وردی اتروانے کا کریڈٹ اور نیک مشورے
Nov 21, 2012

صدر ذی وقار کے منصب کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ان کے ہر ارشاد کو آنکھیں بند کر کے ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ کے کھاتے میں شمار کر کے سرتسلیم خم کر لیا جائے مگر دل وہ ”بے مہر“ ہے کہ جرنیل کو وردی اتارنے پر مجبور کرنے والے ان کے گزشتہ روز کے بیان کردہ کریڈٹ کو تسلیم کرنے پر مائل ہی نہیں ہو رہا۔ بے شک صدر مملکت نے خیبر پی کے اسمبلی میں خطاب کرنے کا اکلوتا کریڈٹ تو سرعام حاصل کیا ہے ورنہ تو کسی دور افتادہ گاﺅں کی کسی فصل کی کٹائی کی تقریب کا اہتمام بھی ایوان صدر کی فصیلوں کے اندر کسی محفوظ ٹھکانے پر ہو جاتا تھا۔ صدر محترم براستہ کچے پینڈے کے کسی سفر کی کٹھنائیوں سے بھی محفوظ رہتے اور ان کی گورننس کے ڈنکے بجتے بھی دکھائی دیتے۔ اب وہ پکے قلعے سے باہر نکل کر عوام میں آ رہے ہیں تو ایسے ہی مجھے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے نئے نویلے صدر میاں منظور وٹو کی کارکردگی بنتی نظر آنے لگی ہے۔ اس منصب پر اپنے تقرر کے چند روز بعد انہوں نے اپنے دیرینہ ساتھی منیر احمد خاں کی وساطت سے میڈیا سے متعلق اپنے چند دیرینہ دوستوں کے ساتھ ایک گپ شپ مجلس کا اہتمام کیا۔ ان کے نئے منصب پر تقرر کے معاملہ میں تو الگ بحث ہوئی جس پر ہر دوست نے اپنی رائے کا اظہار کیا جبکہ خود میاں منظور وٹو نے ہر دوست سے اس بارے میں رائے حاصل کی کہ موجودہ حالات میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو کیا کردار ادا کرنا چاہئے، وہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی رولنگ کے باوجود دصدر مملکت اور پارٹی شریک چیئرمین کے دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں یا ان میں ایک عہدہ چھوڑ دیں؟ اگر انہیں ایک عہدہ چھوڑنا پڑے تو کونسا چھوڑیں اور اگر دونوں عہدے اپنے پاس رکھ کر وہ سیاست کرینگے تو انہیں نقصان کتنا ہو گا اور فائدہ کتنا، دوستوں کی غالب اکثریت کا یہی خیال تھا کہ صدر زرداری جب تک اپنے بچوں کو ساتھ لے کر عوام کے پاس نہیں جائیں گے آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ ا س اکثریتی سوچ کے منطقی نتیجہ میں صدر محترم ایوان صدر سے نکلتے ہیں تو ظاہر ہے صدر مملکت کا منصب چھوڑ کر ہی وہ ایسا کر پائیں گے، چنانچہ دو عہدوں میں سے ایک عہدہ چھوڑنے کے معاملہ پر اس مجلس کا اجتماعی مشورہ صدر مملکت کا منصب چھوڑنے کا تھا۔ میاں منظور وٹو نے اپنی پراسراریت کو برقرار رکھتے ہوئے صرف ”ہنٹ“ دیا کہ آج شام ان کی صدر مملکت سے ملاقات ہے، وہ انہیں آج کی مجلس کی ساری کتھا سنا دیں گے، فیصلہ ان کا اپنا ہو گا، اسی مرحلے پر صرف ایک رائے یہ موصول ہوئی کہ یہی تو سیاست ہے۔ صدر دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں اور عوام کے پاس بھی پہنچ جائیں۔ اس لڑائی میں انہیں متوقع نقصان سے زیادہ فائدہ ہو گا۔ اس کے بعد صدر مملکت کے پبلک جلسوں کے پروگرام سامنے آئے، ایک جلسہ ہو بھی گیا اور اب وہ خیبر پی کے اسمبلی میں بھی ایوان صدر میں بیٹھے بیٹھے نہیں بلکہ بنفس نفیس پہنچ گئے ہیں اور ایسی ”دلپذیر“ باتیں کر آئے ہیں کہ ان پر یقین نہ کرنے والے ہی پچھتائیں گے کیونکہ صدر محترم تو ظفر اقبال کے اس شعر کے معیار پر پورے اترتے نظر آتے ہیں کہ

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے

صاحب کردار کا ایک وصف تو صدر مملکت کے لئے سیاسی عہدے کی ممانعت کے آئینی تقاضے اور سپریم کورٹ کی رولنگ کے باوجود دونوں عہدے اپنے پاس رکھ کر عوام کے پاس آنے کی صورت میں کھلا ہے اور دوسرا وصف اپنی ہر بات کو سچ تسلیم کرانے والا بھی اب کھل رہا ہے۔ سو میاں منظور وٹو خوش اور مطمئن ہونگے کر ان کی اجتماعی مشاورت میں ایک تنہا سوچ کو غالب کرکے جمہوریت کا حسن دوبالا کر دیا گیا ہے۔ مگر حضور والا، تاریخ کا پہیہ الٹا گھما کر بھی جھوٹ کو سچ میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ سو صدر مملکت جرنیل کو وردی اتارنے پر مجبور کرنے کا کریڈٹ بھی اپنے کھاتے میں ڈالیں گے تو تاریخ کی حقانیت ان پر خندہ زن نظر آئے گی۔ اس لئے

نہ تم سمجھے نہ ہم آئے کہیں سے
پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے

اور یہ سارے مناظر چار پانچ سال پیچھے کے ہی تو ہیں۔ فرعونیت کی تصویر بنے جرنیلی آمر کی وردی تو ان کے جسم کا حصہ بنی ہوئی تھی۔ صدر محترم فرماتے ہیں کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ نہ ہوتی تو جنرل کبھی وردی نہ اتارتا جبکہ ایک جمہوریت اور پارلیمنٹ تو اسی جرنیلی آمر کی ایجاد کردہ تھی جس میں بیٹھی ان کی کٹھ پتلیاں ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان کر رہی تھیں کہ ہم اگلی دس ٹرموں کے لئے بھی اسی جرنیلی آمر کو باوردی صدر منتخب کرائیں گے۔ اگر یہی ماحول رہتا تو کیا ان کی وردی اترنے کی نوبت آتی۔ یہ انقلاب تو 9مارچ 2007ءکو چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کے اسی جرنیلی آمر اور ان کے باوردی ساتھیوں کے روبرو جرا¿ت انکار کے مظاہرے سے برپا ہوا تھا۔ جو سول سوسائٹی کی یادگار تحریک کے دھارے میں تبدیل ہو کر جرنیلی فرعونیت کے پاﺅں میں لرزہ طاری کرنے کے باعث بنی۔ انہوں نے دوسری ٹرم کے لئے خود کو باوردی صدر منتخب تو کرا لیا مگر جرات انکار والے انقلاب نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا، وہ ڈانواں ڈول ہو کر اپنے لئے کسی سیاسی سہارے کے متلاشی تھے تو صدر محترم کی پارٹی کی قیادت نے ہی انہیں سہارا دیا اور ان کے ساتھ این آر او کرکے ان کی کپکپاہٹ دور کی، اگر ان کی کٹھ پتلی پارلیمنٹ انہیں اگلی دس ٹرموں کے لئے باوردی صدر منتخب کرانے کا عہد کر رہی تھی تو پیپلزپارٹی کی قیادت نے ان کے ساتھ این آر او کرکے ان کے باوردی اقتدار کو تسلیم کیا اور پھر 18فروری 2008ءکے انتخابات کے بعد اس باوردی جرنیلی آمر کے ہاتھوں اپنی پارٹی کے وزیراعظم اور وفاقی وزراءکا حلف بھی دلوایا۔ انہوں نے وردی اتاری تو 2008ءوالی پارلیمنٹ کے دباﺅ پر نہیں بلکہ اپنے کسی خوف کی بنیاد پر کہ سول سوسائٹی کی تحریک ان کے لئے بدستور ڈراﺅنا خواب بنی ہوئی تھی۔ پھر ذرا اس کے بعد کا معاملہ بھی تو دیکھ لیجئے۔ جرنیلی آمر کو پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک کے وقت ضرور پارلیمنٹ کے دباﺅ کا سامنا تھا مگر اس دباﺅ میں پیپلزپارٹی کا اپنا کتنا وزن تھا؟ بھلا حقائق تاریخ سے چھپائے جا سکتے ہیں۔ اپنے ہاتھ پاﺅں کٹوانے اور بتیسی نکلوانے کے بعد ہی جرنیلی آمر جب ایوان صدر سے باہر جانے پر مجبور ہوئے تو انہیں ریڈ کارپٹ اور مارچ پاسٹ کی سلامی کے ساتھ کس نے ایوان صدر سے رخصت کیا۔ پھر بتایئے کہ جرنیلی آمر کے وردی اتارنے پر مجبور ہونے میں آپ کا کتنا اور کیا کردار ہے۔ یہ ویسا ہی کارنامہ ہے جناب، جیسا آپ کے ہاتھوں پارلیمنٹ کی آئینی معیاد پوری ہونے کا سرانجام پا رہا ہے۔ جمہوریت کو عوام کے لئے متعفن بنانے کے اس کارنامے کی بدولت ہی تو آج عوام سلطانی جمہور کا جرنیلی آمریت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے جرنیلی آمریت کے گن گا رہے ہیں اور جرنیلی آمر کو مزے کے ساتھ ملک سے باہر بیٹے کلکاریاں مارنے کا موقع حاصل ہو رہا ہے۔ سو عوام کے ہاتھوں دفن کی گئی جرنیلی آمریت کے تن مردہ میں نئی روح پھونکنے کا کریڈٹ آپ لینا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ، ہم بھلا کون ہوتے ہیں آپ سے یہ کریڈٹ چھیننے والے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com