کچھ تذکرہ خدشات و ممکنات کا
Jan 31, 2013

آخر ماجرا کیا ہے۔ کہیں کوئی پتّہ بھی ہلتا ہے تو انتخابات کے ملتوی یا مو¿خر ہونے کا دھڑکا لگ جاتا ہے۔ آخر ایسا کیا ہو گیا ہے کہ مقررہ وقت کے اندر انتخابات کے لئے حکمرانوں کی ہر نوعیت کی یقین دہانیوں پر کسی کو یقین ہی نہیں آرہا۔ اور تو اور حکمران پیپلز پارٹی کے سینئر ترین اور سنجیدہ ترین سینٹر رضا ربانی نے بھی انتخابات کے دو تین سال کے لئے مو¿خر ہونے کے دھڑکے کا اظہار کر دیا اور مسلم لیگ (ن) کی تجویز کردہ نگران وزیراعظم عاصمہ جہانگیر نے بھی آج ”الیکشن ہوتے نظر نہیں آتے“ کی پیشین گوئی کر کے انتخابات کی منزل دور ہونے کا دھڑکا لگا دیا ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) سے نامزد ہونے اور حکمران پیپلز پارٹی کے اس پر متفق ہونے کے باوجود نگران وزیراعظم بنتے بنتے رہ جاتی ہیں تو اس میں ان کے مقدر ہی کا عمل دخل ہو گا۔ اگر وہ بھی اس منطقی نتیجے تک پہنچ چکی ہیں کہ انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے تو ذرا سنجیدگی کے ساتھ کیوں نہ ان ممکنات کا جائزہ لے لیا جائے جو انتخابات کی منزل سراب بننے کی کہانی سُناتے نظر آتے ہیں۔ اس میں بھلا ڈاکٹر طاہر القادری فیکٹر کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایسا کچھ ہونا ہے تو ان کے ایجنڈے کے مطابق ہی ہونا ہے۔ پہلے تو یہ کہانی چل رہی تھی کہ حکمران پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں اپنی کامیابی کے معاملہ میں مایوس ہو کر کسی چھومنتر کے ذریعے موجودہ اسمبلیوں کی میعاد میں سال بھر کی توسیع کرا لے گی تاکہ اس کے لئے لوٹ مار کے اس آخری موقع سے مزید فیض یاب ہونے کی کوئی سبیل بن سکے اور زرداری صاحب کے لئے بھی انہی اسمبلیوں سے اپنی اگلی ٹرم کے لئے صدر منتخب ہونے کی گنجائش نکل سکے مگر ”ہم خرما ہم ثواب“ والی اس حکمتِ عملی کی بیل اب منڈھے چڑھتی نظر نہیں آ رہی کیونکہ اس وقت جو یقینی تبدیلی ہونی ہے وہ موجودہ منتخب سیٹ اپ کی جگہ نگران حکومتوں کی تشکیل کی صورت میں ہی ہونی ہے اور لال حویلی والے شیخ رشید کو کہیں سے یہ یقین بھی دلایا جا چکا ہے کہ یہ تبدیلی آئندہ ماہ فروری تک ہر صورت ہو جائے گی جس میں ان کی بیان کردہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ فروری میں نگران حکومت بنے گی تو 90 دن بعد اپریل کے اچھے موسم میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہو گا، اس طرح ان کا انتخابات کے لئے التوا کا دھڑکا دوسری قسم کا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسمبلیاں مارچ میں تحلیل ہوئیں تو سمجھو کہ انتخابات ہاتھ سے نکل گئے کیونکہ مئی جون والی کڑاکے کی گرمی میں انتخابات منعقد نہیں کرائے جا سکتے۔ اس تجزیے کو حکمرانوں کے لئے بے شک شیخ رشید کی وارننگ بھی سمجھ لیا جائے وہ نگرانوں کے ہاتھوں بروقت انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں تو خود فروری میں فارغ ہو جائیں ورنہ انتخابات کو بھول جائیں۔ بہرحال انتخابات میں تاخیر یا التوا کے جو بھی ممکنات ہیں وہ نگرانوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اگر مقررہ وقت میں انتخابات ہوتے ہیں تو بھی نگرانوں کے ذریعے ہونے ہیں اور اگر نہیں ہونے یا دو تین سال بعد ہونے ہیں تو بھی اس کا جواز نگرانوں کے پاس ہی موجود ہو گا۔ اشارے تو یہی مل رہے ہیں کہ جیسے ہی موجودہ سیٹ اپ پیک اپ ہو گا انتخابات کو آگے لے جانے کی تدبیروں کی گرہیں کھلنا شروع ہو جائیں گی، ان تدبیروں کو کن ممکنات کا سہارا مل سکتا ہے، دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اس کا جائزہ لینے میں بھی کیا حرج ہے کہ ان ممکنات کے اسباب تو پیدا کئے جا چکے ہیں۔ سب سے پہلے تو موجودہ انتخابی عمل میں ایک قطعی غیر متعلقہ شخصیت ڈاکٹر طاہر القادری نے موجودہ حکمرانوں کے ذریعے انتخابی عمل کو آئین کی دفعات 62، 63 کے ساتھ بندھوا دیا ہے سو تصور کر لیتے ہیں کہ نگرانوں کی جانب سے انتخابی شیڈول کے مطابق انتخابی عمل کا آغاز کر دیا جائے گا مگر جب کاغذات نامزدگی کی وصولی کا مرحلہ طے ہو جائے گا تو ان کی سکروٹنی کی ایک ماہ کی مدت کے دوران دو تہائی امیدوار 62، 63 کی زد میں آ کر انتخابی عمل سے آﺅٹ ہو جائے گی پھر الیکشن کمشن کے پاس کیا چارہ ہو گا؟ کیا باقی ماندہ محض 25 فیصد امیدواروں کے لئے انتخابات کرائے جائیں یا پورے انتخابی عمل کا ازسرنو آغاز کیا جائے؟ یقینی بات ہے فیصلہ سارے کا سارا انتخابی عمل دوبارہ شروع کرنے کا ہی ہو گا جس کے لئے ڈاکٹر طاہر القادری کا پریشر گروپ نگرانوں کو کمک پہنچائے گا، اس مرحلے میں انتخابات کے لئے موسم کا انتخاب بھی زیر غور آئے گا، یہ محض ممکنات ہیں مگر انتخابات کے لئے اچھے موسم کا انتخاب ہو گا تو وہ اکتوبر نومبر ہی بنے گا اس طرح نگرانوں کی حکمرانی بھی آگے بڑھ جائے گی اور پھر اکتوبر نومبر کے انتخابی شیڈول کے ذریعے بھی کیسے یقین ہو سکتا ہے کہ ہر امیدوار آئین کی دفعات 62، 63 کے پیمانے پر پورا اترتا ہوا دستیاب ہو جائے گا اس مرحلے میں بھی ڈاکٹر طاہر القادری کا پریشر گروپ انتخابات کو کچھ اور آگے بڑھانے کے کام آئے گا۔ بالفرض محال اس انتخابی شیڈول میں 62، 63 کے تقاضے پورے ہو گئے اور انتخابات کے لئے پولنگ کی نوبت آ گئی تو اس مرحلہ میں ہر کامیاب امیدوار کے لئے الیکشن کمشن کی جانب سے کم از کم پچاس فیصد ووٹ لازمی حاصل کرنے کی عائد کی گئی شرط کام آئے گی آدھے سے زیادہ امیدوار اس شرط کی زد میں آئیں گے تو پھر ”رن آف“ الیکشن کے بجائے پورے کے پورے انتخابات دوبارہ کرانے کی گرہ کھلے گی، سوچا جائے گا اس شرط کو پورا کرانے کے لئے بار بار کتنے الیکشن کرائے جائیں کہ ہر الیکشن کے اخراجات اربوں میں ہوتے ہیں، سرکاری خزانہ پر بوجھ کیوں ڈالا جائے، معیشت کا بیڑہ غرق کیوں کیا جائے۔ جو عبوری سسٹم چل رہا ہے کیوں نہ اس کو چلتا رہنے دیا جائے۔ اور جناب پھر ایک ممکنہ گرہ بیلٹ پیپر میں رکھے جانے والے ایک خالی خانے کی بھی ہے جس کے لئے ووٹروں کو آپشن دیا جا رہا ہے کہ وہ بیلٹ پیپر میں درج کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تو اس خالی خانے پر ٹھپہ لگا دیں۔ تصور کیجئے، اگر یہ ٹھپے پچاس فیصد سے زیادہ بیلٹ پیپروں پر لگ گئے تو اس سے پورے کا پورا سسٹم عوام کے ہاتھوں مسترد ہو کر زمین بوس ہو جائے گا۔ اس کے بعد تو تدبیریں ہی تدبیریں ہیں۔ سسٹم کو عوام کے لئے قابل قبول بنانے کے عمل کی تکمیل کے لئے ڈھیر سارا وقت درکار ہو گا اور پھر جناب کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔ یہ ہیں وہ دھڑکے، وہ خدشات، وہ ممکنات جو بروقت انتخابات کے لئے حکمرانوں کی یقین دہانیوں کے باوجود انتخابات کے یقینی نہ ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں اور اسی بنیاد پر اب تک انتخابات کا ماحول بھی گرم نہیں ہو پایا مگر یہ محض تصورات ہیں، محض دھڑکے ہیں اور محض ممکنات ہیں۔ میں کوئی نجومی ہوں نہ ستارہ شناس۔ اس لئے میرے ان بیان کردہ خدشات اور ممکنات پر ہرگز کان نہ دھرئیے۔ حکمران بروقت انتخابات کے انعقاد میں مخلص اور سنجیدہ ہیں تو انہیں آگے لے جانے یا چھیننے کے لئے کوئی طاہر القادری فیکٹر کام نہیں آئے گا بس اخلاص شرط ہے ورنہ تکمل ضروری ہے اِدھر ہو کہ اُدھر ہو ناکردہ گناہی بھی گناہوں میں چلی آئے 
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com