اصلاحات کا ایجنڈہ اور سوچ کے تضادات
Dec 28, 2012

قائد تحریک منہاج القرآن علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے کینیڈا سے لاہور آنے کے معاملات کھل رہے ہیں تو سسٹم کی تبدیلی سے متعلق انکے اصلاحاتی ایجنڈہ میں موجود تضادات بھی کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ وہ خود ہی اپنے سابقہ اعلانات سے واپس پلٹتے اور اپنے کئے ہوئے الفاظ کے دوسرے مفہوم نکالتے نظر آتے ہیں تو انکی ذات و کردار کے حوالے سے اٹھتے ہوئے سوالات کا بھی جواز بنتا جا رہا ہے۔ مینار پاکستان کے 23 دسمبر کے پبلک جلسے میں بذریعہ ٹی وی چینلز انکی تقریر سننے کے بعد میں نے اپنے گزشتہ کالم میں صرف دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے انکے خیالات کا تذکرہ کیا جبکہ انکے یہ خیالات بھی انکی سابقہ سوچ سے متضاد تھے۔ انہوں نے کینیڈا میں قیام کے دوران دہشت گردی کے تناظر میں طالبان کے جہاد کیخلاف آٹھ سو صفحات پر محیط فتویٰ دیا تو اس وقت بھی امریکہ مخالف حلقوں کی جانب سے یہ رائے ظاہر کی گئی کہ وہ ماڈریٹ اسلام کا تصور پیش کرکے دہشت گردی کے خاتمہ کی امریکی جنگ کا ایسا جواز نکالنا چاہتے ہیں کہ اس پر بیرونی جارحیت کا لیبل نہ لگ سکے۔ اب انہوں نے مینار پاکستان پر اپنی تقریر میں طالبان کو عملاً مذاکرات کی دعوت دی تو انکی اس سوچ سے بھی یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ طالبان کے ہاتھوں امریکی نیٹو فورسز کو افغانستان سے محفوظ واپسی کا راستہ دلوانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ کینیڈین شہریت رکھنے کے باعث وہ آئین پاکستان کی دفعہ 63 (1) سى کے تحت پاکستان کی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب میں خود حصہ لینے کے اہل نہیں، اسکے باوجود وہ عین انتخابی مراحل کے دوران انتخابی اصلاحات کا ایجنڈا لیکر ملک واپس آئے ہیں اور 10 جنوری تک انتخابی اصلاحات کا الٹی میٹم دے رہے ہیں تو جناب انکا اس نازک مرحلہ میں نزول بے معنی تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔ میں نے اپنے اسی تجسس کی بنیاد پر انکی ملک واپسی سے پہلے منعقد کی گئی ویڈیو کانفرنس میں ان سے استفسار کیا تھا کہ وہ سسٹم کیخلاف بیرون ملک سے کوئی چارج شیٹ لیکر تو واپس نہیں آرہے؟ محترم علامہ صاحب اس وقت سے لیکر اب تک میرے اسی تجسس کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگر ان کوششوں میں اپنی سوچ میں موجود تضادات کے مزید اجاگر ہونے کا خود ہی موقع نکالتے جا رہے ہیں۔انہوں نے ویڈیو کانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں موجودہ انتخابی نظام کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ قوم اس انتخابی نظام کے ماتحت انتخابات کا انعقاد کسی صورت قبول نہیں کریگی اسلئے ضروری ہے کہ انتخابات سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز پر مبنی عبوری حکومت کے ماتحت اصلاحات کرلی جائیں۔ جب انہوں نے عبوری حکومت کے ماتحت اصلاحات کا عمل تین چار سال میں مکمل کرنے کی بات کی تو صاف عیاں تھا کہ وہ 2013ءکے انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتے اور عدلیہ، فوج، ٹیکنوکریٹس اور دانشوروں پر مبنی کسی عبوری حکومت کے انتخابات کے بغیر تین چار سال تک قیام کی وکالت کررہے ہیں۔ اب لاہور آکر وہ اپنے اس موقف سے منحرف ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ نہ تو الیکشن ملتوی کرانے پاکستان آئے ہیں اور نہ ہی عدلیہ اور فوج کو نگران حکومت میں شامل کرنے کی انہوں نے کوئی تجویز پیش کی ہے۔ انکی ویڈیو کانفرنس والی تقریر کے اقتباسات کا انکے موجودہ خیالات کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو سوائے انکی سوچ کے تضاد کے ہمیں اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ابھی انکی 23 دسمبر کی تقریر کے میڈیا پر آنیوالے الفاظ تروتازہ ہیں مگر اپنے ان الفاظ پر بھی وہ کھڑے نظر نہیں آرہے۔ جب انہوں نے حکمرانوں کو اسلام آباد تک اپنے ممکنہ لانگ مارچ سے ڈراتے ہوئے اعلان کیا کہ 10 جنوری تک انتخابی اصلاحات کرلی جائیں ورنہ 14 جنوری کو اسلام آباد میں عوام کی پارلیمنٹ لگے گی تو انکے اس اعلان میں کسی قسم کا ابہام نہیں تھا۔ انکے لانگ مارچ کا بتایا گیا مقصد انتخابی اصلاحات ہی کا تھا۔ اب ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں وہ اپنے اس واضح اعلان سے بھی منحرف ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ان کے اس اعلانِ لانگ مارچ کا مقصد اتنی مختصر مدت کے دوران انتخابی اصلاحات نہیں بلکہ اس عرصہ کے اندر اندر تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایماندار، غیرجانبدار، پاورفل اور باصلاحیت نگران حکومت کو تشکیل دلانا ہے۔صاف ظاہر ہے، یہی اکلوتا ایجنڈہ لیکر وہ ملک واپس آئے ہیں جس کا جواز نکالنے کیلئے انہیں کئی تاویلوں کا سہارا لینا پڑا۔ یہ ”پاور فل“ نگران حکومت کیا محض انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری نبھانے کیلئے تشکیل پائیگی اور اس مقصد کیلئے 3 ماہ کے عرصہ کے متعینہ فریم ورک سے باہر نہیں نکلے گی؟ علامہ صاحب پاور فل نگران حکومت کا قیام چاہتے ہیں تو اسکے معاملات سے خود کو لاتعلق رکھنے کی خاطر تو وہ ہرگز ملک واپس نہیں آئے ہوں گے۔ جس انتخابی عمل میں اپنی دہری شہریت کے باعث وہ خود حصہ نہیں لے سکتے تو انہیں اس انتخابی عمل کو یقینی بنانے اور مقررہ آئینی معیاد کے اندر انتخابات کے انعقاد کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی انہیں کیا پڑی ہے۔ پھر وہ کس منطق کے سہارے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے یقین دلا رہے ہیں کہ وہ انتخابات ملتوی کرانے نہیں آئے۔انکی ملک واپسی کے تناظر میں انکی پبلسٹی اور 23 دسمبر کے جلسہ کی ملکی اور عالمی میڈیا پر وسیع پیمانے پر کوریج کے انتظامات پر اٹھنے والے عملاً کروڑوں کے اخراجات اس وقت سب سے زیادہ موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے 23 دسمبر کے خطاب میں مقتدر شخصیات کے احتساب کے معاملہ میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کا حوالہ دیا تو انہیں اپنی پبلسٹی مہم کیلئے بروئے کار لائے جانے والے وسائل کے سوالات اٹھنے کا بھی برا نہیں منانا چاہئے اور خندہ پیشانی کے ساتھ ان سارے سوالات کا جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے اس حوالے سے نجی ٹی وی کے پروگرام میں صفائی پیش کی ہے تو اس سے مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔ انکے بقول دنیا کے 90 ممالک میں تحریک منہاج القرآن کا نیٹ ورک موجود ہے جس میں سے 50 ممالک میں موجود انکے ایک لاکھ کے قریب ارکان ایونٹ کے نام پر تحریک منہاج القرآن کی تقاریب کا خرچہ خود اٹھاتے ہیں۔ انکے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگر انکے صرف دو ہزار ارکان فی کس ایک ہزار ڈالر یا پاﺅنڈ جمع کرائیں تو یہ رقم مجموعی طور پر 20 کروڑ ڈالر یا پاﺅنڈ بن جائیگی۔ اگر وہ یہاں تک رہتے تو مینار پاکستان کے جلسہ کی کوریج پر اٹھنے والے اخراجات کا جواز نکل آتا مگر انہوں نے یہ کہہ کر معاملہ خود ہی الجھا دیا کہ مینار پاکستان کے جلسہ پر منہاج القرن کے فنڈز سے ایک پیسہ بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ انکے بقول ایسے 100 جلسے وہ بغیر کسی مدد کے منعقد کرسکتے ہیں۔ کیا اب فطری طور پر یہ سوال نہیں اٹھے گا کہ مینار پاکستان کے جلسہ کیلئے منہاج القرآن کے بیرون ملک مقیم ارکان نے ایک دھیلہ بھی ادا نہیں کیا تو ناقدین کے بقول صرف اس جلسہ پر اٹھنے والے 13 کروڑ روپے کے اخراجات کس نے اٹھائے ہیں اور اگر ایسے 100 جلسے وہ منہاج القرآن کے فنڈز کا سہارا لئے بغیر منعقد کرسکتے ہیں تو پھر انکی آمدنی کے دوسرے ذرائع کون سے ہیں۔ پھر اس سوال کا بھی تشفی بخش جواب آنا چاہئے کہ تحریک منہاج القرآن کے بیرون ملک مقیم ارکان سے وصول ہونیوالے عطیات باضابطہ طور پر کسی بنک اکاﺅنٹ میں منتقل ہوتے ہیں یا صندوقوں اور لاکروں میں کیش کی صورت میں محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ ابھی انکے ایجنڈے کی تکمیل تک انکے کئی روپ سامنے آنے ہیں اس لئے وہ موقع پر ہی حساب کتاب رکھتے اور سامنے لاتے جائیں تو انہی کے فائدے میں ہوگا ورنہ کرپشن کلچر میں سے کسی پاک صاف نظام کو یقینی بنانے کا ایجنڈہ انکی سوچ کے تضادات میں ہی کہیں گم ہو کر رہ جائیگا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com