اتھّل پتھّل ایجنڈہ کے فیض یافتگان
Jan 21, 2013

ویسے تو شیخ الاسلام اپنی پاکستان آمد کے ایجنڈے اور دھرنا مارچ کی تدبیروں کے بارے میں ”الٹی سیدھی“ قیاس آرائیاں کرنے، قیافے لگانے والوں پر سو بار لعنت بھیج کر انہیں راندہ¿ درگاہ کے کھاتے میں ڈال چکے ہیں اور اپنے ایجنڈے سے، جس کا بہرحال ان سے بہتر کسی کو علم نہیں ہوگا، امریکی سفیر اور افواج پاکستان کے اعلانِ لاتعلقی پر انکی ستائش و تشکر کرتے ہوئے ببانگِ دہل اعلان فرما چکے ہیں کہ انہیں صرف ذاتِ باری تعالیٰ اور اسکی مدد سے دھرنا دئیے بیٹھے عوام کی حمایت حاصل ہے تاہم آج بہت سنجیدگی کے ساتھ انکے دھرنا پروگرام کے پس پردہ محرکات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس دھرنے کے چار روز تک اقتدارکے ایوانوں کے سامنے برقرار رہنے اور پھر حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ علامہ صاحب کے ”پرمغز اور نتیجہ خیز“ مذاکرات کی بنیاد پر اسکے پرامن طور پر ختم ہونے سے حضرت شیخ الاسلام کی یہ بات تو سو فیصد درست ثابت ہوگئی کہ انہیں اپنے اتھّل پتھّل ایجنڈے کی تکمیل کیلئے اسٹیبلشمنٹ (افواج پاکستان) کی قطعاً حمائت حاصل نہیں ہے۔ اگر یہ سارا ہلہ گلا پروگرام اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے سجایا گیا ہوتا تو ڈاکٹر صاحب کے حکمران اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کی نوبت ہی نہ آتی اور پچھتاوے کے انداز میں جو دعویٰ علامہ صاحب نے اپنا دھرنا پروگرام سمیٹنے کے بعد لاہور واپسی پر پریس کانفرنس میں کیا، اسکے عین مطابق دھرنے کے شرکاءپارلیمنٹ ہاﺅس میں داخل ہو کر اور ایوان صدر و ایوان وزیراعظم کو اپنی چراگاہ بناکر ماورائے آئین اقدامات والوں کے اقدام کا جواز پیدا کرچکے ہوتے، کیونکہکچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثاراور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیںعلامہ صاحب تو جنوں کے آثار بناکر دیوانگی کی حدوں کو آن پہنچے تھے مگر اس خوش فہمی میں انکے ساتھ وہی ہوا جو میاں نوازشریف کے دور حکومت میں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان سید سجاد علی شاہ اسٹیبلشمنٹ کی بے نیازی کے نتیجہ میں بھگت چکے تھے مگر انکے اتھّل پتھّل ایجنڈے کے فیض یافتگان تو اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ پھر کیوں نہ یہ سمجھا جائے کہ سوئے دار کے بجائے ”کوئے یار“ والا فیض ہی انکے ایجنڈے کی بنیاد تھی۔ذرا جائزہ لے لیجئے، پاکستان آمد سے پہلے سے دھرنے کے انجام تک شیخ الاسلام کے ارشادات افعال و دعاوی سمیت کیا رہے ہیں۔ کیا انکے عین مطابق حق بحقدار رسید نہیں ہوا؟ اس ایجنڈے میں موجود امریکی منفعت تو امریکی سفیر کیلئے اظہار تشکر کی رسید کے ساتھ حق بحقدار رسید ہوچکی ہے۔ امریکہ کو افغانستان سے واپسی سے پہلے پہلے افغانستان میں بے گناہ مسلمانوں پر توڑی جانیوالی بربریت اور ہماری دھرتی پر برسائے جانیوالے ڈرون میزائلوں کا دہشت گردوں کی سرکوبی کے نام پر جواز تسلیم کرانے والے اچھے چال چلن کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت تھی جس کیلئے مزاحمت کار مسلمان گروپوں (بہ شکل القاعدہ و طالبان) کو امن دشمن دہشت گرد ثابت کرکے ہی نیک نامی کے ساتھ مقصد براری کی جاسکتی تھی۔ علامہ صاحب تو کینیڈا، امریکہ، برطانیہ حتیٰ کہ بھارت میں بھی اپنے قیام کے دوران اس امریکی ایجنڈے کے عین مطابق اپنا تبلیغی مشن چلاتے رہے جبکہ اب امریکہ کو افغانستان سے انخلاءکے مراحل میں پاکستان اور افغانستان کے مسلمانوں کیخلاف بربریت کے جواز کیلئے نیک نامی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت محسوس ہوئی تو علامہ شیخ الاسلام پر ہی اس کی نگاہ جمی۔ اس تناظر میں آپ حضرت علامہ کی 23 دسمبر والے جلسے کی تقریر اور دورانِ لانگ مارچ و دھرنا انکی پے بہ پے تقاریر میں متعینہ مخصوص ایشو پر توجہ مرکوز کرانے کیلئے الفاظ کے چناﺅ کا جائزہ لے لیں تو بات پلے پڑنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوگی۔اس پورے اتھّل پتھّل پروگرام میں انکی تان اس بات پر رہی ٹوٹتی کہ جو حکمران دہشت گردوں کو نکیل ڈالنے کی ان منتخب فورموں کے ذریعے موثر قانون سازی نہیں کرا پائے، انہیں حکمرانی کا کیا حق حاصل ہے۔ انہوں نے دھرنے کے پہلے روز تقریر کرتے ہوئے اپنے ایجنڈے کے نکات کو انگریزی زبان میں بیان کرنا ضروری سمجھا تو اسکا مقصد ایجنڈے کے ہدائتکاروں کو یہ یقین دلانا تھا کہ وہ اپنی ”ذمہ داریاں“ خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔ بھئی اس سے بڑی خوش اسلوبی اور کیا ہوسکتی ہے کہ دھرنا شو کی دھماچوکڑی کے اگلے ہی روز امریکہ کو اگلے دو سال کیلئے بھی پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملے پوری دیدہ دلیری کے ساتھ جاری رکھنے کا اعلان کرنے کی تقویت حاصل ہوگئی۔ اس کیلئے ”واشنگٹن پوسٹ“ کی دو روز قبل شائع کی گئی رپورٹ چیخ چیخ کر دھرنا پروگرام کی ”حق بحقدار رسید“ والی گواہی پیش کررہی ہے۔ ذرا شیخ الاسلام سے پوچھ لیجئے کہ کیا انکے اتھّل پتھّل ایجنڈے کو ذاتِ باری تعالیٰ کی حمائت بے گناہ لوگوں کو ڈرون حملوں میں مروانے کیلئے حاصل ہوئی تھی۔ شائد اس بارے میں بھی انکے کشف و گیان کی برکت سے کوئی فتویٰ انکے پاس موجود ہوگا۔اب لاحاصل معاہدے کے تحت سرکاری سرپرستی میں انکی تشہیری مہم کو بڑھاوا مل رہا ہے تو ایک تیر سے دو شکار والا انکا متعینہ ایجنڈہ بھی اپنی اسی منصوبہ بندی کی چغلی کھاتا نظر آرہا ہے۔اس خاکسار نے تو حضرت علامہ کی پاکستان آمد سے پہلے ہی انکے ارشادات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرلیا تھا کہ پاکستان میں انکے اتھّل پتھّل پروگرام کا خالص منافع امریکہ اور پھر عوام کے ہاتھوں راندہ¿ درگاہ بننے والے ہمارے وفاقی حکمرانوں کو حاصل ہوگا۔ اس وقت گمان تھا کہ علامہ صاحب کے منشور کی بنیاد پر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا جس کی بنیاد پر انتخابات کے موخر ہونے کی نوبت آئی تو اسکا فائدہ موجودہ حکمرانوں کو ہی پہنچے گا جنہیں آئندہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں آنے کی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آرہی، سو انتخابات سے گریز ہی انکا بھلا کرتا نظر آتا تھا۔ یہ منصوبہ تو انتخابات کے التواءکی کسی سازش کیخلاف تمام اپوزیشن قائدین نے ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ناکام بنا دیا اور پھر رہی سہی کسر اسٹیبلشمنٹ نے دھرنا شو سے بے نیازی اختیار کرکے پوری کردی۔ سو وفاقی حکومتی اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے کے ایجنڈہ میں ردوبدل ہوا اور ایک دوسرے کی جانب جھوٹ موٹ نشانہ کھڑے منہاجی دھرنا والوں اور حکومتی اتحادیوں کی زبانوں سے ایک دوسرے کیلئے پھول جھڑنے لگے۔ تیر ترکش میں واپس چلے گئے اور ہاتھ لمبے کرکے ایک دوسرے کو جپھیاں ڈالنے کی نوبت آگئی۔ اب انتخابات میں حکومتی اتحادیوں کے پلیٹ فارم پر ایک ماڈریٹ شعلہ بیان مقرر دستیاب ہوگا جو اپنے بنکر کنٹینر میں بیٹھا دہشت گردوں سے خود بھی محفوظ رہے گا اور دہشت گردی کے خوف سے اقتدار کے ایوانوں میں دبکے بیٹھے حکومتی اتحادی قائدین کی زندگیوں کے تحفظ کی بھی ضمانت بن جائے گا۔ بس اب ان سارے حکومتی مفاداتی اتحادیوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ ”بٹیرہ“ ہاتھ سے نکل کر کہیں پھر اپنے ملک کینیڈا اڑان نہ بھر جائے ورنہ بنا بنایا سارا کھیل بگڑ جائیگا۔ ذاتِ باری تعالیٰ کی حمائت اپنی جگہ مگر....عذہنِ رسا بھی تو آخر کوئی چیز ہے ناں
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com