”کتھارسس“
Feb 09, 2013

سب شش و پنج میں تھے، کڑیوں کے ساتھ کڑیاں ملانے کے جتن کررہے تھے، قیافے لگا رہے تھے مگر گتھی ایسی تھی کہ سلجھنے میں نہیں آرہی تھی۔ اس گتھی کے ساتھ آج پوری قوم الجھی ہوئی ہے، جو سیاستدان اٹھتا ہے آنیوالے انتخابات کو ملتوی کرانے یا آگے لے جانے کی کسی سازش کا الزام لگا کر اپنی سیاسی ”دوراندیشی“ کی داد سمیٹنے بیٹھ جاتا ہے مگر یہ سازش کدھر سے ہورہی ہے، کون کررہا ہے اور کس نوعیت کی سازش ہے، اس بارے میں کسی کا فہمِ سیاست دادِ تحسین کا طلبگار نظر نہیں آتا مگر قوم ایسے الزامات میں الجھتی ہی جا رہی ہے۔ ایسی ہی ذہنی الجھن گزشتہ روز لاہور فورم کے اجلاس میں نظر آئی جس میں شریک اپنی اپنی فیلڈ کے تھنک ٹینکس تمام ممکنات کا جائزہ لیکر کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ انتخابات کے امکانی التواءپر یہ قیاس آرائی بھی ہوئی کہ اگر ابھی تک کسی بھی سیاسی جماعت اور اسکے متوقع امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم کا سلسلہ شروع نہیں کیا گیا جبکہ کسی اسمبلی کی آئینی مدت کا آخری سال بالعموم انتخابات کا سال ہوتا ہے تو یہی انتخابات مقررہ وقت کے اندر نہ ہونے کی دلیل ہے۔ میاں خورشید محمود قصوری کو تو کسی نجومی نے پورے اعتماد کے ساتھ یہ بتا دیا ہوا ہے کہ انتخابات کی مہم کیلئے پیسہ اور وقت ضائع نہ کریں۔ شائد سب نجومیوں کا ایک ہی سورس ہوگا کہ سب انتخابات نہ ہونے کے معاملہ پر یکسو اور یک زبان ہیں۔ بات ”سورس“ کی ہوئی تو کسی ایسے ”سورس“ کا کھوج شروع ہوگیا جس کے پاس انتخابات کے التواءکے درپردہ سازش میں شریک کسی ”قوت“ کے بارے میں مصدقہ اطلاع ہوسکتی ہے۔ یہ کھوج اسلئے شروع ہوا کہ کوئی اپنے پروں پر پانی پڑنے ہی نہیں دے رہا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری تو ڈنکے کی چوٹ پر باور کرا رہے ہیں کہ انتخابات ملتوی ہونے دئیے جائیں گے نہ کسی کو شب خون مارنے دیا جائیگا۔ آرمی چیف جنرل کیانی کا تو ایسی کسی مہم جوئی کا موڈ ہی نظر نہیں آتا۔ باور کراتے کراتے تھک گئے ہیں کہ ان سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں اور میاں نوازشریف تو اتنے مستعد ہیں کہ جیسے ہی حکمرانوں کے ہاتھوں متعفن بنائی گئی جمہوریت کیخلاف کسی سازش کی بھنک پاتے ہیں تو ساری اپوزیشن کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کرکے ”جمہوریت“ کے گرداگرد حفاظتی حصار بنالیتے ہیں۔ یہ سارے ممکنات تو ناممکنات بنے نظر آتے ہیں، پھر بھلا انتخابات کے التواءکیلئے کس کا کس کے ساتھ گٹھ جوڑ ہوسکتا ہے؟ عدلیہ اور فوج کا؟ کہیں دور دور تک اسکا شائبہ نہیں مل رہا۔ عدلیہ اور الیکشن کمشن کا؟ طاہر القادری تو الیکشن کمشن کی تشکیل کیخلاف دادرسی کیلئے سپریم کورٹ جاپہنچے ہیں، ان دونوں اداروں کا کوئی گٹھ جوڑ ہے تو اس کیس کے فیصلے سے نظر آجائیگا۔ حکمران پیپلز پارٹی اور اسکے اقتدار میں اپنے لئے سہولت محسوس کرنیوالی بیرونی قوتوں کا؟ ڈاکٹر طاہر القادری کی انتخابی عمل شروع ہونے سے پہلے پاکستان آمد، مروجہ انتخابی نظام اور الیکشن کمشن کیخلاف انکی دھماچوکڑی اور یہ اعتماد بھرا اعلان کہ تمام امیدواروں کی دفعہ 62، 63 کے تحت مکمل سکروٹنی کے بغیر انتخابات نہیں ہونے دئیے جائیں گے، کسی درونِ پردہ گٹھ جوڑ کی پرتیں کھولتا نظر آتا ہے کہ اس خالی ”بھانڈے“ کو بھرنے کیلئے کمک پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور (ق) لیگ پر مشتمل حکومتی اتحادیوں نے ہی فراہم کی ہے۔ بس کھوج لگاتی ساری قیاس آرائیاں اس ایک نکتے پر مرکوز ہوگئیں۔ عمران خان کا ”انصاف“ بھی نہ نہ کرتے اسی گود میں آبیٹھا۔ اس ناطے ایجنسیوں کا ممکنہ عمل دخل بھی موضوع¿ بحث بن گیا۔ انتخابات کے التواءکی یقین کی حد تک فضا بنانے والے کالم نگاروں اور اینکر حضرات کا ماضی و حال کھنگالنے کا بھی موقع بن گیا اور ان حضرات کے ”یقین“ کے پس منظر کا کھوج لگاتے لگاتے یہ ممکنہ نتیجہ اخذ کر ہی لیا گیا کہ مقررہ وقت کے اندر انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے مگر سوال وہی اٹکا ہوا ہے کہ اس التواءکی سبیل کیسے نکالی جائیگی؟

میں نے اپنے ایک گزشتہ کلام میں بھی ایسے ممکنات کا تذکرہ کیا تھا۔ لاہور فورم کی نشست میں یہی ممکنات صائب نظر آئے جو الیکشن کمشن کے وضع کئے گئے انتخابی اصلاحات کے بل کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ بل عابد حسن منٹو کے کیس میں گزشتہ سال جون میں صادر کئے گئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روح کے عین مطابق وضع ہوا ہے جس میں آئین کی دفعات 62، 63 کو ہر امیدوار کی اہلیت کا پیمانہ بنانے پر زور دیا گیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ہر جیتنے والے امیدوار کیلئے ڈالے گئے ووٹوں کا کم از کم پچاس فیصد حاصل کرنے کی پابندی تجویز کی گئی ہے جبکہ ایک تجویز الیکشن کمشن نے متذکرہ بل میں اپنی جانب سے شامل کرلی ہے کہ بیلٹ پیپر میں ایک خالی خانہ رکھ کر کسی بھی امیدوار کو پسند نہ کرنیوالے ووٹر کو اپنے مافی الضمیر کے اظہار کی سہولت دی جائے۔ یہ تینوں مجوزہ شرائط جمہوریت کا گھر آباد دیکھنے والی نظر نہیں آتیں۔ سو انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں پر تابڑتوڑ حملے کرکے انہیں ناک آﺅٹ کرنے کی یہی حکمت عملی انتخابات کے التواءکی کسی نہ کسی سازش کے تانے بانے بنتی نظر آتی ہے۔ بیگم مہناز رفیع کا اصرار ہے کہ انتخابات برائے انتخابات نہیں، بلکہ معنی خیز ہونے چاہئیں تو جائزہ لے لیجئے حضور والا، انتخابات کے التواءکی سازشوں کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ہی تو کہیں ایسی سازشوں کے خالق نہیں؟ کڑیاں ملائی جا رہی ہیں اور گرہیں باندھی جا رہی ہیں تو ایک قیافہ یہ بھی سہی، ورنہ کتھارسس کا عمل کیسے مکمل ہوگا بھائی صاحب؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com