انتخاب یا صفائی؟
Dec 19, 2012

وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اپنے چہرے پر معصومیت کی ملمع کاری کرتے ہوئے پوپلے منہ کے ساتھ میڈیا کے روبرو جب یہ اعلان کررہے تھے کہ آئین کے مطابق عام انتخابات صرف ایمرجنسی لگنے پر ہی ملتوی یا موخر ہوسکتے ہیں جبکہ حکومت مقررہ آئینی میعاد کے اندر انتخابات کے انعقاد کے عزم پر کاربند ہے تو میری طرح کئی دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں بھی اس سوال نے اڈاری ماری ہوگی کہ آخر انتخابات ملتوی کون کرانا چاہتا ہے؟ بھئی انتخابات ملتوی یا موخر ہونے کا فائدہ کس کو ہوگا؟ اگر موجودہ حکومت کے دوراقتدار میں ہی انتخابات ملتوی ہوتے ہیں تو یہ التواءموجودہ حکمرانوں کے اقتدار کو کھینچ کر آگے لے جانے والا ہوگا، جن کیلئے پہلے ہی قیاس آرائیاں اور چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ صدر آصف علی زرداری دوسری ٹرم کیلئے بھی موجودہ اسمبلیوں سے ہی منتخب ہونا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے آسانی کے ساتھ یہ معرکہ سر کر جائیں۔جب یہ ہوا چلی ہوئی ہے کہ اگلا انتخابی معرکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی موت پر منتج ہونیوالا ہے کیونکہ اسکی حکومتی پالیسیوں سے نکّونک عوام ضمنی انتخابات میں اپنا موڈ ظاہر کرچکے ہیں تو پھر انتخابات کے التواءکے ذریعے اپنے اقتدار کیلئے سال بھر کی مہلت حاصل کرنا پیپلز پارٹی کے نقد منافع میں شامل ہوگا، اس میں اقتدار کی شیرینی سمیٹنے کا ہی مزید موقع نہیں ملے گا، صدر زرداری کا ایوان صدر میں اگلے پانچ برس کا بسیرا بھی یقینی ہوجائیگا۔ تو جناب، ایسے ممکنہ نتائج کو بھانپتے ہوئے کہیں سے انتخابات کے التواءکا ماحول بنانے کا سوچا جا رہا ہے تو اس میں حکمران پیپلز پارٹی ہی کے وارے نیارے ہوں گے۔ پھر کیا تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت اور اسمبلیوں کو برقرار رکھ کر انتخابات ملتوی کرانے کی کسی سوچ میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔فاروق ایچ نائیک کے بقول پیپلز پارٹی کی حکومت مقررہ وقت کے اندر انتخابات منعقد کرانے کے عزم پر کاربند ہے تو بھائی صاحب! حکومت کو اس سے کون روک رہا ہے؟ مقررہ میعاد کے اندر انتخابات موجودہ حکومت نے تو نہیں کرانے، یہ ذمہ داری تو عبوری نگران حکومت نبھائیگی جس کیلئے ضروری ہے کہ موجودہ اسمبلیوں کی آئینی میعاد پوری ہوتے ہی صدارتی فرمان کے تحت انہیں اور ان سے منسلک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تحلیل کردیا جائے اور اسکے ساتھ ہی عبوری نگران حکومتیں تشکیل دیدی جائیں۔ اگر نگران حکومتوں کے دور میں موجودہ آئینی میعاد کے اندر انتخابات کا انعقاد نہیں ہوتا تو پھر یہ سمجھا جائیگا کہ انتخابات موخر کرانے کا ایجنڈہ حکمرانوں کا نہیں، کسی اور کا تھا۔ اب ذرا انتخابات کے التواءکی ان دونوں قیاس آرائیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے لیا جائے تو کئی اسرار و رموز خود ہی کھل کر سامنے آجائیں گے۔موجودہ حکمرانوں کی خاطر اگر انتخابات ملتوی کرنے کا ماحول بنایا جاتا ہے تو اس میں حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کا کردار نظرانداز نہیں ہوسکے گا۔ اس کیلئے ایم کیو ایم نے پہلا عندیہ سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں فوج کی زیرنگرانی انتخابی فہرستوں کی تصدیق اور حلقہ بندیوں کے ازسرنو تعین سے متعلق احکام کو جارحانہ انداز میں چیلنج کرکے دیا۔ اس معاملہ میں ایم کیو ایم کی قیادت کا سرگرم پروپیگنڈہ جاری ہے کہ سپریم کورٹ کے یہ احکام ہی انتخابات کو مقررہ میعاد سے آگے لے جانے کا عندیہ ہیں۔ اگر پرامن طریقے سے سپریم کورٹ کے ان احکام کی تعمیل میں ووٹر لسٹوں کی سکروٹنی اور نئی حلقہ بندیوں کا عمل شروع کیا جاتا ہے تو الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق یہ عمل 31 جنوری تک مکمل ہوجائیگا جس کے بعد انتخابات کا عمل شروع ہوگا تو انکے بروقت انعقاد کی راہ میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آئیگی۔ چنانچہ ایم کیو ایم کا یہ الزام تو حقائق کے کسی کھاتے میں نہیں آتا کہ سپریم کورٹ کے یہ احکام ہی انتخابات کے التواءکا عندیہ ہیں، ہاں البتہ سپریم کورٹ کے ان احکام کی تعمیل کے پراسس میں امن و امان قابو میں نہ رکھا جاسکا اور کراچی کی خون آشامی طویل اندھیری رات کے ساتھ ملا دی گئی تو پھر ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز نکلے گا اور یہ جواز انتخابات کے التواءپر منتج ہوگا۔ یہ معاملہ بھی حکومتی اتحادیوں کے اپنے اختیار میں ہے۔ وہ چاہیں تو سپریم کورٹ کے احکام کی مقررہ میعاد کے اندر پرامن تعمیل کراکے انتخابات کے بروقت انعقاد کا عہد نبھالیں اور چاہیں تو ایمرجنسی کے نفاذ کی نوبت لاکر انتخابات کے التواءکا جواز نکلوا دیں۔ اس معاملہ میں کراچی کے حالات کی خرابی کے باعث ایمرجنسی کے نفاذ اور انتخابات کے التواءکی نوبت آتی ہے تو پھراے بادِ صبا ایں ہمہ آوردہ¿ تستکہیں معصوم فاروق نائیک ایمرجنسی کا تذکرہ اسی پس منظر میں تو نہیں کررہے۔انتخابات کے التواءکا دوسرا ممکنہ ماحول بھی ایم کیو ایم کی حکمت کے ساتھ ہی منسلک ہے کہ قائد تحریک الطاف حسین کے تند و تیز بیانات پر سپریم کورٹ کی جانب سے 7 جنوری کیلئے توہین عدالت کے نوٹس جاری ہونے پر ایم کیو ایم نے 7 جنوری کو اپنے لاکھوں کارکن سپریم کورٹ اسلام آباد میں لانے کا اعلان کردیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس روز سپریم کورٹ بلڈنگ میں کیا ہوگا۔ پھر کیا ایسی ممکنہ بدامنی ایمرجنسی کے نفاذ اور اس کی بنیاد پر انتخابات کے التواءکا باعث نہیں بنے گی؟ ان حالات میں جناب خود ہی اندازہ لگالیں کہ انتخابات کو موخر کرانے کی سوچ کہاں سے اور کس مقصد کے تحت ابھاری جا رہی ہے۔اگر حکومتی اتحادیوں کے پیدا کردہ ایسے ہی افراتفری کے ماحول میں ڈاکٹر طاہر القادری انتخابات کے چار پانچ سال تک التواءکا ایجنڈہ لیکر اپنے متعینہ شیڈول کے مطابق پاکستان واپس آجاتے ہیں اور پیسے کی ریل پیل والی تشہیری مہم کے سہارے دمادم مست قلندر کا ماحول بنا دیتے ہیں تو انکا یہ اقدام بھی انتخابات کے التواءکی صورت میں موجودہ حکمرانوں کو فائدہ پہنچانے سے ہی تعبیر کیا جائیگا۔ اس لئے جناب، انتخابات کے التواءکے پروپیگنڈے میں کس سوچ کا عمل دخل ہے، اس بارے میں قطعاً ابہام نہیں۔ چنانچہ اس پروپیگنڈے کے اصل پس منظر کی واضح تصویر دیکھ کر ہی چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ 14 برس تک کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات نہ کرانے کا ذمہ دار کون ہے جبکہ یہ انتخابات کسی ایمرجنسی کے باعث تو موخر نہیں ہوئے۔ سپریم کورٹ تو چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایات بھی جاری کرچکی ہے جس کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے باقاعدہ میعاد بھی مقرر کی گئی۔ یہ انتخابات اس مقررہ میعاد کے اندر کیوں نہیں ہوپائے اور ابھی تک کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر کیوں آمادہ نہیں۔ فاروق ایچ نائیک کو پوپلے منہ کے ساتھ ذرا اسکی بھی وضاحت کردینی چاہئے۔ اگر حکومتی بے ضابطگیوں اور کرپشن و اقرباپروری کی پھیلتی ہوئی داستانوں کے نتیجے میں عبوری نگرانوں کو انتخابات سے پہلے مکمل صفائی والا ڈاکٹر طاہر القادری کا آئیڈیا بھا جاتا ہے تو بھائی صاحب! اسکے ذمہ دار بھی تو آپ سارے اقتداری بھائیوال ہی ٹھہریں گے۔ اس لئے جناب آپ انتخابات کے التواءکا نہیں، انعقاد کا ماحول بنائیں ورنہ پھر صفائی تو ہے، مکمل صفائی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com