”زمیں زیر و زبر ہونے کو ہے؟“
Dec 21, 2012

مایا تہذیب کا باطل فلسفہ آج روبہ عمل ہوتا تو بھلا آج ہم آپ سے مخاطب ہونے کیلئے اس روئے زمین پر موجود ہوتے اور بھلا آپ بھی اس کائنات کی بدستور زینت بنے ہوتے۔ قلم تو ضرور لرز رہا تھا، سوچیں بھی گڈمڈائی ہوئی تھیں اور اس شکاری جیسی گومگو کی حالت تھی جسے شاطر لومڑی نے یہ کہہ کر لرزا دیا تھا کہ مجھ پر گولی چلائی تو قیامت آجائیگی، ”پر اَجے قیامت نہیں آئی“ مایان کیلنڈر سوا پانچ ہزار سال بعد اپنے ہونے کی ساری گنتی مکمل کرکے آج ہمیشہ کیلئے خاموش ہوچکا ہے۔ مایان باشندوں کا ذہن رسا اس سے آگے جا ہی نہیں رہا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اسی کج فہم فلسفہ کو مسلمہ قرار دے ڈالا کہ مایان کیلنڈر کی تکمیل ہوئی تو اس دنیا کی بھی تکمیل ہوگئی۔ یقیناً انہیں قیامت کے تصور کا ادراک نہیںہوگا اسلئے نادان سمجھ بیٹھے کہ کیلنڈر خاموش ہوا تو بس قیامت آگئی۔ قیامت کے اس فلسفے پر یقین باندھنے والے بعض کج فہموں نے فرانس کے دو اڑھائی دو سو نفوس پر مشتمل ایک گاﺅں کو بھی ڈھونڈ نکالا جہاں انکے گمان کے مطابق پہنچنے والا ہر ذی روح آنیوالی قیامت سے محفوظ رہے گا۔ اس گاﺅں کا رخ کرنیوالوں کے ڈھیر لگ گئے۔ ہزاروں پونڈ کی لاگت سے اس گاﺅں میں ایک کشتی بھی تیار کرلی گئی جو ان مجہولوں کی زبان میں کشتی¿ نوح قرار پائی۔ چلیں اب یہ قیامت کے مناظر دیکھنے کے متمنی سیاحوں کی عیاشی¿ طبع کے کام آئیگی۔ اور تو اور، مایا تہذیب کے آبائی مرکز وسطی امریکہ کی ریاستوں میکسیکو، گوئٹے مالا، ایلسلواڈور میں قیامت کے استقبال کی تیاریاں بھی مکمل کرلی گئیں اور سربیا کے ایک پہاڑ پر قیامت کی رات کو روشن ہوتا دیکھنے کے متمنیوں کا ہجومِ بے کراں بھی قیامت کے مناظر دیکھنے کیلئے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے کھڑا رہا۔ مغربی ترکی کے ایک گاﺅں سے بھی اطلاع آئی ہے کہ وہاں بھی ”روزِ قیامت“ کے جشن کی تیاریاں مکمل تھیں۔ روزِ قیامت آہ و بکا سے زیادہ واہ واہ کے مناظر۔ واہ واہ، ارے صاحب، واہ واہ، کیا خوب تصور باندھا ہے روزِ قیامت کا، ””پر اَجے قیامت نہیں آئی“۔روزِ قیامت کے سوا پانچ ہزار سال پرانے متروک فلسفے کو پلے باندھ کر قیامت کا تصور ایسے ہی اجاگر ہوسکتا ہے جبکہ قبل از مسیح کے دور کے بعد مسیحیت کا ورود اور پھر امام الانبیائ، رحمت العالمین حضرت نبی¿ آخر الزمان ختم نبوت کی مہر کے ساتھ خالقِ کائنات کے پیغامبر بنائے گئے تو اس سے پہلے کے سارے ارضی و سماواتی فلسفے متروک و مقہور ٹھہرے۔ اسکے باوجود یہود و نصاریٰ مایا فلسفہ کے مطابق اس سال کے ختم ہونے والے مہینے کی 21 ویں تاریخ کو نزولِ قیامت کے قائل تھے تو انکے دین و ایمان کی حقانیت کے باطل ہونے پر بھی آج مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے۔بے شک قیامت کا دن برحق ہے اور ہمارے دین و ایمان اور عقیدے کے تحت روزِ قیامت روزِ حساب ہے۔ بے شک خالقِ کائنات نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں قیامت کی نشانیاں بھی دوٹوک الفاظ میں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔ صورِ اسرافیل کے پھونکے جانے کے ساتھ ہی پہاڑوں سمیت خطہ¿ ارضی کے روئی کے گالوں کی طرح اڑنے کے مناظر روزِ حشر ہی کے مناظر ہیں۔ صورِ اسرافیل نغمہ¿ طرب تو نہیں ہوگا کہ اسکے پھونکے جانے سے زمین کے الٹ پلٹ ہونے اور پہاڑوں کے روئی کے گالوں کی طرح اڑنے کے مناظر کا تفریح طبع کی خاطر نظارہ کرنے کی تیاریاں کی جائیں۔ ارے نادانو! اس خطہ¿ ارضی پر انسانوں کا وجود بھی تو حشرات الارض ہی کا حصہ ہے۔ سو روزِ قیامت کائنات کا حشرات الارض سمیت خاتمہ ہونا ہے اور پھر حساب کتاب کے عمل میں سارے کس بل نکل جائینگے۔بے شک خالقِ کائنات نے قیامت کی ساری نشانیاں بتا دی ہیں اور قربِ قیامت کے بے حیائی اور سفلی انسانی جذبات سے معمور ماحول سے بھی آگاہ کردیا ہے مگر یہ دن کب اور کیسے آنا ہے، یہی تو وہ راز ہے جو قدرت نے انسانوں پر کھول دیا ہوتا تو قانونِ فطرت کی عملداری کیونکر قائم ہوپاتی۔ بے شک قیامت کا دن اٹل ہے مگر یہ غیرمتوقع اور اچانک آئیگا، جس کا ذاتِ برحق کے سوا کسی کو علم ہے نہ ہوسکتا ہے۔ ہمیں تو بس قیامت کی نشانیوں اور قربِ قیامت کے اجاگر کئے گئے ماحول کی بنیاد پر اپنی عاقبت کا سامان کرنا ہے۔ بے شک مایا تہذیب کے باطل فلسفہ کے تحت آج 21 دسمبر کو قیامت نہیں آئی کہ یہ روزِ قیامت تھا ہی نہیں، مگر ذرا اپنے ماحول کا جائزہ تو لیں، کہیں یہ قربِ قیامت ہی کی نشانیاں تو نہیں؟ پروردگار کی آخری کتاب کی شکل میں موجود ہمارے ضابطہ¿ حیات میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ جب قیامت قریب ہوگی تو گلیوں، بازاروں میں انسانی فحاشی و عیاشی کے مناظر جابجا نظر آئیں گے اور ان مناظر کو دیکھنے والے اپنی آنکھیں بند کریں گے نہ انہیں ہاتھوں سے روکنے کی سکت پائیں گے۔ آج کا مغربی معاشرہ تو الگ رہا، ذرا اپنے معاشرے کا ہی جائزہ لے لیجئے۔ انٹرنیٹ اور کیبل کی شکل میں موجود سامانِ عیاشی و فحاشی کی گلیوں، بازاروں میں جابجا نمائش نہیں ہورہی؟ ہماری ہر عمر کی نسلیں اس عیاشی کی اسیر ہیں، باطل قوتوںنے جدید ٹیکنالوجی کے نام پر اس سامانِ عیاشی کو عام کرکے ہمیں اپنی خواہشوں کا اسیر اور ناکارہ بنا دیا ہے اور پھر آپا دھابی کا ماحول بھی تو قربِ قیامت والا ہے، بس ہر ایک کو اپنی سی پڑی ہے، لوٹ مار اور اپنی تجوریاں بھرنے میں ہر کوئی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور پھر حضور والا، جنگ و جدل کے سامان میں موجود ایٹم بم آج دنیا کے کونے کونے پر موجود ہے تو ہیروشیما اور ناگاساکی میں جو ایٹم بم کی تباہ کاریوں کا تصور کرکے ذرا دنیا کے ہر کونے میں موجود ایٹم بموں کے پھٹنے کے مناظر کا بھی تصور کرلیجئے۔ کیا یہ روزِ قیامت کی نشانیوں سے کم کے مناظر ہوں گے۔ جناب قدرت نے قیامت ڈھانے کا اہتمام تو ان ایٹم بموں کی شکل میں خود ہمارے ہاتھوں سے کروا دیا ہے، اس لئےیہ گھڑی محشر کی ہے، تو عرصہ¿ محشر میں ہےپیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہےمایا تہذیب کا فلسفہ ¿ قیامت تو باطل ٹھہرا مگر کیا ہم نے روزِ حساب نہیں بھگتنا، ہم اس روزِ حساب پر اپنے لئے جہنم خریدنے کی تیاریاں کررہے ہیں تو کیا ہماری ذہنیت مایاﺅں کی ذہنیت سے بھی آگے کا نہیں جھانک رہی؟ ایسے ماحول میں اگر استاد ظفر اقبال کی طرح یہ پیشن گوئی کی جائے تو پھر بھائی صاحب اس میں بھی کیا خرابی ہے کیونکہزمیں زیر و زبر ہونے کو ہے، میرا کہا لکھ لوکہ میں اس کے فشارِ زلزلہ پیما میں رہتا ہوں
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com