”آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں“
Nov 28, 2012

وہ اخبار کے صفحہ اول پر نظریں جمائے تمسخرانہ انداز میں قہقہے بلند کرتا نظر آیا تو مجھے اس پر اپنی دانشوری کی حد سے گزرنے کا گمان ہونے لگا۔ وہ اکثر اخبار کی شہہ سرخیوں پر اچٹتی سی نگاہ ڈالتا ہے اور کسی ایک خبر کو مشقِ ستم بنا کر اس سے متعلق کسی شخصیت کے بخئے ادھیڑنا شروع کر دیتا ہے۔ مجھے اس کی اس عادت میں تعمیر سے زیادہ تخریب نظر آتی ہے اس لئے میں اس کی جانب سے کسی خبر پر ہونے والے بے رحمانہ تبصرے پر کبھی اس کے منہ لگنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ آﺅ تاﺅ دیکھے بغیر کسی کے لتّے لینا شروع کرتا ہے تو اس کے قرب و جوار کی آبادیوں کو بھی اپنی شرانگیزی کی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ کبھی کبھار تو مجھے اس کی حالت پر ترس بھی آنے لگتا ہے۔ آج بھی اس کی دل اچاٹ طبیعت کا جائزہ لیتے ہوئے مجھے اس پر ترس ہی آرہا تھا۔ میں نے تفننِ طبع کے طور پر نہیں فی الواقع اس کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کی خاطر اس سے مخاطب ہوتے ہوئے اس کے تمسخرانہ قہقہوں کا پس منظر جاننے کی کوشش کی۔

”بھولے! ایسی کونسی خبر دیکھ لی ہے کہ حضور کی زبان کانٹے اگل رہی ہے؟“

”ارے میں نہیں کہتا تھا کہ یہ سب بازاری، کاروباری، مفاداتی سیاست کر رہے ہیں۔ ان کا ملک، کسی صوبے یا عوام کی کسی اچھائی یا برائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر آپ ماننے میں ہی نہیں آ رہے تھے۔ اب یہ خبر پڑھ لیں، آپ کو میری باتوں کا یقین نہ آئے تو پیسے واپس، آخر یہ بھولا کوئی چھوٹا موٹا دانشور نہیں ہے، جو میں کہتا تھا آج وہی بات سچ ثابت ہوئی ناں!“

بھولے نے نان سٹاپ بولتے ہوئے اخبار کے صفحہ اول پر باکس آئٹم کے طور پر شائع ہونے والی خبر میری آنکھوں کے آگے دھر دی۔

ارے یہ کیا؟ میں نے خبر پڑھی تو مجھے دانشوری بگھارتے بھولے کی باتوں میں ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کی فکر میں مبتلا کوئی دردمند انسان اپنے ریاکار سیاست دانوں پر تبرّے مارتا نظر آیا۔ خبر میں موجود یہ تبرّہ جنوبی پنجاب پر سیاست کرنے والے ملتان کے گیلانی مرشد پر تو کَس کے پڑنا چاہئے جنہیں بالواسطہ اس خبر میں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پارلیمانی کمشن اپنی مدت گذشتہ ماہ اکتوبر میں مکمل کر کے غیر فعال ہو چکا ہے جبکہ اس کے ذمے پنجاب میں نئے صوبوں کی تشکیل کے پیرامیٹرز متعین کرنے کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ اس کا ایک لفظ تو کجا، ایک نکتہ بھی قرطاس کی زینت نہیں بن سکا اور وفاقی حکومت سپیکر اسمبلی پر دباﺅ ڈال رہی ہے کہ وہ اس پارلیمانی کمشن کی مدت میں توسیع کر دیں مگر سپیکر کو اپنی آئینی حدود و قیود کی پاسداری مطلوب ہے اس لئے وہ حکومتی دباﺅ کو برداشت کئے چلی جا رہی ہیں مگر اپنے ہاتھوں کمیٹی کی مدت میں توسیع والا کوئی غیر آئینی کام سرانجام دینے پر آمادہ نہیں، چنانچہ یہ پارلیمانی کمشن غیر فعال نہیں، عملاً ختم ہو چکا ہے اور جس چیز کا اپنا وجود ہی باقی نہ رہا ہو وہ کسی دوسرے وجود کی تشکیل کا باعث کیسے بن سکتی ہے؟

”ارے بھولے! یہ تو آپ نے بہت کام کی خبر ڈھونڈ نکالی ہے!“

میں نے اس خبر پر اپنی سنجیدگی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے بھولے کو اس کے تمسخرانہ انداز میں ہی اس کی دانشوری کا کریڈٹ دینے کی کوشش کی۔

”جی سرکار! میں تو پہلے ہی آپ سے کہتا رہتا ہوں کہ آپ میری باتوں کا یقین کر لیا کریں اور بتائیں یہ سیاست دان کسی اعتبار کے قابل ہیں؟ پھر بھی آپ چاہتے ہیں کہ ان پر آئندہ بھی اعتماد کیا جائے“۔

”نہیں بھولے! نہیں! آپ کی سچی کھری باتوں پر مجھے یقین ہوا، مجھ کو اعتبار آیا۔“

میں نے یہ بات آپ کے دل کو پرچانے کے لئے نہیں، فی الواقع اپنے دل کا غبار نکالنے کے لئے کی ہے۔ بھولے! آپ بھی اب اپنے دل کا غبار نکالتے رہو کیونکہ ہماری سیاست اس کا وافر انتظام کر چکی ہے۔ آج آپ کو نئے صوبوں پر سیاست کرنے والے والے شعبدہ بازوں کی حقیقت بھی بکس آئٹم خبر میں نظر آئی ہے تو ذرا دوسری خبر پر بھی اپنی دانشوری بگھارنے کا موقع پا لیجئے“۔

بھولا میری بات سن کر ایسے سنجیدہ ہوا جیسے اسے اپنی کسی خوشی کے کافور ہونے کا دھڑکا لگ گیا ہو۔

”جی بتائیں، میری دانشوری بہت جذبات میں آئی ہوئی ہے۔ “

ارے بھولے! آپ نے اخبار کی سپر لیڈ ملاحظہ نہیں کی، اسے پڑھو اور چشم تصور سے نظارہ کرو کہ میاں نواز شریف پھر صدر محترم پر اعتماد کر کے انہیں گلے لگانے کی ٹھانے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ سیاسی شعبدہ بازی ہے یا قلابازی؟ ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کتنے اطمینان کے ساتھ قوم کو پیغام دے رہے ہیں کہ زرداری صاحب ملک کے منتخب صدر ہیں۔ ان کے ماتحت ہونے والے اگلے انتخاب میں وزارت عظمٰی کا ہما میرے سر پر بیٹھا تو ملک کے اس منتخب صدر سے حلف لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کروں گا۔

ارے بھائی صاحب۔ سپریم کورٹ تو اسی منتخب صدر کے گروہی سیاسی کردار سے قوم کو خلاصی دلانا چاہتی ہے اور یہی صدر مملکت پنجاب میں آپ کی حکمرانی پر جاسوسی پہرے بٹھا چکے ہیں اور سیاسی مہرے داﺅ پر لگا چکے ہیں مگر آپ کیا بھولے بادشاہ ہیں کہ ایک ہی سوراخ سے بار بار خود کو ڈسوانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ آخر آپ کے اس اعتماد کا کیا پس منظر ہو سکتا ہے؟

بھولے نے میری بات مکمل بھی نہ ہونے دی اور آنکھیں بند کر کے بلبلی مارنے کے انداز میں آسمان کی جانب یوں قہقہہ بلند کیا جیسے وہ اپنے سیاسی فلسفے کی حقانیت کی قدرت سے بھی داد طلب کرنے کا متمنی ہو۔

”ارے بھائی صاحب، آپ اب تو سمجھ جاﺅ کہ یہ فی الواقع زرداری نواز سمجھوتہ ایکسپریس “ہے

جی ہاں بھولے۔ آپ ٹھیک کہتے ہو۔ انٹرویو لینے والے اینکر نے میاں نوازشریف کی ریشہ خطمی کیفیت کو بھانپ کر انہیں یاد دلایا تھا کہ آپ کے چھوٹے بھائی صاحب میاں شہباز شریف تو اسی منتخب صدر محترم کو صدر تسلیم کرنے پر ہی آمادہ نہیں۔

میں تصور باندھ رہا تھا کہ اپنی پارٹی کی اصولی سیاست کے تناظر میں میاں نوازشریف اپنے برادر خورد کی سیاسی بصیرت کی تائید کریں گے مگر انہوں نے بلاتوقف یہ جواب دے کر میرے تصورات کو گڑبڑا دیا کہ میاں شہباز شریف کو صدر محترم کے خلاف اتنی سخت زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے۔

”آپ پھر بھی اس اقتداری بھائیوالی میں اصولی سیاست کی راکھ بننے والی چنگاریاں ڈھونڈنے میں لگے ہیں“۔

مجھے یوں محسوس ہوا جیسے بھولے کی بے لاگ دانشوری میری انا پرستانہ سوچوں پر غالب آنے لگی ہے۔ صوبوں کی منافقانہ سیاست پر ایک دوسرے کو لتاڑنے پچھاڑنے والے غیر محسوس انداز میں اس سیاست سے رجوع کر چکے ہیں اور موجودہ وفاقی اقتدار کا ایک ایک پل ملک اور عوام پر بوجھ بننے کا پراپیگنڈہ کرنے والے اب اسی اقتدار کے ہاتھوں اپنی وزارت عظمٰی کا حلف اٹھانے کی تصور ہی تصور میں تیاری کئے بیٹھے ہیں۔ پھر اس عیار سلطانی میں بے کس و مجبور جمہور کہاں جائے۔ بقول احمد ندیم قاسمی

میں کہاں جاﺅں، کہاں روح کی تسکیں پاﺅں
کیا میری زیست کا مقصد ہی پریشانی ہے

مجھے اور کچھ نہ سوجھا تو میں نے بھی دانشوری کی بلبلی مارتے بھولے کے گلے ملنے کی ٹھان لی

آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں
تو ہائے گُل پکار تو میں بولوں ہائے دل
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com