جیالا کلچر کا المیہ
Nov 30, 2012

پیپلز پارٹی (شہید بھٹو گروپ) کے موجودہ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مبشر حسن کے گلبرگ لاہور کے گھر کے ڈرائنگ روم میں ایوب ڈیڈی کے باغی روحانی بیٹے ذوالفقار علی بھٹو کے تازہ تازہ فلسفہ¿ سوشلزم سے متاثر ہونے والے ان کے دو درجن کے قریب ابتدائی ساتھیوں بشمول ملک حامد سرفراز مرحوم کی تائید سے 30 نومبر 1967ءکو جنم لینے والی ”انقلابی“ پیپلز پارٹی اب اپنی ڈھلتی عمر کے 46ویں سال میں داخل ہو گئی ہے۔ مرحوم بھٹو کی زندگی میں اور پھر ان کی بڑی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کے برسر اقتدار آنے تک لاہور کے کھلے میدانوں میں رونق میلے کے قالب میں ڈھلتے ہوئے پبلک جلسے کی صورت میں پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس منایا جاتا تھا۔ حکمت یہی ہوتی تھی کہ جو پارٹی لاہور میں تشکیل پائی ہے اس کی سالگرہ کی مرکزی تقریب بھی لاہور ہی میں ہونی چاہئے۔ جبکہ یہ تقریب پیپلز پارٹی کے جیالا ازم میں نیا جوش و جذبہ پیدا کرنے کا ایک بہانہ بھی بن جاتی تھی۔ اس پارٹی کے نظریاتی جیالوں کے کیڈر بھی لاہور ہی میں جتھہ بند ہوتے تھے۔ سندھ میں تو اس پارٹی کے جیالا کلچر کی رونمائی پیپلز پارٹی کے اقتدار کے دوران ہوئی جبکہ اس کلچر کی اصل نشو و نما لاہور ہی میں ہوئی۔ اس پارٹی کی بنیاد پر اپنی گواہی ثبت کرنے والوں میں میاں نوازشریف کے موجودہ قریبی متوالے پرویز رشید اور میرے دیرینہ دوست افتخار احمد (فتنہ) بھی شامل ہیں جن کے ذہنوں سے اس پارٹی کے تاسیسی اجتماع کی یادیں ابھی محو نہیں ہوئی ہوں گی۔ مگر آج کی پیپلز پارٹی کے بزرجمہروں کو شائد پیپلز پارٹی کے قیام کے پس منظر کا بھی علم نہیں ہو گا اس لئے انہیں یہ ادراک بھی نہیں ہو سکتا کہ لفظ جیالا اپنے اندر موجود کس جوش، جذبے اور وارفتگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اب یہ تصور تو اس پارٹی کی صفوں میں سے مفقود ہوا کہ پارٹی کے جیالا کلچر کو زندہ رکھنا ہے تو اس کا مرکزی تاسیسی اجتماع لاہور میں ہی منعقد ہونا چاہئے۔ ویسے تو یہ تصور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار کے آغاز ہی میں معدوم ہو گیا تھا جبکہ اب تو پیپلز پارٹی کے مرکزی تاسیسی کنونشن سے منسوب اس کے جیالا کلچر کے تصور کی ہواڑ بھی نہیں نکالنے دی جاتی۔ چنانچہ اب پیپلز پارٹی کے قائدین کو پیپلز پارٹی کا مرکزی تاسیسی کنونشن لاہور میں منعقد کرنے کی مجبوری بھی لاحق نہیں ہوتی۔ سو اس پارٹی کو اب جیالا گریز پارٹی کہا جائے تو قطعاً معیوب نہیں ہو گا۔ 

اس پارٹی کے جیالوں کو کندن بننے کا موقع تو ضیاءالحق کی جرنیلی آمریت کے آغاز اور پھر عنفوانِ شباب میں قید کوڑوں اور قلعہ بندی کی سختیوں کو جھیلتے ہوئے ”عوام دوست“ بننے کی شکل میں حاصل ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی سے وابستہ پاکپتن کے انقلابی پنجابی شاعر ظہور حسین ظہور نے جیالا کلچر کے فروغ پانے کے اس عمل کے دوران ہی یہ نظم کہی تھی کہ

جے بولے تے مار دین گے
نہ بولے تاں مر جاواں گے

جذبات کو زبان ملنے کے اس عمل کو جیالا کلچر کا نام دیا گیا تھا۔ چنانچہ ”الذوالفقار“ کے طیارہ ہائی جیکنگ کیس سے ایم آر ڈی کی تشکیل تک جذبات کو زبان ملنے والے اس جیالا کلچر کی رونمائی ہوتی رہی اور پھر ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران پیپلز پارٹی کو اپنے جیالا کلچر کی رونمائی کا موقع صرف اس پارٹی کے مرکزی تاسیسی کنونشن کے موقع پر ملتا چنانچہ پورا زور لگا کر ملک بھر سے اس پارٹی کی نظریاتی قیادتوں اور جیالوں کی شکل میں موجود بنیادی ارکان کو تاسیسی کنونشن کی زینت بنایا جاتا۔ اس دور کے جیالوں میں پنجاب سے رانا شوکت محمود، شیخ رفیق احمد، جہانگیر بدر، پیر سید ناظم حسین شاہ، ڈاکٹر ضیاءاللہ بنگش، چودھری اسلم گل، ساجدہ میر، کنیز میر، چودھری غلام قادر، چاچا غلام رسول، مانی پہلوان اور دوسرے کئی چہرے جو آنکھوں کے سامنے ہیں، مگر ان کے نام یاد نہیں آ رہے، دن بھر سٹیج اور پنڈال کو سنبھالے پیپلز پارٹی کے تاسیسی کنونشن کو کامیاب بنانے میں مگن نظر آتے اور پھر معظم علی معظم اپنی نظم ”بھٹو دے نعرے وجن گے“ سُر، لے اور ترنم سے جوشیلے انداز میں پڑھنا شروع کرتے تو پورے جلسے میں سماں بندھا نظر آتا۔ اس دور میں پیپلز پارٹی کے تاسیسی کنونشن زیادہ تر باغ بیرون موچی گیٹ، الحمرا قذافی کلچرل کمپلیکس اور احاطہ پانی والا تالاب میں منعقد ہوتے تھے۔ ایم آر ڈی کی پوری تحریک کے دوران یہ سلسلہ جاری رہا جس میں مزاحمتی جیالا کلچر کو فروغ حاصل ہوتا رہا۔

بھٹو مرحوم نے اپنی قید کے دوران بیگم نصرت بھٹو کو اپنی پارٹی کی قائم مقام چیئرپرسن اور سابق جج لاہور ہائیکورٹ ملک سعید حسن کو مرکزی سیکرٹری جنرل بنا دیا تھا جو عملی عوامی سیاست کے حوالے سے ایک دوسرے کی ضد تھے۔ ایم آر ڈی کی تشکیل کے بعد بیگم نصرت بھٹو گرفتار ہوئیں تو انہوں نے غلام مصطفی جتوئی کو پارٹی کا قائم مقام چیئرمین نامزد کردیا چنانچہ ایم آر ڈی کی تحریک میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی واپسی تک جتوئی صاحب ہی پیپلز پارٹی کی نمائندگی اور اس پارٹی کی کنوینر شپ کے دوران ایم آر ڈی کے کنوینر کا فریضہ ادا کرتے رہے۔ پھر بیگم نصرت بھٹو نے 10 اپریل 1986ءکو محترمہ بے نظیر بھٹو کی ملک واپسی پر انہیں پارٹی کی شریک چیئرپرسن کے منصب پر نامزد کیا تو عملاً پیپلز پارٹی کی کمان انکے ہاتھ میں آگئی اور بیگم نصرت بھٹو کارنر ہونا شروع ہوگئیں۔ اسکا پس منظر میر مرتضیٰ بھٹو تھے جنہیں محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے اقتدار کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ افہام و تفہیم کی خاطر پیپلز پارٹی کی سیاست سے دور رکھنا چاہتی تھیں مگر ماں ہونے کے ناطے بیگم نصرت بھٹو اپنے شوہر کی پارٹی میں میر مرتضیٰ بھٹو کیلئے مرکزی کردار کی متمنی تھیں۔ ماں بیٹی کے مابین یہ چپقلش محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دوراقتدار میں کھل کر سامنے آئی اور انہوں نے اپنی پارٹی کے اندر بھی میر مرتضیٰ بھٹو مخالف ایک مضبوط لابی قائم کردی۔ اس لابی کے زیراثر ہی پیپلز پارٹی کے اقتدار کے باوجود 30 نومبر 1994ءکو اس پارٹی کا تاسیسی کنونشن کسی کھلی جگہ کی بجائے لاہور کے الحمراءہال نمبر 1 میں منعقد کیا گیا جس کے آغاز ہی میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل شیخ رفیق احمد نے یکایک اپنی جیب سے ایک قرارداد نکالی اور پڑھنا شروع کردی۔ یہ قرارداد ایک طرح سے بیگم نصرت بھٹو کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار تھی جس کے ذریعے انہیں پارٹی کی چیئرپرسن کے عہدے سے ہٹا کر محترمہ بے نظیر بھٹو کو پارٹی کی تاحیات چیئرپرسن بنانے کا اعلان کیا گیا۔ تائیدی شورشرابے میں یہ قرارداد منظور ہوئی تو کرسی¿ صدارت پر متمکن محترمہ بے نظیر بھٹو کا چہرہ خوشی سے تمتماتا نظر آیا۔ اسکے بعد بے شک مرکزی تاسیسی کنونشن لاہور میں منعقد کرنے کی روائت برقرار رہی مگر پیپلز پارٹی کا کوئی مرکزی تاسیسی کنونشن پبلک جلسے کی شکل میں منعقد نہ ہوسکا اور پھر اس پارٹی کا جیالا کلچر بھی آہستہ آہستہ کارنر ہونے لگا۔ اب یہ کلچر شہید بی بی کی باقیات میں شامل ہو کر ایک طعنے کی شکل اختیار کرچکا ہے اور اس کلچر کی بدولت مرحوم بھٹو کے بعد بھی تین بار اقتدار میں آنیوالی پیپلز پارٹی کی آج یہ حالت ہوگئی ہے کہ لاہور میں اسکے مرکزی تاسیسی کنونشن کے انعقاد کا تصور بھی باقی نہیں رہا۔ آج سنا ہے، ایوان اقبال لاہور میں ضلعی سطح پر پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس منایا جا رہا ہے۔ جب اس پارٹی کا مرکز لاہور سے کھینچ کر اقتدار کے ایوانوں کے کسی کونے کھدرے میں پہنچا دیا گیا ہے تو اسے جیالا کلچر پارٹی کے طور پر کیسے یاد رکھا جاسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے 45 ویں یوم تاسیس کے موقع پر اس پارٹی کے جیالوں کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر متحرک کردیا جائے تو شائد آئندہ انتخابات میں بھی یہ پارٹی بھٹو ازم کو کیش کرانے کی پوزیشن میں آجائے ورنہ تو اب اس پارٹی میں رہے نام اللہ کا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com