کھنڈر میں مسیحائی
Nov 19, 2012

سیانوں کے تجربات کا نچوڑ تو یہی کہتا ہے کہ خدا کسی کو تھانے، کچہری اور ہسپتال کا منہ نہ دکھائے کہ ان تینوں مقامات پر شرف انسانیت کے ناطے آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی۔ سیانوں کے تجربات کا نچوڑ کبھی غلط نتیجہ تو اخذ نہیں کرتا اس لئے بالخصوص ہمارے معاشرے میں آج بھی تھانہ، کچہری اور ہسپتال خوف و وحشت کی علامت بنے نظر آتے ہیں۔ مگر میرا تجربہ یہی سبق دیتا ہے کہ خرابی کسی سسٹم یا ادارے میں نہیں ہوتی۔ انہیں چلانے والوں کے ذہنوں میں موجود خناس ان کی بدنامی اور بربادی کا باعث بنتا ہے۔ ادارہ بھی وہی ہو گا اور سسٹم بھی وہی ہو گا مگر ان کی باگ ڈور کسی نیک نام اور فرشتہ صفت انسان کے ہاتھ میں ہو گی تو وہی ادارہ اور وہی سسٹم خلق خدا سے اپنے لئے دعائیں سمیٹتا اور کامرانی و کامیابی کی منازل طے کرتا نظر آئے گا۔ اس لئے بدلنے کی ضرورت ہے تو کسی بے جان اور بے روح ادارے یا نظام کو نہیں، انسانی رویوں، ذہنیت اور ظاہری کروفر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انسانوں کے لئے وبال جان بنا ادارہ اور نظام خود بخود ان کے لئے نعمتِ غیر مترکبہ میں تبدیل ہو جائے گا۔
مجھے اتفاقاً گذشتہ تین راتیں لاہور کے سب سے بڑے اور قدیم ترین میو ہسپتال میں گزارنے کا موقع ملا۔ بیٹے شعیب سعید کو پتّے کی سرجری کے لئے ہسپتال داخل کرایا تو مناسب دیکھ بھال کی خاطر مجھے خود بھی اس کے ساتھ ہی مقیم ہونا پڑا۔ سرکاری ہسپتالوں میں عام آدمی کے لئے علاج معالجہ کی سہولت کو تصور میں لانا بھی سہانا خواب دیکھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ چنانچہ جہاں دکھی انسانیت کی خدمت کر کے ثواب سمیٹے جانے چاہئیں وہاں دکھی اور مجبور انسانوں کے لئے سوائے عذاب سمیٹنے کے اور کوئی وسیلہ نہیں بن پاتا۔ سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں قائم اس پختہ تاثر کی موجودگی میں اگر کوئی سرکاری ہسپتال فی الواقع بے وسیلہ اور مجبور انسانوں کے درد بانٹنے اور سمیٹنے اور شفایابی کی تاثیر کو عام کرنے والی مسیحائی کے باعث فلاحی معاشرے کے تصور کو اجاگر کر رہا ہے تو یہ اس ہسپتال کی ساز و سامان سے مزین کسی بے جان عمارت کا نہیں، اس عمارت کا نظم و نسق چلانے والے ہاتھوں کا کرشمہ ہے۔ اگر کسی خوبصورت دھڑ میں روح نہ پھونکی گئی ہو تو اس کی خوبصورتی بھی وحشت کی علامت بن جائے گی اور اگر کسی کھنڈر میں امید بہار کے دئیے جلائے رکھنے کا اہتمام موجود ہو تو اس کی وحشت بھی خوشیاں بکھیرتی نظر آئے گی۔ جیسے

دل اگر خوش ہو تو ویرانوں کے سناٹے بھی گیت
ہو اگر ناخوش تو شہروں میں بھی تنہائی بہت

یہ معاملہ حقیقت کے رنگ میں دیکھنا ہو تو آج کے کھنڈر بنے میو ہسپتال میں رواں دواں زندگی میں طمانیت قلب کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ مجھے خود بھی گذشتہ سال اور موجودہ سال ڈینگی کی زد میں آ کر میو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا اور اب بیٹے کے علاج معالجہ کے سلسلہ میں اس ہسپتال میں آ کر یہاں کی جزئیات تک کے مشاہدے کا موقع ملا تو اس کے ناطے مسیحائی کی تاثیر کا مزید قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ بقول پروین شاکر

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

میو ہسپتال اس مسیحائی کا شاہکار نظر آتا ہے۔ جہاں علاج کے لئے آئے عام آدمی اور بے وسیلہ انسانوں کو بھی اتنا ہی پروٹوکول ملتا ہے جتنے پروٹوکول کا اشرافیہ حکمران طبقات، اعلیٰ درجوں پر فائز بیورو کریٹ، جج، جرنیل اور خود کو ان کی قبیل کا سمجھنے والے جرنلسٹ بھی اپنے اور اپنے عزیز و اقارب حتٰی کہ اپنے چھوٹے موٹے ملازمین کے علاج معالجہ کے سلسلہ میں تقاضہ کرتے ہیں۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر زاہد پرویز کے معاملہ میں تو مجھے بہت خوشگوار تجربات حاصل ہوئے ہیں۔ ان سے جب بھی فون پر رابطہ کیا وہ ہسپتال میں اپنے آفس میں یا کسی نہ کسی وارڈ کے راﺅنڈ پر پائے گئے۔ ”یہ ممکن نہیں“ کے لفظ سے تو شائد وہ آشنا ہی نہیں۔ گذشتہ سال راﺅنڈ پر روزانہ میری عیادت کرنے آتے تو محسوس ہوتا کہ وہ صرف مجھے پروٹوکول دے رہے ہیں مگر وہ اسی طرح روزانہ اے وی ایچ کے ہر کمرے میں اور ہسپتال کے ہر وارڈ میں مریضوں کی عیادت کرتے ہیں اور اپنی افسری کسی پر جھاڑتے نظر نہیں آتے۔ ہر مریض کی بات خندہ پیشانی سے سنتے اور اس کی شکایت دور کرنے کے احکام موقع پر ہی جاری کرتے ہیں۔ پھر ایسا ہی تجربہ مجھے اے وی ایچ کے رجسٹرار ڈاکٹر راﺅ عدنان شاہد کے معاملہ میں بھی حاصل ہوا جو اپنے پاس آنے والے ہر مریض کے ساتھ خود جا کر اس کے ٹیسٹوں اور علاج معالجہ کے مراحل طے کراتے پائے جاتے ہیں۔ یہ مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی کا تمغہ حاصل کرنے کے مستحق ہیں تو اتنا ہی ڈسپلن کے معاملہ میں سخت گیر بھی نظر آتے ہیں اگر کسی کمرے یا وارڈ میں صفائی میں غفلت پائی جائے تو متعلقہ سٹاف یا کارکن ان کے غضب سے نہیں بچ سکتا۔ ظاہر ہے، ڈسپلن تو اسی طرح قائم رکھا جا سکتا ہے۔ پھر برادرم سلیم بخاری صاحب کے ناطے ہسپتال کے ساﺅتھ سرجیکل وارڈ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خالد گوندل سے تعلق واسطہ بنا تو وہ کہنے کو نہیں، عملاً فرشتہ صفت نظر آئے۔ فریضہ¿ حج سے واپس لوٹے تو مجھے خود فون کر کے اپنی آمد کی اطلاع دی اور مجھے اہلیہ اور بیٹے کو چیک اپ کے لئے فوراً لانے کا حکم صادر کیا۔ بیٹے کا آپریشن طے ہو گیا اور اہلیہ کو دو ماہ کی فزیو تھراپی کا کورس بتا بھی دیا اور ساتھ ہی اپنے بھانجے ڈاکٹر جنید کی ڈیوٹی بھی لگا دی کہ آپ ان کی روزانہ فزیو تھراپی کے ذمہ دار ہیں، بیٹے کا آپریشن کرتے ہی رائے ونڈ تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لئے چلے گئے مگر اپنے کولیگ ڈاکٹر یار محمد کو مناسب دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپ گئے۔ یہ ڈاکٹر صاحب اپنے ”گرائیں“ نکلے تو تعلق خاطر اور بھی دو چند ہو گیا۔ پروفیسر گوندل تبلیغی اجتماع سے واپس آئے تو فون کر کے بیٹے کی خیریت معلوم کی۔ میں تو خود کو ان کے احسانات کے بوجھ تلے دبا محسوس کر رہا تھا مگر عقدہ کھلا کہ یہ اللہ کے پیارے بندے اپنے ہر مریض کی اسی طرح نگہداشت کرتے ہیں۔ ایک دوسرے معروف سرجن پروفیسر خالد جاوید سے ربط بندھا تو وہ بھی اتنے ہی ملنسار اور اتنے ہی اللہ والے نظر آئے۔ اور پھر وائس چانسلر علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم تو تمام انسانی اوصاف کا مرقع و مجسمہ نظر آتے ہیں۔ جب بھی کسی مریض کو علاج معالجہ کے سلسلہ میں انہیں ریفر کیا وہ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ برادر مکرم ڈاکٹر اجمل نیازی ہسپتال میں رات آٹھ بجے کے قریب بیٹے کی عیادت کے لئے آئے تو بتایا کہ میں ابھی ڈاکٹر اسد اسلم سے اپنی آنکھوں کا معائنہ کرا کے آیا ہوں۔

”وہ آپ کو کہاں ملے“
”یہیں ہسپتال میں موجود ہیں“

ڈاکٹر اجمل نیازی کے فوری جواب پر میرا ذہن مسیحائی کے سہانے تصورات میں کھو گیا۔ جس ادارے کے سربراہ مسیحائی کی خاطر اپنا دن رات ایک کئے ہوں اس کے ساتھ کسی وحشت کو منسوب کرنا ہرگز اچھا فعل قرار نہیں پا سکتا، چاہے، ایسا کسی ضرب المثال کو درست ثابت کرنے کے لئے ہی کیوں نہ کیا جائے۔

ایکڑوں میں پھیلا میو ہسپتال عملاً کسی کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس قدیم ترین ہسپتال کی خستہ حال عمارت ان حکمرانوں سے رحم کی بھیک مانگ رہی ہے جن کے اپنے اہل و عیال تو معمولی سے مرض کے علاج کے لئے بھی بیرون ملک کے مہنگے ترین ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں مگر انہیں کمی کمین عوام الناس کو علاج معالجہ کی سہولتیں دینے والے اپنے ملک کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت سنوانے کا کبھی خیال تک نہیں آتا۔ ابھی سنا ہے کہ پنجاب حکومت نے پورے میو ہسپتال کو گرا کر اربوں روپے کی لاگت کے تخمینے پر مبنی پورے ہسپتال کی ازسرنو تعمیر کی منصوبہ بندی کی ہے۔ ڈاکٹر عدنان شاہد بتا رہے تھے کہ سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید محمود نے محض 25، 30 کروڑ روپے کی لاگت سے اس ہسپتال کی قدیم خستہ عمارتوں کی تعمیر و مرمت اور آرائش کا منصوبہ بنایا تھا جو ان کے جانے کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا۔ اب رادھا کے ناچنے کے لئے 9 من تیل کا اہتمام کیا جا رہا ہے مگر یہ مرحلہ آتے آتے غریب و نادار مریضوں کا تیل ضرور نکل جائے گا۔ ”وال سٹی“ کی زینت میو ہسپتال میں انسانیت کے دکھ بانٹنے والے مسیحاﺅں کی ہرگز کمی نہیں، کمی ہے تو اس عزم کی جو کسی ادارے پر لگے وحشت ناکی کے لیبل کو اتارنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ آپ ڈینگی سیمیناروں میں صرف اپنی بیورو کریسی کی کارکردگی کے قصے سن کر ہی خوش نہ ہوا کریں۔ آپ کو صوبے میں ڈینگی مکاﺅ مہم کی کامیابی کا کریڈٹ ملا ہے تو یہ کھنڈر بنے ہسپتالوں میں دن رات ایک کر کے مسیحائی کا فریضہ ادا کرنے والے ڈاکٹروں اور خدمتِ خلق کا عملی نمونہ بنی نرسوں کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ یہ اپنے ماحول میں خوش اور مطمئن ہوں گے تو مریضوں کے شفایاب ہونے کا اہتمام آپ کے کریڈٹ کو بھی ساتھ ہی ساتھ بڑھاتا جائے گا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com