مینڈکوں کی اچھل کود سے خوف کی تریڑیاں
Dec 31, 2012

سال ختم ہونے کو آیا، اسمبلیاں اپنی آئینی میعاد کی تکمیل تک آپہنچیں، حکمرانوں نے بھی جیسے تیسے اپنے اقتدار کو بچاتے بچاتے اسکی آئینی میعاد پوری کرنے کا کریڈٹ لینے کی فضا بنالی مگر سسٹم کی درگت بننے کی افواہیں ہیں کہ پیچھا نہیں چھوڑ رہیں، بس ایک دھڑکا سا لگا ہے ”کہیں ایسا نہ ہوجائے، کہیں ویسا نہ ہوجائے“ سپریم کورٹ کسی حکومتی کوتاہی کو پکڑ کر معاملات سیدھے کرنے کا درس دیتی ہے تو سسٹم کیخلاف کسی سازش کی چنگاریاں پھوٹتی نظر آنے لگتی ہیں اور بالاتر ایوانِ اقتدار سے چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ آرمی چیف کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات ہوجائے تو دل کو دھڑکا لگ جاتا ہے۔ بالواسطہ طعن و تشنیع سیاسی ماحول کی تپش میں جھلسانے والی حدت کا اہتمام کرتی نظر آتی ہے۔ اپوزیشن کی صفوں میں کہیں زکام لگے ماحول میں کوئی ہلکی سی چھینک آجائے تو سسٹم کے تلپٹ ہونے کے خوف کی تریڑیاں آہ و زاریوں کی نوبت لے آتی ہیں، سسٹم کے غتربود ہونے کا خوف ایسا لگا ہے کہ مینڈکوں کی اچھل کود کو بھی زلزلے سے تعبیر کرکے سسٹم کے زیروزبر ہونے کی گواہی دی جانے لگتی ہےخوف کے یوں بیج ہم بونے لگےکوئی دستک دے تو گھر رونے لگےآخر افتاد ایسی کیا آن پڑی ہے کہ سسٹم کے اپنے پاﺅں پر کھڑے رہنے کا یقین ہی نہیں بندھ رہا اور اسکے وابستگان بھی اب رسہ تڑوا کر کسی اور کھونٹے کے ساتھ بندھنے کی لو لگا بیٹھے ہیں۔ حضور والا! آپ نے اس سسٹم کے ثمرات اپنے آنگنوں میں بھرنے کے بجائے اس سسٹم کے ستون عوام تک بھی تھوڑے بہت پہنچا دئیے ہوتے، سلطانی¿ جمہور کو ایوان سلطان میں قید کرکے نہ رکھا ہوتا، جمہور کو ”اسکے بعد آئے جو عذاب آئے“ والی راہ نہ دکھائی گئی ہوتی اور اب راج کریگی خلقِ خدا کو کب راج کریگی خلقِ خدا والی ناامیدی کے جھٹکے نہ دئیے گئے ہوتے تو بھائی صاحب! سسٹم کی جانب میلی نگاہ ڈالنے یا انگشت نمائی کرنے کا کسی کو دھیان بھی آتا؟ ارے اب تو سلطانی¿ جمہور کے جذبے کے ساتھ دفنائی گئی جرنیلی آمریت بھی دوبارہ اپنے لئے سازگار ماحول کی بھنک پاکر انگڑائی لیتے ہوئے باہر سے بُلبلیاں مارتی نظر آرہی ہے۔ انتخابات سے پہلے ایک ”منڈوا“ سیاست نہیں، ریاست بچاﺅ کے ٹریڈ مارک کے ساتھ لگایا جاچکا ہے اور یہ کہہ کر بلی تھیلے سے باہر بھی نکال لی گئی ہے کہ نگران حکومت کیلئے کوئی ”کردار“ ملا تو انکار نہیں کروں گا۔ ایک میڈیا گروپ کی سودا کاری کی علت سے فائدہ اٹھا کر اپنی ذات میں نگران وزیراعظم کے محاسن بھی موتیوں کی طرح جڑے دکھائے جا رہے ہیں اور دوسرے کھونٹے کے ساتھ بندھنے کی تیاریوں میں مصروف عوامل و عناصر نے انتخابی اصلاحات سے پہلے انتخاب نہ کرانے کے طویل عبوری اقتداری فلسفہ کی ہاں میں ہاں ملا دی ہے تو”یہ خوشی بے سبب نہیں غالبکچھ تو ہے جس کی شورا شوری ہے“بھئی جس جمہوریت نے عوام کے تن سے کپڑے نوچ کر، انکی آنکھوں میں بسے مستقبل کے سہانے سپنوں کو تڑپا کر اٹھا دینے والے ڈراﺅنے خوابوں میں تبدیل کرکے، مہنگائی کے تھپیڑوں میں رگید کر، غربت، افلاس، بیروزگاری کے پاٹوں میں پیس اور نچوڑ کر اور کسی ایک پل کیلئے بھی سکھ کا سانس لینے سے محروم کرکے بے کفن قبرستان میں دھکیلنے کا اہتمام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو، ان مرگھٹی عوام کو سسٹم کی اصلاح کے نام پر ”عمر بھر رینگتے رہنے کی سزا ہے جینا“ والے تصور سے باہر نکالنے کا چکمہ دیا جائیگا تو وہ ”جَھپ“ کھا کر اپنی ڈانواں ڈول سوچوں کا رخ چکمے والوں کی جانب کیوں نہیں موڑیں گے۔ اور پھر حضور والا! عوام کی بیزاری کو بڑھاوا دیتے ہوئے آپ اپنے اللے تللوں کی اگلی منصوبہ بندی کئے بھی بیٹھے نظر آئینگے۔ عوامی ریلیف کے اقدامات کرنیوالی عدلیہ کی بھد اڑانے والی پدر و پسر حکمت عملی کے ڈنکے بجائیں گے اور ایسی ہی سرکشیوں، من مانیوں والی ”اگلی باری، پھر ہماری“ کی فضا بنتی دکھا کر بیزار بیٹھے عوام کے ساتھ اٹکھیلیاں کریں گے تو ”اب کی باری، ہماری باری“ کے تانے بانے بننے والے طالع آزماﺅں اور انکے ہمنواﺅں کی آرزوئے ناکام انگڑائی لیکر کفن پھاڑتی کلکاریاں بھرتی کیوں نظر نہیں آئیگی۔ پھر جناب، آپ اپنے دھن کے پکے ہیں تو آپکے ہاتھوں راندہ¿ درگاہ بننے والے سسٹم کو عوام کے حسب حال بنانے کا چکمہ دینے والے بھی اپنے گُن کے پکے ہیںوہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں بدلیںسبک سر بن کے پوچھیں گے کہ ہم سے سرگراں کیوں ہوآپ اپنی آئینی میعاد کی تکمیل کا کریڈٹ لیتے ہوئے اپنی اگلی سرکشیوں کا عہد کررہے ہیں تو آپ کے پیچھے لٹھ لیکر پڑنے کی تیاریاں کرنیوالے بھی ڈنڈ بیٹھکیں نکال رہے ہیں۔ آپ کیوں انکی باچھیں کِھلانے کا اپنے ہی ہاتھوں اہتمام کررہے ہیں۔ آپ تیر چھوڑیں، وہ تُکے سے کام چلایا چاہتے ہیں۔ آپ اپنے ارادوں سے گزرو، عوام انکے عزائم خود ہی خاک میں ملا دینگے۔ مگر اپنے لچھن ہی ماتھے کا جھومر بنائے رکھو گے تو پھر سب دیکھتے ہی رہ جاﺅ گے، سوچتے ہی رہ جاﺅ گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com