سرکشی کلچر کی بہاریں
Dec 05, 2012

 آخر انہوں نے ہر معاملے میں آئین سے سرکشی اختیار کرنے اور انصاف کی عملداری کو رگیدنے کی ہی کیوں ٹھان رکھی ہے۔ کریڈٹ قوم کو 73ءکے آئین کا تحفہ دینے کا لیا جاتا ہے۔ اس آئین کی بنیاد پر پارلیمنٹ کی تمام اداروں پر برتری کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جاتا ہے مگر امور حکومت و مملکت کی انجام دہی کے لئے آئین کی متعلقہ شقیں ان سے جو تقاضہ کرتی ہیں وہ نہ صرف پورا نہیں کیا جاتا بلکہ آئین کے ان تقاضوں کی تضحک کا بھی فخریہ اہتمام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔

ہم جرنیلی آمروں کی جانب سے آئین کو توڑنے کا رونا روتے رہتے ہیں اور ان کے ماورائے آئین اقدامات کو منتخب جمہوریت پر شب خون مارنے سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر آئین کی دفعہ 6 کی عملداری کے متقاضی رہتے ہیں۔ ایسا ہونا بھی چاہئے کہ کسی ایک کو عبرت کی مثال بنا کر ہی آئین کی اتھارٹی منوائی اور اس کا تقدس یا بھرم قائم رکھا جا سکتا ہے مگر موجودہ دور حکومت کا بے شک اچٹتی نگاہوں سے جائزہ لے لیجئے، اس سے وابستہ حکمران طبقات کے ہاتھوں آپ کو قدم قدم پر آئین کا تقدس پامال ہوتا اور انصاف کی عملداری غارت ہوتی نظر آئے گی۔ جبکہ اس سرکشی کلچر میں حکمران پیپلز پارٹی ہی نہیں، اس کے اتحادی بھی سرکشی کی آخری حدیں پار کرتے نظر آتے ہیں اور حیرت ہے کہ پھر بھی حکمرانی قائم ہے اور اس حکمرانی کے خلاف سازشوں کے الزامات بھی انہی حکمران طبقات کی جانب سے عائد کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ آئین سے سرکشی کے جرم کی پاداش میں تو جرنیلی آمروں کی طرح سلطانی¿ جمہور سے وابستہ ان حکمران طبقات پر بھی آئین کی دفعہ 6 کی عملداری قائم ہونی چاہئے جو آئین سے سرکشی کے کلچر کو اپنا زیور بنائے بیٹھے ہیں۔

حکمران طبقات کی جانب سے آئین سے سرکشی کی تازہ واردات تو ان کی دیدہ دلیری پر مہر تصدیق ثبت کرتی نظر آتی ہے۔ یہ واردات وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو استعمال کر کے ڈالی گئی ہے۔ اس وقت پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی دہری شہریت کا معاملہ تصفیئے کے فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکا ہے جس کے لئے آئین کی دفعہ 63 (1) سی  کی عملداری بہرصورت قائم ہونی ہے۔ آئین کی یہ شق اسی 1973ءکے آئین میں شامل ہے جسے پیپلز پارٹی کی جانب سے تحفے کی صورت میں قوم کو پیش کرنے کا کریڈٹ لینا موجودہ حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے منشور کا حصہ بنا رکھا ہے۔ اس دور حکومت میں 18ویں، 19ویں اور 20ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور کرانے کا کریڈٹ بھی لیا گیا جبکہ ان ترامیم کے ذریعہ بھی آئین کی دفعہ 63 (1) سی برقرار رکھی گئی جس کے تحت دہری شہریت کو واضح طور پر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے نااہلیت کے کھاتے میں ڈالا گیا ہے۔ یقیناً آئین نے پاکستان کے کسی شہری پر کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی مگر ملک کا کوئی بھی شہری کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کر لے گا تو آئین کی دفعہ 63 (1) سی کی زد میں آ کر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کا نااہل قرار پا جائے گا۔ آج اس آئینی شق کی سپریم کورٹ کے احکام کے تحت عملداری قائم ہو رہی ہے تو حکومت کو اس کا بھی کریڈٹ لینا چاہئے کہ اس کے دئیے گئے آئین کے تحفے کی اتھارٹی تسلیم کی جا رہی ہے مگر اس شق کی عملداری سے پھندہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کے ارکان پارلیمنٹ اور زیادہ تر سندھ اسمبلی کے ارکان پر پڑا تو انہیں آئین کی عملداری زہر نظر آنے لگی۔

یہ الگ معاملہ ہے کہ صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کے جن ارکان نے اپنی اس رکنیت کو برقرار رکھنے پر اپنی دہری شہریت کو ترجیح دے کر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے استعفے دئیے، ان کی اپنے ملک کے ساتھ وفاداری کس پیمانے کی ہے مگر سندھ اسمبلی کے مستعفی ہونے والے ارکان کو ان کی غیر منتخب حیثئت میں پھر صوبائی وزیر، مشیر اور معاون خصوصی کے قلمدان سونپ کر وزیر اعلیٰ سندھ نے تو کمال ہی کر دیا ہے۔ آئین سے سرکشی والے اپنے اس کارنامے کا جواز انہوں نے یہ پیش کیا ہے کہ انہیں اسمبلی سے باہر کے کسی بھی شخص کو چھ ماہ تک اپنی کابینہ میں شامل رکھنے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ حضور والا! آپ کو اپنے اس آئینی اختیار کو استعمال کرنا تو خوب یاد رہا ہے مگر اس اختیار کے ساتھ بندھی شرائط آپ کو نظر ہی نہیں آئیں۔ جناب یہ اختیار اس پابندی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص کو چھ ماہ کے اندر اندر متعلقہ اسمبلی کا رکن منتخب کرا لیا جائے گا۔ آپ نے سندھ اسمبلی سے اپنی دہری شہریت کو بچائے رکھنے کی خاطر مستعفی ہونے والے جن چھ ارکان بشمول وزیروں اور مشیروں کو دوبارہ اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے، ذرا ان کے بارے میں اپنے آئینی مشیروں سے مشاورت کر لیں کہ وہ اب پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے اہل بھی ہیں یا نہیں۔ اگر وہ اپنی دہری شہریت کو برقرار رکھنے کے نتیجہ میں اب بھی آئین کی دفعہ 63 (1) سی کے تحت انتخاب لڑنے کے قطعی نااہل ہیں تو آپ چھ ماہ کے اندر اندر کون سا انتخاب لڑا کر انہیں اسمبلیوں میں واپس لائیں گے۔ پھر یہ بھی تو دیکھئے کہ چیف الیکشن کمشنر نے متذکرہ ارکان کی خالی ہونے والی سندھ اسمبلی کی چھ نشستوں سمیت اب کسی بھی اسمبلی کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب نہ کرانے کا دوٹوک اعلان کیا ہے کہ اب عام انتخابات کا مرحلہ شروع ہونے والا ہے تو پھر آپ ان غیر منتخب ارکان کو چھ ماہ کے اندر اندر منتخب کرانے کا آئینی تقاضہ کون سے انتخاب میں پورا کرائیں گے۔ اگر اب کوئی ضمنی انتخاب بھی نہیں ہونا اور دہری شہریت برقراررکھنے کے نتیجہ میں آپ کے ہاتھوں وزیر، مشیر اور معاون خصوصی کا حلف اٹھانے اور وزارت کا قلمدان سنبھالنے والے افراد کوئی انتخاب لڑنے کے بھی نااہل ہیں تو پھر آپ انہیں اپنی کابینہ میں شامل کرکے سیدھے سیدھے آئین سے سرکشی کے ہی مرتکب ہوئے ہیں۔ اور پھر ذرا اپنے آئینی مشیروں سے یہ اطلاع بھی حاصل کر لیں کہ آپ کو آئین کے تحت زیادہ سے زیادہ کتنے مشیر رکھنے کا اختیار حاصل ہے۔ آئین تو حضور آپ کو زیادہ سے زیادہ پانچ مشیر رکھنے کا پابند بناتا ہے اور اس آئینی پابندی کے نتیجہ میں ہی پنجاب کابینہ میں شامل پانچ سے زیادہ تمام مشیروں کو اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا تو آپ اپنے مشیروں کے تقرر کے لئے پانچ کے ہندسے سے تجاوز کرکے بھی آئین سے سرکشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ آئین سے ڈھیر ساری وفاقی اور صوبائی سرکشیوں کو اپنے ماتھے پر سجا کر کیا آپ جمہوریت کو بچانے اور مستحکم بنانے کے کریڈٹ لینے کے داعی ہیں؟ نہیں جناب! آج آئین و انصاف کی عملداری کا موسم آیا ہے تو آپ خود کو کسی بھی ماورائے آئین اقدام کی سزا سے بچانے کی کوشش کریں ورنہ آپ کے سارے کریڈٹ ڈس کریڈٹ ہو جائیں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com