چوہا کھُسر پھُسر اور بڑھکیں
Nov 12, 2012

شائد مقبولیت اور مظلومیت کو ایک دوسرے میں خلط ملط کر کے آنے والے سیٹ اپ کی ممکنہ ترتیب بنائی گئی ہے مگر اس کا نقد منافع تو صرف پیپلز پارٹی کے ہاتھ آ رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں اصغر خاں کیس کے فیصلہ تک ہر گیلپ سروے کی رپورٹ پیپلز پارٹی کی لٹیا ڈبوتی نظر آتی تھی۔ اس کی مقبولیت کا گراف ہماری بے وقعت ہونے والی کرنسی کی شرح سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ نیچے کھسکتا دکھایا جاتا اور یار لوگوں کی باچھیں کھل جاتیں۔ سہانے سپنے لوریاں بن کر میٹھی نیند کو دعوت دیتے نظر آتے اور بغلیں بجانے والوں کا شوق دیدنی ہوتا مگر اصغر خاں کے فیصلہ نے تو گویا کایا ہی پلٹ دی ہے۔ 90ءکا الیکشن چرائے جانے والی عدالتی تصدیق نے جان کنی کے عالم میں پڑی اس پارٹی کی مقبولیت کے ساتھ مظلومیت کا ٹانکا جوڑ کر اس کے لئے پھر سے ہواﺅں میں اڑنے اور اس کا دل بلیوں اچھلنے کا وافر اہتمام کر دیا ہے۔ پھر بھی عدلیہ کے کان مروڑنے کی حکمتِ عملی؟ ارے خوش بختو۔ اب تو ڈنگ مارنے کی علت سے درگذر کر لو۔ مگر وہ بچھو ہی کیا جو سیلابی تھپیڑے سے بچا کر باہر لانے والے محسن کو بھی ڈنگ مارے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ مظلومیت کا سرٹیفکیٹ دینے والے محسن کا گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملیوں کے آج بھی ڈنکے بجتے نظر آ رہے ہیں۔

گذشتہ روز سابق صدر سپریم کورٹ بار محمد اکرم شیخ کے صاحبزادے کی دعوت ولیمہ کے موقع پر بھی یہی ایک موضوع گرم بلکہ گرما گرم تھا۔ یہ تقریب اعلیٰ عدلیہ، ہر درجے کے وکلائ، ہر قبیل کے سیاستدانوں اور ہر بولی بولنے والے سیاسی تجزیہ کاروں کے رونق میلے کے لئے سجائی نظر آتی تھی۔ ایک بزرگ جیالے نے کھانے کی میز کی طرف جاتے ہوئے موقع پا کر میرے کان میں کھجلی نما سرگوشی کی۔ ”آپ کو معلوم ہے۔ اب کا حملہ بے شمار جانثاروں کے چیف پر کارگر ثابت ہو گا“ میں نے اس بے وقت کی راگنی سے پہلو بچانے کی کوشش کی مگر وہ بزرگ تو کمبل کی طرح لپٹتے ہی چلے گئے۔ میں نے زچ ہو کر استفسار کیا ”یہ حملہ کس رنگ ڈھنگ کا ہو گا جناب“۔ بزرگ جیالے نے آنکھیں نشیلی کرتے ہوئے نعرہ مارنے کے انداز میں کھسر پھسر کی، ”ریفرنس۔ جناب ریفرنس“۔

۔”ارے حضرت۔ جرنیلی آمر کا ریفرنس پھندہ نہیں بن سکا تو آپ کس باغ کی مولی ہو“ ”حضور، وہ تو جرنیلی آمر تھا جس کے پاﺅں زمین پر جمے ہی نہیں ہوتے چنانچہ ریفرنس لانے کے بعد عوامی ریلوں کو عدلیہ کی پشت پر کھڑا دیکھ کر اس کے پاﺅں زمین کے ساتھ جُڑ ہی نہ سکے۔ اور اس نے خود کو گرنے سے بچانے کی خاطر عدلیہ کی جانب سے لپیٹ کر واپس بھجوایا گیا ریفرنس بریف کیس میں بند کر چھوڑا تھا۔ مگر ہمارے ریفرنس کا یہ انجام نہیں ہونے والا۔ اب بے شمار جانثاروں کے چیف کے لئے ڈھال بننے کی نوبت نہیں آئے گی۔ جناب، وار پکا کر کے لگایا جا رہا ہے۔ سجاد علی شاہ والی انہونی پھر کیوں نہیں ہو سکتی؟“ میرے موقف کا تگڑا جواب خوشی کے اظہار کی صورت میں دیتے ہوئے بزرگ جیالے کا سانس پھول گیا مگر وہ اس شعر کو بااصرار حقیقت کے قالب میں ڈھالتے نظر آئے کہ

میں نے کہا کہ بزم ناز چاہئے غیر سے تہی
سن کر ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یُوں

بھئی یہ تو بزور ریفرنس اپنے محسن کو اٹھوا کر ڈنک مارنے کی علت پوری کرنے پر تلے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ میں گھر واپس پہنچنے تک کوئی نتیجہ اخذ کرنے کے لئے خیالات کے تانے بانے بنتا رہا۔ آخر کون سا الزام ایسا باقی رہ گیا ہے جو بے شمار جانثاروں کے چیف پر اب تک نہیں لگ پایا۔ بزرگ جیالے نے بھی اس معاملہ میں میری کوئی مدد نہیں کی تھی۔ بس اس نے تیر ہوا میں چھوڑ دیا۔ اب یہ کسی نہ کسی کو گھائل کر کے ہی واپس لوٹے گا۔

صبح کے اخبارات کا مطالعہ کیا تو جانثاروں کے لئے چیف کا یہ پیغام پڑھ کر دل کبوتر کی طرح غٹرغوں کرنے لگا۔ ”آج کسی میں جرا¿ت نہیں کہ وہ سسٹم کو چلنے نہ دے۔ اگر کسی کو شک و شبہ ہے تو اصغر خاں کیس کا فیصلہ عوام کے سامنے ہے۔ وہ اسے پڑھ لے“۔ چیف کے ان ریمارکس نے گذشتہ روز کی ایک اور رازدارانہ چوہا نشست کے اہتمام کا پس منظر دکھانا شروع کر دیا۔ میڈیا سے متعلق سرکاری اداروں کے ذمہ دار حکام بھی خود کو سیاسی الٹ پھیر کے اس کھیل کے کھلاڑیوں میں شامل کر کے رازداری کا ماحول پیدا کرتے اور ”نادانستگی“ میں اپنے باس کے لئے سازگار ماحول کے اہتمام میں مگن نظر آتے ہیں تو بے شمار جانثاروں کے چیف پر کسی ریفرنس کی شکل میں حملہ آور ہونے کی بزرگ جیالے کی بیان کردہ حکمت عملی پر کیوں نہ یقین ہی کر لیا جائے، کیسے بھلے وقت میں اصغر خاں کیس کے فیصلہ کے ذریعہ اکھڑی سانسوں والے نیم مردہ جسم میں نئی روح پھونک کر اس کے کلکاریاں مارنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کھیل میں سارے گندے اور بس ایک پوتّر۔ اتنا قیمتی ہتھیار ناراض جیالوں اور کھسکنے والے عوام الناس کا دل جیتنے کے لئے ہاتھ آ گیا ہے کہ اسے شیرینی بنا کر ہاتھوں ہاتھ بانٹا جا رہا ہے۔ قمر الزمان کائرہ کو تو گویا اپنی اہمیت کو دوچند کرنے کا نسخہ دستیاب ہو گیا ہے۔ سو وہ ڈھولچی کا کردار ادا کرتے ہوئے 90ءکے انتخابات کی ایوان صدر والی حکمت عملی کو اصغر خاں کیس کے فیصلہ کے مندرجات سے نکال کر پیپلز پارٹی کی مظلومیت کا ڈھنڈورہ پیٹتے نظر آتے ہیں۔ گذشتہ روز کی کھُسر پھُسر والی ”چوہا نشست“ بھی اصغر خاں کیس کے فیصلہ کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کی مظلومیت کو اجاگر کرنے کا اہتمام ہی نظر آئی۔ اور پھر سسٹم کی ڈھال بنے بے شمار جانثاروں کے چیف کی حوصلہ افزائی پر اپنے پیشرو جیسی نااہلی سے بچنے والے وزیراعظم راجہ صاحب کو بھی یہ بڑھک لگانے کا موقع مل گیا کہ وہ دن گئے، جب جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جاتی تھی۔ پھر بھائی صاحب، آپ ایسی بڑھکوں کی فضا ہموار کرنے والوں کے ساتھ وہ سلوک کرنا چاہتے ہیں، جو بادشاہ بادشاہ کے ساتھ کیا کرتا ہے؟

دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
پچھتاﺅ گے سنو ہو، یہ بستی اجاڑ کر
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com