بھارتی میڈیا کی دہن بگاڑ ہرزہ سرائی
Jan 29, 2013

کل اتفاقاً بھارتی ٹی وی چینل ”زی نیوز“ ٹی وی ریموٹ کی زد میں آ گیا۔ خاتون اینکر خونخوار لہجے میں اپنے ناظرین کو ٹی وی کے اگلے ”دھماکہ پروگرام“ سے آگاہ کر رہی تھی۔ ”اگلے چند لمحات میں دیکھئے۔ پاکستان کا ایک اور جھوٹ بے نقاب“۔ تجسس ہوا کہ دیکھیں۔ کون سا نیا جھوٹ گھڑ کر پاکستان کے سر تھوپا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام کیا تھا، نفرتوں کا لاوا تھا جو پاکستان کی جانب لڑھکایا جا رہا تھا۔ زہریلے ناگ کا پھن تھا جس کا رخ پاکستان کی جانب زبردستی کیا جا رہا تھا۔ پروگرام تھا کارگل کہانی کا جس میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو کے حوالے دے دے کر میاں نوازشریف اور جنرل مشرف کو کارگل معرکے میں ہزیمتیں اٹھانے کے طعنے دئیے جا رہے تھے اور اس معرکے میں کارگل محاذ پر گیڈر بھارتی فوجیوں کے دانت کھٹے ہونے کو پاکستان کے جھوٹ کے کھاتے میں ڈالا جا رہا تھا۔ پاکستان کے خلاف زمانے بھر کی نفرتوں کے اظہار کے لئے ایسے ایسے گھٹیا اور گھناﺅنے الفاظ کا چناﺅ کہ خاتون اینکر اور مبصرین کے دہن بگڑ کر بندر کی شکل اختیار کرتے نظر آئے۔ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پاکستان کو ہر معاملہ میں جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور ایک مبصر نے تو حد ہی کر دی۔ سابق وزیراعظم واجپائی کے بیان کا حوالہ دیا کہ ”دشمن تو بدلا جا سکتا ہے مگر ہمسایہ نہیں“ اور پھر عملاً ننگی گالیاں دیتے ہوئے اپنے ہمسایہ پاکستان کے لتّے لینے شروع کر دئیے۔ خاتون اینکر نے چلّا نے کے انداز میں مبصر سے استفسار کیا ”پھر بھی ہم بار بار اسی پاکستان سے مذاکرات کے لئے چل دوڑتے ہیں۔ کیوں؟“ یہ لب و لہجہ، یہ تکلم، یہ انداز تخاطب، تیل ڈالنے کے بعد ماچس کی تیلی بھی سلگائی جا رہی ہے۔ خود ہی اندازہ لگا لیں، اس پروگرام کو دیکھنے والے بھارتی باشندے تو پاکستان کے خلاف محاذ جنگ پر جانے کی تیاری پکڑتے ہی نظر آئیں گے۔ بھارتی جعلسازوں کے ایسے پروگرام 65ءاور 71ءکی جنگوں کے دوران بھارتی ریڈیو ”آکاش وانی“ پر سنے جاتے تھے جس پر ریڈیو پاکستان کی جانب سے ایک ملی نغمہ ”جھوٹ بولنی ایں جھوٹئے آکاش وانئے“ تیار کر کے چلایا گیا تو آکاش وانی کا نشہ ہرن ہوا۔ ”زی نیوز“ کے اس پروگرام کو دیکھ کر مجھے تو ایک لمحے کے لئے یوں محسوس ہوا جیسے گیڈر بھارت نے پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے اور وہ اپنی پسپا ہوتی پست حوصلہ سینا کو ایسے پروگراموں کے ذریعے ”شیر بن شیر“ کی تلقین کر رہا ہے۔ کیا بھارت کی نیت فی الواقع ایسی ہی تو نہیں بن گئی؟ یہی بھارتی ٹی وی چینل دہشت گردی کے حوالے سے بھی پاکستان پر گند اچھالتا رہا ہے اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے لانگ مارچ اور دھرنے کو تو اس چینل نے گرہیں لگا لگا کر اور باچھیں کھِلا کھِلا کر اتنی زیادہ کوریج دی جیسے ”بٹیرہ“ ہاتھ آ گیا ہو۔ گذشتہ روز کا پروگرام تو پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کی چغلی کھاتا نظر آرہا تھا۔ جنرل (ر) شاہد عزیز کے انٹرویو پر مبنی ہمارے جس ٹی وی چینل کے حالیہ پروگرام کو بطور خاص ”زی نیوز“ کے زہر میں ڈوبے پروگرام میں بار بار دکھایا جا رہا تھا، اس کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا ہے کہ کہیں بھارت کو زہر افشانی کا موقع فراہم کرنے کے لئے تو یہ انٹرویو نہیں کیا گیا؟ بالخصوص اس ماحول میں جب بھارت کی پیدا کردہ سرحدی کشیدگی انتہاءدرجے تک پہنچ چکی ہے۔ بھارتی ”سینا پتی“ اور ”پردھان منتری“ دراندازی کے حوالے سے پاکستان پر چڑھائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ پاکستان بھارت مذاکرات کا دروازہ بھی رعونت کے ساتھ چٹاک سے بند کر دیا گیا ہے۔ کنٹرول لائن پر سرحد پار سے ڈاکہ بھی ڈالا گیا ہے اور چتر چالاکی بھی کی جا رہی ہے اور اس پر ہی اکتفاءنہیں کیا گیا، مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ایٹمی جنگ کا ڈراوا دے کر پاکستان پر نیا ملبہ ڈالنے کی سازش بھی کی گئی ہے۔ اس نازک مرحلے میں کارگل کے پرانے قصے کو چھیڑ کر ہمارے کسی ٹی وی چینل کی جانب سے موذی دشمن بھارت کو ملک کی مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی کا موقع فراہم کرنا کسی بے دھیانی کا شاخسانہ ہے تو بھی یہ انتہائی خوفناک حرکت ہے۔ سنا ہے جنرل (ر) شاہد عزیز ملک کی مسلح افواج کے ماضی کے اقدامات سے متعلق بعض مزید انکشافات کیلئے بھی پر تول رہے ہیں جو انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مبنی اپنی نئی کتاب میں کئے ہیں۔ مجھے اس کتاب کی اشاعت سے پہلے پروفیسر نعیم قاسم کے پاس موجود اس کا مسودہ دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ابتدائی چند اوراق پڑھ کر ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ایسے ایسے ”ٹاپ سیکرٹ“ معاملات کو باقاعدہ کتاب کی شکل میں منظرعام پر لانے کا بھلا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد بے باکی کا اظہار اپنی جگہ مگر ملکی اور قومی مفادات کا بھی کچھ تقاضہ ہوتا ہے۔ آخر ”آفیشل سیکرٹ ایکٹ“ بھی تو کسی بلا کا نام ہے۔ کیا اسے بھی آئین کی دفعہ 6 کی طرح ناکارہ بنا دیا گیا ہے؟ بخوبی اندازہ لگا لیں کہ ان سابق ”حضرت“ کے محض ایک ٹی وی انٹرویو نے بھارتی ڈرامہ بازوں کو ہذیان بکنے کا کھلا موقع فراہم کر دیا ہے تو انکشافات پر مبنی ان کی پوری کتاب ملک کی سالمیت کے حوالے سے کیا گل کھلائے گی۔ بھائی صاحب! ایسی مہم جوئی سے پہلے ہزار بار سوچئے کہ اس سے تاک میں بیٹھے پرلے درجے کے بدقماش دشمن کو تو اس کے ”ٹھگ مشن“ کی تکمیل کا موقع فراہم نہیں کیا جا رہا؟ آپ ”زی نیوز“ پر افواج پاکستان کے خلاف ہونے والی ہرزہ سرائی کا مشاہدہ کر لیں، پھر کسی مہم جُوئی کی ٹھانیں۔ یہ ملک اب جمہوریتوں کے خلاف جرنیلی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا تو افواج پاکستان کے حوصلے پست کرنے کا باعث بننے والی کسی مہم جوئی کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا
”Mind your Language“ -  سو پلیز
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com