ڈی چوک این آر او
Jan 19, 2013

مولانا کے لفظ سے بَیر رکھنے والے حضرت علامہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری میڈیا کے کندھوں پر سوار ہو کر کم و بیش ایک ماہ تک قوم کے حواس پر چھائے رہے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ان کے حق اور مخالفت میں ہونے والی ہر بات کمپنی کی مشہوری کا باعث بنی اور ان کی سودا کاری کو مہمیز لگاتی رہی۔ سسٹم کی تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں اُترے اور اسی سسٹم کو ہر قسم کے گند اور تمام تر قباحتوں سمیت قبول کر کے اور خود کو اس کا حصہ بناتے ہوئے اپنے پیروکار سادہ لوح انسانوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر آرام سے گھر جا بیٹھے۔ ”سٹیٹس کو“ کے رکھوالے اور ترجمان اس نظام کو ”ہَوا کے تازہ جھونکے“ نے بھی کوئی گزند نہیں پہنچائی اور یہ جھونکا پت جھڑ اور خزاں کو طول دینے کی راہ ہموار کر گیا ہے تو اب ان دانشوروں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو دور کی کوڑیاں لا کر علامہ صاحب کا بُت تراشتے ان کا ریفارمر کا امیج بناتے بڑھاتے کہیں چین ہی نہیں لے رہے تھے

 بہت شور سُنتے تھے پہلو میں دل کا
 جو چیرہ تو اک قطرہ¿ خون نکلا

 ان دانشوروں کے پاس اب کیا منطق، کیا دلیل ہو گی جن کی آنکھوں کے سامنے علامہ صاحب نے تحریک منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے شروع کی گئی تبدیلی کی تحریک کو اپنی سابقہ سیاسی جماعت پاکستان عوامی تحریک کا کریڈٹ بنا کر اسے ”سٹیٹس کو“ کی پروردہ حکمران پیپلز پارٹی کی گود میں ڈال دیا۔ اب جائیں بھاڑ میں تبدیلی اور اصلاح کے سب دعوے، تمام نعرے۔ ان سے حضرت علامہ کا کیا لینا دینا ہے۔ وہ آئین کی دفعات 62، 63 کے تحت انتخابی امیدواروں کی اہلیت اور نااہلیت کا معاملہ ان سے طے کر رہے تھے جو خود دفعہ 62 والی نااہلیت کی زد میں ہیں اور دفعہ 63 والی اہلیت کے کسی معیار اور پیمانے پر پورے ہی نہیں اُترتے۔ خود علامہ صاحب دفعہ 63 کی شق ایک اور ذیلی شق سی کے تحت پاکستان کی کسی اسمبلی یا پارلیمنٹ کا انتخاب لڑنے کے نااہل ہیں جبکہ دفعہ 62 کے تحت صالح اور دیانتدار والے پیمانے کی چھلنی بھی لانگ مارچ اعلامیہ پر دستخط کرنے والی کسی ایک بھی شخصیت کو نکال کر باہر نہیں لا پائے گی۔ یہ سارے دستخط کنندگان لُوٹوکریسی کا حصہ اور فیض یافتگان، یوٹیلٹی بلوں کے ڈیفالٹر، بجلی گیس چور، بڑے بڑے قرضے لے کر معاف کرانے والے نام نہاد اشرافئے، بدعہد، بدقماش، بدزبان، اخلاقیات سے عاری شعبدہ باز کیا آئین کی دفعات 62، 63 کے تحت عوام کی نمائندگی کے اہل ہو سکتے ہیں؟ اگر علامہ صاحب ان سارے جعلی عزت داروں کے ساتھ تحریری معاہدہ کر کے ان کی آئندہ انتخابات کی راہ بھی آسان بنا رہے ہیں تو انہی کی زبان میں قوم کو ان کے مشن کی کامیابی مبارک ہو، مبارک ہو، مبارک ہو۔

 بھئی یہ علامہ صاحب نے ان سب سسٹم کے ماتوں کے ساتھ مل جُل کر آئندہ کے معاملات چلانے کا عہد کیا ہے تو لوٹ مار کے فلسفہ کے تحت قائم اس سسٹم کو کہیں سے کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انتخابی اصلاحات اور تبدیلی کے لئے امید کی کرن تو شفاف غیر جانبدارانہ انتخابات کے لئے عہد کرنے اور اس عہد کو نبھاتے ہوئے آئندہ انتخابات کے لئے انتخابی قواعد و ضوابط اور ضابطہ¿ اخلاق مرتب کرانے والے چیف الیکشن کمشنر بزرگ فخرو بھائی کے اعلانات سے پیدا ہوئی تھی جبکہ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے بھی پاکستان ورکرز پارٹی کے عابد حسن منٹو کی درخواست پر جامع فیصلہ صادر کر کے تبدیلی پر مبنی عوامی توقعات کے مطابق انتخابی اصلاحات کی راہ ہموار کر دی تھی۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب نے عدالتِ عظمیٰ کے اسی فیصلہ کو اپنے منشور اور ایجنڈے کا حصہ بنایا، انتخابی اصلاحات کے لئے چیختے چنگھاڑتے ہوئے آئین کی متعدد دفعات کے حوالے دئیے، آسمان سر پر اٹھایا، ”سٹیٹس کو“ والے موجودہ سسٹم کے تحفظ کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے حکمرانوں ہی نہیں اپوزیشن کو بھی معطون کیا اور اپنا تشخص ایک بہت بڑے انقلابی اور مصلح کا ابھار کر روٹی روزگار اور غربت مہنگائی کے مسائل میں گھرے بے بس سادہ لوح انسانوں کو ورغلایا، ان کے جذبات سے فائدہ اٹھایا اور ان کی طاقت کا ہوّا دکھا کر ان کے جذبات کا انہی بدعہدوں کے ساتھ سودا کر لیا جو جمہوری نظام کو متعفن کر کے اس کے لئے عوامی نفرت کو ابھارنے کا باعث بنے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

میں اسی پس منظر میں علامہ صاحب کے عزائم کے حوالے سے تحفظات کا شکار تھا جس کا میں نے اپنے کالموں اور وقت نیوز کے پروگرام ”نیوز لاﺅنج“ میں اظہار بھی کیا آج علامہ صاحب میرے ان تحفظات کو تقویت پہنچانے کا باعث بنے ہیں تو اس میں کوئی اچنبھے والی بات نہیں کیونکہ میں نے علامہ صاحب کے معاملات کا 80ءکی دہائی سے جو مشاہدہ کیا ہے مجھے ان سے فریب و ریاکاری پر مبنی اسی سیاست کی توقع تھی جس کا مظاہرہ جمعرات کی شب پوری قوم نے شیخ الاسلام کی جانب سے سیاسی فریب کاروں کے ساتھ ایک دوسرے کو قبول کرنے والے ”ڈی چوک این آر او“ پر دستخط کرتے اور آئندہ کے لئے ساتھ چلنے کا عہد کرتے اپنی سزاوار آنکھوں کے ساتھ دیکھا اور ہمارے اصلی قائد حضرت علامہ اقبال کا یہ کہنا کتنا سچ ثابت ہوا ہے کہ

 امیرِ شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
 کبھی بہ حیلہ¿ مذہب، کبھی بنامِ وطن

 علامہ صاحب کی منہاج القرآن بلڈنگ میں اب عوامی تحریک کی سیاست چلے گی، شاید ان کی کنونیئر شپ میں اب پاکستان عوامی اتحاد بھی بحال ہو جائے اور علامہ صاحب کی انا کی مزید تسکین کا اہتمام ہو جائے مگر غربت، مہنگائی کے مارے بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام اب مر کے بھی چین نہیں پائیں گے تو کدھر جائیں گے

 چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اِک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

خدا خیر کرے اب تو راہبر اور راہزن میں تمیز کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے

 بیچ ہے منجھدار آسی اور ساحل دُور ہے
کیسے ہو گا اپنا بیڑہ پار، الٰہی خیر ہو
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com