی نظر آتی ہیں، ان کے لیڈران میں سے کسی ایک کو بھی لاہوری بلاول ہاﺅس والے واقعہ پر مذمتی بیان تک جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اور تو اور، حکومت کی مخالفت میں بات بے بات بیان دینے کے شوقین سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کی دعوے اور این جی اوز کو بھی انسانی حقوق کی اس بدترین خلاف ورزی کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ زبانیں گنگ ہیں، قلم تھمے ہوئے ہیں۔ نہ کسی کی لیڈرانہ شعبدہ بازی نے انگڑائی لی اور نہ ہی جرم بے گناہی کی سزا میں سکیورٹی گارڈز کے آہنی راڈوں سے پھٹڑ ہونے اور کینن واٹر کی بوچھاڑوں کی زد میں آ کر سر بازار رسوا ہونے والے صحافیوں، کیمرہ مینوں کے ساتھ رسماً ہی سہی، یکجہتی کا اظہار کرنے کی کسی کو توفیق ہوئی، ارے ایسا تو جرنیلی آمر مشرف کو بھی میڈیا پر قدغنیں لگاتے ہوئے میڈیا پر ہی اپنے ان نخوتی اقدامات کو بلیک آﺅٹ کرانے کے اہتمام کا نہیں سوجھا تھا، اگر ملک ریاض جیسا ان کا بھی کوئی دوست ہوتا تو آزادی¿ صحافت کے زور پر ہونے والی ان کی رسوائی کو روک لیتا۔ اب انہوں نے ملک واپس آ کر کبھی اقتداری سیاست کا ارادہ باندھنا ہے تو انہیں ایوانِ صدر والے اپنے جانشین کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرنے چاہئیں۔ سب کچھ ان کے لئے جیب کی گھڑی کی طرح ”مینیج“ ہو جائے گا۔ کہتے ہیں کہ صدر مملکت کی لاہوری بلاول ہاﺅس والی سرگرمیوں کی میڈیا تشہیر رکوانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ لاہور ہائیکورٹ میں ان کے دو عہدوں کے خلاف دائر کیس پہلے ہی ان کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ مگر کیا ایسے ”قوتِ خرید“ کا تاثر دینے والے اقدامات کے ذریعے ان کی سیاسی سرگرمیوں کو انصاف کی عملداری سے اوجھل کیا جا سکتا ہے۔ اصل قانونی اور آئینی نکتہ تو ان کے سیاسی کردار کا ہے۔ اگر یہ کردار ایوان صدر اسلام آباد کے بجائے بلاول ہاﺅس کراچی یا لاہور میں سرانجام دیا جا رہا ہے تو بھی صدر کے منصب کے منافی ہونے کے ناطے غیر آئینی ہے۔ جبکہ اس کردار کی ادائیگی کے لئے لاہور میں ڈیرے جما کر میڈیا والوں ہی نہیں، اہل لاہور اور متعلقہ علاقے کے گرد و نواح تک کے مکینوں کا بھی جینا دوبھر کیا جا رہا ہے تو اس سے پہلے ہی زود رنج بنے عوام کے لئے محبت کے چشمے تھوڑے ابلنا شروع ہو جائیں گے۔ ابھی تو ایک اخباری خبر کے مطابق بلاول ہاﺅس لاہور جانے والے تمام راستوں پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ متعلقہ رہائشی سکیم کے علاوہ اردگرد کی آبادیوں کے مکین بھی عملاً گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ جنابِ صدر محترم کی بلاول ہاﺅس میں موجودگی کے دوران ان کی سکیورٹی کے لئے چاروں جانب تین کلومیٹر تک سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جبکہ اس پورے علاقے کی روزانہ سراغ رساں کتوں کی مدد سے تلاشی لی جاتی ہے۔ کسی بھی مکین کو اپنے گھر کی چھت پر نہیں چڑھنے دیا جاتا۔ اپنے ہی گھر آنے والے ہر مکین کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔ اس کا شناختی کارڈ جبراً حاصل کر لیا جاتا ہے اور ہر وہ ہتھکنڈہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے انسانیت کی تذلیل کو چار چاند لگائے جا سکتے ہوں۔ ذرا لاہور بلاول ہاﺅس کی سکیورٹی کا نقشہ ملاحظہ فرمائیے۔ روزانہ تین شفٹوں میں چار سو کے قریب کانسٹیبل، 54 اے ایس آئی، 36 انسپکٹر، 6 ایس ایچ او، تین ڈی ایس پی، تین ایس پی، 24 ٹریفک وارڈن اور 50 کے قریب رینجرز اور فوج کے جوان سرکار کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ہماری اطلاع کے مطابق سرکار نے کم و بیش ایک ماہ تک یہاں قدم رنجہ فرمائے رکھنے ہیں۔ روزانہ پروٹوکول کے ساتھ ان سے ملاقات کے لئے آنے والے وفاقی وزرائ، گورنرز، روزانہ نہیں تو ہر دوسرے تیسرے روز وزیراعظم اور اعلیٰ سرکاری حکام، نوگو ایریا بنائے گئے اس علاقہ کے مکینوں کے لئے روزانہ قیامت توڑنے کا باعث بن گئے تو آپ یہاں بیٹھے تخت لاہور کو فتح کرنے کی تدبیریں ڈھونڈتے رہیں، عوام کو بھی اپنی مسلسل تذلیل کا بدلہ چکانے کا ڈھنگ آنے لگا ہے۔ تو جناب، ہم بھی دیکھیں گے۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com