دیدے پھاڑ دیدہ دلیری
Jan 28, 2013

کیا خوب تماشہ لگا ہوا ہے، ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ فعال عدلیہ اور آزاد میڈیا کی موجودگی میں بھلا کسی کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیرقانونی کام کرنے کی جرا¿ت ہوسکتی ہے مگر پورے دھڑلے کے ساتھ ہر وہ کام کئے جا رہے ہیں جو آئین و قانون کو ہی بے بس بناتا نظر نہیں آتا، فعال عدلیہ اور آزاد میڈیا کی آنکھوں میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ دھول جھونکتا بھی پایا جاتا ہے۔ کراچی شاہ زیب قتل کیس کی ہی مثال لے لیجئے، اتھرے ملزم شاہ رخ جتوئی کو پہلے قانون کی پکڑ اور اب پھانسی کے پھندے سے بچانے کیلئے اندھے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کیسا کیسا اہتمام ہورہا ہے۔ ایسی غیرقانونی حرکات کو چاہے دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے رہو، جنہوں نے دھول جھونکنے کی ٹھانی ہوئی ہے، کسی خوف کی تریڑی انکی ”جبینِ نیاز“ کو تر کرنے کا چارہ ہی نہیں پا رہی۔انہوں نے تو سرعام دیدہ دلیری والی اس ننگی خونیں واردات کو اندھے قتل کی واردات بنا ہی ڈالا تھا اور یہ سب کچھ عدلیہ کی فعالیت اور میڈیا کی آزادی کی موجودگی میں ہورہا ہے۔ پولیس کے جنونی مجرم کو معصوم بنانے والے روائتی کرتب کے تماشے چل رہے تھے جس کے ماتحت ملزم شاہ رخ جتوئی کے دبئی بھاگ جانے کا تماشہ بھی سرعام ہوا۔ اگر عدلیہ کی فعالیت غضبناک نہ ہوتی اور میڈیا پر چیخ و پکار کا سلسلہ کہیں تھم جاتا تو مظلوم و غیور شاہ زیب کا خونِ ناحق بھی قیامت کے روز ہی انصاف کا طلبگار نظر آتا۔اب ذرا دیکھئے، عدلیہ کا شکجہ ملزم شاہ رخ جتوئی کو دبئی سے واپس لے آیا ہے تو اسے کس ڈھٹائی کے ساتھ ”نابالغ“ ثابت کراکے اسکا کیس دہشت گردی سے ہٹا کر ”جونائیل جسٹس“ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس اتھرے ملزم کا میڈیکل بورڈ کے ذریعے 18 سال سے کم عمر کا ثابت ہونا کیا قانون و انصاف کی شکست نہیں۔ حیرت ہے، آج کے کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی عمر کا تعین میڈیکل بورڈ سے کرایا جا رہا ہے، حالانکہ ملزم کے برتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر اسکی تاریخ پیدائش کا اندراج اسکے میٹرک کے سرٹیفکیٹ پر بھی ہوگا۔ ”نادرا“ کا ریکارڈ کھنگال لیتے تو شائد اسکے قومی شناختی کارڈ کے بننے کی بھی تصدیق ہوجاتی۔ ملزم دبئی گیا تو کسی ویزے پر ہی گیا ہوگا جس کیلئے ملزم کا پاسپورٹ بھی بن چکا ہوگا۔ کیا پاسپورٹ بغیر قومی شناختی کارڈ کے بن سکتا ہے۔ اگر ملزم کا شناختی کارڈ بھی بنا ہے اور اسکی بنیاد پر اسکا پاسپورٹ بھی جاری ہوچکا ہے جس پر ویزہ لگوا کر وہ دبئی گیا تھا تو اسکی عمر کے اتنے مصدقہ ثبوت موجود ہونے کے باوجود اسکی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دلانا سرعام قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے ہی تو مترادف ہے۔ ارے، پھر بھی کہتے ہیں کہ کسی کو بھلا فعال عدلیہ اور آزاد میڈیا کی موجودگی میں بھلا غیرقانونی کام کی جرا¿ت ہوسکتی ہے؟اور جناب، کامران فیصل کا کیس بھی دیکھئے کہ فعال عدلیہ اور آزاد میڈیا کی کھلی آنکھوں کے سامنے کس دیدہ دلیری کے ساتھ اسے خودکشی کا کیس بنانے کی دھکا شاہی کی جا رہی ہے۔ یہاں بھی اپنے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی گواہی دلوا دی گئی ہے۔ کیا ایسے میڈیکل بورڈوں کو اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ قانون ہی نہیں، حقائق کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکتے ہوئے قانون کی پکڑ کا خوف محسوس نہیں ہوتا؟ بہت سارے سوالات ہیں، تجسس و تشکیک کے ڈھیر لگے پڑے ہیں۔ فیصل کے والد کا عزم و حوصلہ انکی ضعیف العمری اور حکومتی خوف و لالچ میں بھی برقرار ہے۔ وہ فیصل کے قتل کو خودکشی تسلیم کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں۔ فیصل کی موت سے پہلے کا ماحول رینٹل پاور غبن کیس کے حوالے سے اس پر پڑنے والے خوفناک دباﺅ کی گواہیاں دیتا چلا جا رہا ہے مگر چیئرمین نیب اس خوفناک دباﺅ کے ماحول میں بھی اپنے ماتحت کی موت کو خودکشی ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ آخر وہ فیصل کی ”خودکشی“ سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں اور کس کی گلوخلاصی کرانا چاہتے ہیں۔ کیا اس کیس میں چیختے، دھاڑتے شواہد فیصل کی موت کے اصل حقائق کو خودکشی کے لبادے میں مخفی رہنے دیں گے؟ سو یہ بات طے ہے کہ چاہے جتنے بھی جتن کرلئے جائیں، فیصل کی موت کا حساب کتاب بھی فعال عدلیہ کے ذریعے میڈیا کی آزادی کی برکت سے دنیا کے سامنے کھل کر رہے گا، پھر بھی ڈھٹائی ہے کہ کہیں ٹِک ہی نہیں پا رہی، تو بھائی صاحب، ننگی لاقانونیت اور کس کو کہتے ہیں؟ارے یہی تو وہ ساری ڈھٹائیاں، من مانیاں، دیدہ دلیریاں، ہیریاں پھیریاں سرکشوں کے آئین و قانون کو رگیدنے والے عزائم کو بے نقاب کیا کرتی ہیں۔ یہ دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر خود حقائق سے چشم پوشی کیلئے اپنی آنکھوں پر پٹی چڑھائے رکھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ آخر انہیں بھی خدائی احتساب کے کڑے امتحان سے گزرنا ہے۔ تف ہے ایسے بدنصیبوں پر کہروز و شب کے میلے میںغفلتوں کے مارے لوگجانے کیوں سمجھتے ہیںہم نے جس کو دفنایابس اسی نے مرنا تھابھئی، آپکی آج کی دیدہ دلیریوں کی تو آج ہی پکڑ ہورہی ہے، آپ اسی لئے تو آزاد عدلیہ کی بحالی سے گریز کے ہتھکنڈے آزماتے رہے ہیں، اسی لئے تو آپ آج بھی عدلیہ کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ یہ صرف ہمارے مقدمات ہی کیوں کھولتی ہے اور اسی لئے تو آپکو میڈیا کی آزادی سے جھنجھلاہٹ محسوس ہوتی ہے کہ اسکی آنکھ آپکی سرکشیوں، اللوں تللوں، ہیرا پھیریوں اور بدعہدیوں، بدقماشیوں کو دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہونے ہی نہیں دیتی۔ آپ پھر بھی دیدہ دلیر ہیں، سرکش ہیں اور کرپشن و اقرباپروری کے کھاتے کھولے بیٹھے ہیں تو خدا کی پناہ! عدلیہ آپکے ہاتھوں پابجولاں ہوجاتی اور میڈیا پر تابڑتوڑ حملے کرکے آپ اسے نڈھال کرچکے ہوتے تو اس دھرتی پر مظلوموں، بے نواﺅں کا کیا حشر ہوتا۔ آج وہ حشر اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں تو ، اب آپ اپنی عاقبت کی فکر کیجئے اور روزِ حشر کا حساب اپنی جگہ، آپکی ساری دیدہ دلیریوں کاحساب کتاب تو اسی دھرتی پر ابھی ہونا ہے۔ آپکی مرضی کا کوئی چیئرمین نیب اور کوئی میڈیکل بورڈ آپکی بے گناہی کا سرٹیفکیٹ دیگا تو اپنی گردن کو بھی پھندے کی زد میں لائیگا، سو آپ کیلئے جائے پناہ صرف قانون و انصاف کی عملداری میں ہے۔ قانون و انصاف کی راہ میں کانٹے بچھاﺅ گے اور اسکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرو گے تو مظلوموں کے انگڑائی لینے کے عمل میں ہی کچلے جاﺅ گے۔ سو ڈرو اس وقت سے جب تاج اچھالے جائیں گے، جب تخت گرائے جائیں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com