جرنیلی اعترافات کا موسم
Nov 20, 2012

 اپنی غلطیوں کے اعتراف اور قوم سے معافی مانگنے کی نوبت آ ہی گئی ہے تو جناب دل مزید وسیع کریں۔ لال مسجد میں جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو بے دردی سے شہید کرانے والے اپنے آپریشن کو بھی اپنی غلطیوں میں شمار کریں اور قوم سے ہی نہیں، گڑگڑا کر خدا کے حضور بھی معافی کے خواستگار ہوں۔ بزرگ بلوچ لیڈر نواب اکبر بگٹی بھی آپ کے انا پرستانہ آپریشن کی بھینٹ چڑھ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کے لئے تو آپ اپنے عنفوان اقتدار میں بڑھک بھی لگا چکے تھے کہ انہیں کوئی ایسی چیز آ کر ہٹ کرے گی کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور وہ اس جہان سے گذر جائیں گے۔ پھر ان کے قتل کی ایف آئی آر میں ملزم نامزد ہونے پر پھانسی کا پھندہ گردن کی جانب لپکتا نظر آیا تو صاف مکر گئے۔ بال نوچنے کے انداز میں چلاتے پائے گئے ”نہیں۔ ان کے قتل میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے“ حضور والا! آپ کے لئے اعترافات کا موسم آ گیا ہے تو نواب بگٹی کے قتل والی غلطی کا اعتراف کر کے اپنے ضمیر کو بھی مطمئن کر لیں ورنہ یہ خلش ناسور بن کر آپ کے لئے پھانسی کے پھندے سے بھی بڑی سزا بن جائے گی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس کی غلطی کا آپ پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں۔ اللہ کرے کہ آپ اب 9 اکتوبر 1999ءوالے جرنیلی شب خون کی سفاک غلطی بلکہ سنگین جرم کے اعتراف کی راہ پر بھی آ جائیں کہ اس سے آنے والے بُہتوں کا بھلا ہو گا۔ منتخب جمہوری حکمرانوں کے خلاف ماورائے آئین اقدامات والا خناس دل میں پالے رکھنا کوئی اچھے انسانوں کی سرشت والا کام تو نہیں ہے۔ ایسے شب خون مارنے والوں میں اب آپ ہی تو وہ زندہ جرنیلی آمر اس وقت موجود ہیں جن کے اعتراف سے آنے والوں کو عبرت حاصل ہو سکتی ہے اس لئے جی کڑا کر کے اب اعترافات کے موسم میں سب کچھ کر گذرئیے۔ اپنے دل کا بوجھ بھی ہلکا کیجئے اور خود نشانِ عبرت بن کر سسٹم کے استحکام کی ضمانت بھی فراہم کر دیجئے۔ آپ کے گناہ بھی دھل جائیں گے اور ملک کے مستقبل کی بھی کوئی اچھی راہ نکل آئے گی۔

ابھی دشمن کو مارنے والا جو مُکا آج آپ کو ”ہندوستان ٹائمز کی لیڈرشپ کانفرنس“ میں خطاب کے دوران یاد آیا ہے اگر یہی مکا آپ نے اپنے غرورِ بابری والے یکا و تنہا اقتدار کے دوران دشمن پر آزمایا نہ سہی، اسے دکھایا ہی ہوتا تو آپ کے جانشین حکمرانوں کو اس دشمن کو اپنا پسندیدہ ترین قرار دینے کی مجبوری کیوں لاحق ہوتی۔ آج آپ کو احساس ہوا ہے کہ پاکستان تو کشمیر، پانی اور سیاچن سمیت تمام تنازعات کا حل چاہتا ہے۔ مگر بھارت ان تنازعات کے حل میں مخلص نہیں۔ اگر یہی احساس آپ کو ہر مسئلہ کے حل کی قدرت رکھنے والے آپ کے اقتدار کے دوران ہوا ہوتا تو آج ہماری شہہ رگ کشمیر کا ہمارے ساتھ الحاق نہ ہو چکا ہوتا؟ اور ہمارے حصے کا سارا پانی کشمیر سے گذر کر ہمارے کھیتوں کو سیراب نہ کر رہا ہوتا؟ کیا آج کسی بھارتی بنئے کو جرا¿ت ہوتی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ اور آزادکشمیر کو ہمارا مقبوضہ قرار دے کر ہمارے ساتھ کسی نئے فساد کی راہ ہموار کرے اور کیا کسی بھارتی سینا پتی کے اس ہزیان کی نوبت آتی کہ سیاچن سے بھارتی فوج کسی صورت واپس نہیں بلائی جائے گی۔ ارے، آپ تو اس وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔ اپنے موجودہ جانشین حکمرانوں سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ اس دشمن بھارت کی جانب بگٹٹ دوڑے چلے جا رہے تھے۔ آگرہ میں آپ کا منہ پھیر کر بیٹھے واجپائی سے ٹاکرا ہوا تو ”پیا“ کو منانے کے جتن میں آپ نے بھارت کے ساتھ کمپوزٹ ڈائیلاگ کے دروازے کھول دئیے اور اسی پر ہی اکتفاءنہ کیا، اپنی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کا چار نکاتی یکطرفہ فارمولا بھی پیش کر دیا جس میں آپ نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضہ مستقل کرنے کی راہ بھی دکھا دی۔ چنانچہ آپ کی وارفتگی نے منحنی منموہن کو یہ درفنطنی چھوڑنے کا موقع فراہم کیا کہ میری خواہش تو ناشتہ امرتسر، لنچ لاہور اور ڈنر پشاور میں کرنے کی ہے۔ آپ نے تو دشمن کے پرِ پرواز میں مقبوضہ کشمیر تک ہی نہیں، ہمارے پنجاب سے سرحد تک اڑان بھرنے کی طاقت بھی بھر دی تھی۔

آپ اپنی ریاستی طاقت و اختیار کی بدولت چاہتے تو دشمن سے اپنی شہہ رگ کشمیر کا قبضہ چھڑانے کے لئے اپنی ایٹمی قوت کے زور پر اس کے اوسان خطا کر دیتے اور ملک کے مستقبل کو محفوظ بنا لیتے۔ مگر آج طاقت و اختیار کا نشہ ہرن ہوا ہے تو آپ کو احساس ہوا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل میں مخلص ہی نہیں ہے۔ اب آپ کو یہ احساس بھی ہے کہ بھارت افغانستان کو پاکستان مخالف بنائے رکھنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ بھئی! ڈنک مارنا جس کی سرشت میں شامل ہو، وہ اپنی اس حرکت سے باز کیسے رہ سکتا ہے۔ آپ اپنے عہدِ اقتدار میں چاہتے تو امریکی بیساکھیوں پر کھڑے کرزئی کو بھارتی جال سے بچنے کے گُر بتا دیتے مگر اس وقت تو آپ کرزئی کے شانہ بشانہ امریکی مفادات کے تحفظ کی کوششوں میں مگن تھے اور آپ کو یہ احساس تک نہیں ہو پا رہا تھا کہ موقع کی تاک میں بیٹھا ہمارا شاطر دشمن بھارت افغانستان میں اپنے پاﺅں پسارے ہوئے ہماری سلامتی کے خلاف سازشوں کے جال بُننے میں مگن ہے۔ تو حضور والا! مشرفی آمریت کی غلطیاں آج آپ کو اعتراف کی راہ پر لے آئی ہیں تو اب کسی غلطی کے اعتراف میں ڈنڈی نہ ماریں اور لگے ہاتھوں اپنے جانشین حکمرانوں کو بھی اپنے تجربات کی روشنی میں اس حقیقت سے آگاہ کر دیں کہ جس سانپ کو دودھ پلا کر وہ موٹا تازہ کر رہے ہیں وہ ہمیں ڈسنے سے کبھی باز نہیں آئے گا اس لئے اس کے ساتھ دوستی اور تجارت کے سہانے سپنوں سے باہر نکل کر حقیقت کی دنیا میں آئیں اور یہ ٹھان لیں کہ دشمن سے اپنی شہہ رگ کشمیر کا قبضہ چھڑانا ہی ہماری بقاءہے۔ وہ کشمیر کا تنازعہ حل کرنے میں مخلص نہیں تو ہم اس کے ساتھ دوستی نبھانے میں کیوں مخلص ہیں۔ پھر جرنیلی آمر مشرف کا اظہارِ احساسِ گناہ ہماری سلطانی¿ جمہور کو اپنی غلطیوں کے اعادے سے روکنے کا باعث نہیں بننا چاہئے ؟

سوچ لیں تو یہ پتے کی بات ہے
ورنہ احساسِ زیاں رہ جائے گا
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com