انتقام بذریعہ جمہوریت اور لانگ مارچ کا تڑکا
Jan 14, 2013

آپ تصور کیجئے جب لوگوں کو یہ اطلاع فراہم کی جائیگی کہ حکمرانوں نے ہمارے راستے میں خندقیں کھود کر ان میں گولہ بارود بھر دیا ہے، اسلام آباد میں تیزاب بھرے ٹینکر کھڑے کردئیے ہیں، گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو رات کے وقت انکے گھروں میں نیند سے بیدار کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے اور ہماری ہزاروں گاڑیاں چھین لی گئی ہیں، تو میدانِ کارزار کی اس تصویر کشی کے بعد لانگ مارچ میں شریک ہونے کے تمنایوں کے رونگٹے کھڑے نہیں ہوں گے؟ کھُسر پھُسر ہوگی، ”بھئی یُدھ پڑنے والا ہے، ہمیں اوکھلی میں سر دینے کی کیا ضرورت ہے“۔ لانگ مارچ روکنے کی اس ”وحشت ناک“ منصوبہ بندی کو علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنے لانگ مارچ کی روانگی کے وقت بے نقاب کرکے درحقیقت یہ پیغام دے رہے تھے کہ جو ہمارے ساتھ چلے گا وہ اجتماعی خودکشی کی راہ اختیار کریگا۔ڈاکٹر صاحب تو کسی حیلے بہانے سے اپنے اعلان کردہ لانگ مارچ کو روک دینے کا ارادہ رکھتے تھے مگر ہمارے حکمران بھی ایسے گن کے پکے ہیں کہ لانگ مارچ کی راہ ہموار کرنے کا خود ہی اہتمام کرتے نظر آئے۔ چنانچہ سسٹم کی جن قباحتوں کو لانگ مارچ کا جواز بنایا گیا ان قباحتوں کو حکومتی ہٹ دھرمی کا تڑکا بھی ساتھ ہی ساتھ لگایا جاتا رہا تاکہ لانگ مارچ کا رنگ ”چوکھا“ آئے۔ ذرا اندازہ لگائیے، چشم تصور میں دیکھئے اور سر دھنئے کہ بری حکمرانی کے ہاتھوں جمہوریت کا مردہ خراب کرنے کا اہتمام لانگ مارچ کے اعلان کے بعد بھی ترک نہیں کیا گیا۔علامہ صاحب جمہوریت کی بھدی تصویر ابھارتے، اجاگر کرتے 10 جنوری تک اصلاح کرنے کا نہ جانے کس کو الٹی میٹم دے چکے تھے جو پورا نہ ہونے کی صورت میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا جاچکا تھا چنانچہ علامہ صاحب کو 13 جنوری کو اسلام آباد روانہ ہونا تھا کہ اسی دوران اکادمی ادبیات کو ”ادب اور جمہوریت“ کے موضوع پر گزشتہ سال نومبر کو موخر کی گئی انٹرنیشنل کانفرنس 10، 11 جنوری کو اسلام آباد میں منعقد کرنے کی سوجھ گئی، گمان گزرا، کہیں اس کانفرنس کے شرکاءکو علامہ صاحب کے لانگ مارچ کا حصہ بنانے کی نیت تو نہیں۔اسلام آباد پہنچ کر ملک بھر سے آئے شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کے دو روزہ پڑاﺅ کے انتظامات کا جائزہ لیا اور مندوبین کو بے ڈھب اور بدنام ہوٹلوں میں کسمپرسی کی تصویر بنے اپنی ناکام حسرتوں کا اظہار کرتے پایا تو یقین سا آگیا کہ یہ اہتمام درحقیقت جمہوریت پر ادب کے جوتے لگوانے کیلئے کیا گیا ہے تاکہ علامہ صاحب کا ترکِ جمہوریت کا ایجنڈہ مزید تقویت حاصل کرسکے۔ ایسے میں ہمارے محب پروفیسر نعیم قاسم ہماری کمک کو نہ پہنچتے تو اپنی رسوائیوں کا سربازار تماشہ دیکھنا ہی ہمارا مقدر ٹھہرتا۔ انہوں نے تو مجھے اور ڈاکٹر اجمل نیازی کو دو روزہ پڑاﺅ کی گھریلو سہولت فراہم کرکے اور اپنی ساری مصروفیات کی قربانی دیکر 24 گھنٹے ہمارا ساتھ نبھاتے ہوئے جمہوریت کو کوسنے دینے کیلئے اکادمی ادبیات کی ہموار کی گئی فضا کا اپنے تئیں توڑ کردیا تھا مگر منصوبہ سازوں نے انکے اس نیک ارادے کی ایسی کی تیسی کردی۔ کانفرنس کا افتتاحی سیشن سکیورٹی رسک کا جواز بناکر نیشنل لائبریری سے وزیراعظم سیکرٹریٹ منتقل کیا گیا اور پھر اس کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے شاعروں، ادیبوں کو جمہوریت کا وہ سبق سکھایا گیا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سسٹم کی اصلاح کے ایجنڈے کے ہمنوا بن جائیں۔ ان انا والے معاشرے کے منفرد انسانوں کو پہلے جامہ تلاشی کے کڑے مراحل سے گزار کر وزیراعظم سیکرٹریٹ کے مرکزی دروازے تک پہنچایا گیا اور پھر بلاامتیاز ان سب کو قطار میں کھڑا کرکے اندر جانے کے انتظار کی اذیت میں مبتلا کردیا گیا۔ خیبر پی کے والے غیور پختون قلمکاروں سے یہ تضحیک برداشت نہ ہوئی اور وہ بائیکاٹ کا نعرہ¿ مستانہ بلند کرتے ہوئے وزیراعظم سیکرٹریٹ سے رخصت ہوگئے۔ پھر کیا تھا، کھُسر پھُسر، چہ میگوئیاں بڑھتے بڑھتے احتجاجی بائیکاٹ کی نوبت لے آئیں کہ جمہوریت کے قصیدے پڑھوانے کا پروگرام ترتیب دینے والوںنے حفظِ مراتب کا بھی خیال نہیں کیا تھا، انتظار حسین بھی انتظار کی اذیت میں مبتلا تھے اور افتتاحی سیشن کے یکے از پریذیڈییم عطاءالحق قاسمی بھی انتظار کرتے پیچ و تاب کھاتے نظر آئے۔ اطلاع ملی کہ کانفرنس تو شروع بھی ہوچکی ہے اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف جمہوریت سے وابستہ اپنے دور حکمرانی کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ سوال اٹھا، وہ کن لوگوں کو خطاب کررہے ہیں، پتہ چلا کہ ادیبوں، شاعروں کی نشستوں پر بیوروکریٹس اور انکے کل پرزے براجمان ہیں۔ جو چند مندوبین دھکم پیل کرتے وزیراعظم سیکرٹریٹ کا دروازہ عبور کرنے میں کامیاب ہوئے، وہ سکیورٹی کے نام پر اپنے موبائل فونز سے محروم کردئیے گئے۔ سو منظر ایسا بنا کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ہال میں بیوروکریٹس کے سامنے جمہوریت بہترین انتقام ہے، کے حکومتی قصیدے پڑھے جاتے رہے اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کے مرکزی دروازے کے باہر حساس اور اناپرست قلمکاروں کی جانب سے جمہوریت کی گورننس کا سیاپا ہوتا رہا۔اگلے روز کے سیشن کی اختتامی تقریر میں کشور ناہید تاسف کا اظہار کرتے ہوئے باور کرا رہی تھیں کہ ہمیںایسی جمہوریت نہیں چاہئے جس میں شاعروں ادیبوں کو قطاروں میں کھڑا کرکے انکی تذلیل و تضحیک کا اہتمام کیا جائے اور ہمیں ایسی جمہوریت نہیں چاہئے جس میں کوئٹہ اور ملک کے دوسرے شہروں میں روزانہ بیسیوں کی تعداد میں لوگ دھماکوں میں قتل کئے جا رہے ہوں۔ بے شک ہمیں ایسی جمہوریت بھی نہیں چاہئے جس میں اقرباپروری کی انتہا کرتے ہوئے میٹرک فیل دوست کو اوگرا کے چیئرمین کے بلند تر منصب پر فائز کردیا جائے اور جس میں زورازوری بنائے گئے بیوروکریٹ کو اسکی ریٹائرمنٹ پر اکادمی ادبیات کے چیئرمین کا منصب سونپ دیا جائے، مگر بھائی صاحب! جمہوری حکمران ایسے کارنامے نہیں دکھائیں گے تو جمہوریت کی قباحتیں دور کرنے کے نام پر ہمارے کینیڈین علامہ صاحب کو لانگ مارچ کے فریب کے ذریعے اپنے بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کا موقع کیسے ملے گا۔ علامہ صاحب اب خوش ہوجائیں کہ انکے ایجنڈے کی تکمیل کی راہ ہموار کرنے میں جمہوریت کے رکھوالے حکمران ہی پورے خلوص کے ساتھ انکا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com