”مِس فائر؟“
Jan 07, 2013

شیخ الاسلام کی انا پرستی کے حوالے دیتے ہوئے میاں خورشید محمود قصوری مروجہ جمہوری نظام کی قباحتوں کے پیش نظر خود بھی سسٹم کی تبدیلی کے قائل نظر آ رہے تھے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا ایجنڈہ موضوعِ بحث بنا تو وہ کچھ اور کر پائیں گے یا نہیں، یہی ایک بات ان کے ”مشن“ کی کامیابی کی دلیل سمجھی جا رہی ہے کہ وہ کم و بیش گذشتہ ایک ماہ سے دنیا بھر کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر، سول سوسائٹی کے ہر فورم پر، دانشوروں کی ہر نشست میں، گلیوں، بازاروں، کھیتوں کھلیانوں، تھڑوں، تنوروں اور عام دکانوں میں ہمہ وقت جاری رہنے والی سیاسی گپ شپ، حالات حاضرہ پر رواں تبصروں، علمی ادبی نشستوں اور دیہات کے ٹھٹھرتی سردی میں اوپلوں اور سوختہ لکڑیوں کے بھڑکائے گئے مَچ کے گِردا گرد بیٹھے حقے کے کش لگاتے جانگلی پردھانوں کی رات گئے تک جاری رہنے والی فکری مجالس میں موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ وہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور کس کا ایجنڈہ لائے ہیں، اس کا نتارا تو وقت گزرنے پر ہو ہی جائے گا مگر اس وقت چاہے ان کے حق میں ہو یا مخالفت میں، تذکرہ بس انہی کا ہو رہا ہے۔ جو آئندہ کی من مانیوں کی بھی منصوبہ بندی کئے بیٹھے تھے۔ وہ بھی اب فکرمند ہیں اور جنہیں اپنے لئے آئندہ کا اقتدار پلیٹ میں پڑا ہوا نظر آ رہا تھا۔ انہیں بھی اپنے مستقبل کے حوالے سے دھڑکا لگا ہوا ہے۔ اور تو اور، انتخابی میدان میں ایک دوسرے کے خلاف کیل کانٹوں سے لیس ہو کر، آنے کی تیاریاں کرنے والے ماضی کے حلیف اور موجودہ حریف پھر ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈال کر سسٹم کی بقاءکے لئے یکسو ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سلمان عابد کا تجزیہ تھا کہ یہی ڈاکٹر طاہرالقادری کی کامیابی ہے کہ انہوں نے پانچ چھ سال تک ملک سے باہر رہنے کے باوجود واپس آتے ہی سیاست کے میدان میں اپنی نمایاں جگہ تو بنا لی ہے۔ میاں خورشید قصوری نے کسی لگی لپٹی کے بغیر تبصرہ کیا کہ بے شک انہیں موجودہ انتخابی نظام سوٹ کرتا ہے کہ ان کے حلقہ¿ انتخاب میں، ان کے، سردار آصف احمد علی کے اور مولانا لکھوی کے سوا کوئی چوتھا امیدوار کم از کم ان کی زندگی میں نہیں آ سکتا اور بے شک ہم جمہوریت کو سب سے بڑا انتقام قرار دے کر تسلسل کے ساتھ ہونے والے انتخابات کے ذریعے سسٹم میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کے داعی و متمنی ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ موجودہ انتخابی نظام 99 فیصد عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا۔ کیونکہ اس نظام سے گِنے چنے تین چار ہزار خاندان ہی مستفید ہوتے ہیں۔ اس انتخابی نظام میں مضبوط ہونے والی موروثی سیاست، جاگیردارانہ ذہنیت، وڈیرہ شاہی اور اسمبلیوں میں بیٹھے اشرافیہ طبقات کی اپنے مفادات کے لئے ایکا کرنے والی وہ قباحتیں ہیں جن کی بنیاد پر عوام الناس اس سسٹم کو مسترد کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے جمہوری نظام کی جمہور کے لئے فیوض و برکات کے معاملہ میں بھارت کا حوالہ دیا اور ہمارے مروجہ جمہوری نظام کے ساتھ اس کا موازنہ کرتے ہوئے نتیجہ نکالا کہ موجودہ قباحتوں کے ہوتے ہوئے ہمارا جمہوری نظام کبھی عوام الناس کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکتا کیونکہ یہ درحقیقت استحصالی نظام ہے۔ بھارت میں تو ایم ایل اے، ایم پیز سے لے کر گلیوں، دیہاتوں میں موجود کونسلر سطح کے نمائندگان تک کے 31 ہزار کے لگ بھگ منتخب نمائندے عوام کو گھروں کی دہلیز پر ریلیف دے رہے ہیں مگر ہمارے سسٹم میں عوام مجبور اور اقتدار کے ایوانوں میں عوام کی نمائندگی کے نام پر براجمان گنتی کے منتخب نمائندے عیش و طرب سے بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ طرز زندگی میں یہی تفاوت تو سسٹم کی تبدیلی کی بنیاد بنا کرتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے ایجنڈے کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھی میاں خورشید قصوری اپنے تجزیے میں درحقیقت ان کی تبدیلی کی سوچ کے ساتھ کُلی اتفاق کا اظہار کرتے نظر آئے۔ اور پھر ڈاکٹر طاہرالقادری کے ایجنڈے کے منظرعام پر آنے سے چھ ماہ پہلے تک کے حالات کا بھی جائزہ لے لیں، کیا مروجہ سسٹم کے خلاف ٹی وی ٹاک شوز، حالات حاضرہ کے دیگر پروگراموں اور تبصروں میں اینکر حضرات اور تجزیہ کار یہی دلائل دیتے نظر نہیں آتے تھے جو ڈاکٹر طاہرالقادری کی زبان سے آج اجاگر ہو رہے ہیں، موروثی سیاست سے وابستہ حکومتی اور اپوزیشن قائدین کے بارے میں عوام کے سال چھ ماہ پہلے بھی وہی جذبات تھے جو آج ڈاکٹر طاہرالقادری کے گردا گرد جمع عوام کی زبانوں سے اچھلتے نظر آ رہے ہیں اور پھر اس سسٹم میں موجود قباحتوں کی وجہ سے ہی پاکستان میں تیونس، مصر، لیبیا جیسی عوامی بیداری کی تحریکوں کے پبلک فورموں پر تانے بانے بنے جاتے نظر آتے تھے اور میاں شہباز شریف کو بھی سسٹم میں موجود خرابیوں کے پس منظر میں ہی خونیں انقلاب آتا دکھائی دیتا تھا۔ چنانچہ آج سسٹم کی جن تمام قباحتوں کا تذکرہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی زبانی سننے کو مل رہا ہے، عوام الناس ان سے ناآشنا ہرگز نہیں۔ اس لئے تبدیلی کی سوچ ڈاکٹر طاہرالقادری کا ایجنڈہ منظرعام پر آنے سے بھی بہت پہلے عوام کے ذہنوں میں گھر کر چکی تھی۔ اگر عوامی سوچ سے مطابقت رکھنے والی تبدیلی کا نعرہ لگا کر ڈاکٹر طاہرالقادری میدان میں اترے ہیں تو اس سوچ کے حامل تمام طبقات کو تو ان کی تحریک کے ہم آہنگ ہو جانا چاہئے تھا۔ میرا تجسس یہی ہے کہ عوام سسٹم کی جس تبدیلی کے متمنی ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری اس تبدیلی کے لئے عوامی جذبات کی عکاسی کرنے کے باوجود ان کے لئے قابل قبول کیوں نہیں ہو پائے اور دینی، سیاسی جماعتوں کی غالب اکثریت اور تبدیلی سے متعلق ان کی سوچ کے ہم آہنگ دانشور اور تجز یہ کار کیوں لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، میں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے یہی نتیجہ نکالا تھا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری دوسرا ملالہ کیس ہیں جن کا مشن تو قوم کے لئے دل لبھانے والا ہے مگر انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ ان کی ذات سے کون کیا فائدے اور مقاصد حاصل کر رہا ہے۔ وہ اپنے طور پر اپنے مشن میں نیک نیت ہوں گے مگر ان کی آڑ میں کون یہاں اتھل پتھل کرنے کے لئے شہہ لگائے بیٹھا ہے۔ اس کا انہیں شائد ادراک ہی نہیں ہے۔ اور اگر ادراک ہے تو پاکستان کی سالمیت کو اجاڑنے اور مسلمانوں کا قومی تشخص بگاڑنے کا ایجنڈہ رکھنے والوں کے مقاصد کی تکمیل کا باعث بن کر ملالہ کی طرح علامہ طاہرالقادری کو بھی راندہ¿ درگاہ ہو کر دوبارہ وہیں پناہ گزیں ہونا ہے جہاں سے وہ یہ ایجنڈہ لا کر انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے آئے ہیں۔ ان کی ذات کے حوالے سے اجاگر ہونے والے شکوک و شبہات ان کے بار بار صفائی پیش کرنے سے مزید پختہ ہو رہے ہیں تو اس سے یہی مراد ہے کہ عوام انہیں اپنا نجات دہندہ نہیں، اپنے دین و وطن کے دشمنوں کا آلہ¿ کار سمجھ رہے ہیں۔ اس لئے باوجود اس کے کہ مخالفت و موافقت میں صرف انہی کا تذکرہ زبانِ زدعام ہے، وہ متبادل قیادت کے طور پر عوام کے لئے قابلِ قبول نہیں ہو پا رہے تو ان کے ساتھ چمٹے دانشوروں اور تھنک ٹینکس کو اس کا کھوج لگانا چاہئے، کہیں بیرونِ ملک سے داغا گیا یہ فائر، مِس فائر تو نہیں ہو رہا؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com