اگلے بندوبست والوں کا منشور؟
Oct 30, 2012

آج ”مُنی“ کی طرح جمہوریت کی بدنامی کے چرچے بھی زبانِ زدعام ہیں۔ اور تو اور خطبہ¿ حج دیتے ہوئے مفتی اعظم سعودی عرب، شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے بھی جعلی جمہوریت کا حوالہ دیا تو ان کا روئے سخن بھی ہمارے جمہوری سلطانوں کی جانب ہی نظر آیا چنانچہ آج کوئی سماجی تقریب ہو، شادی و مرگ کا کوئی اجتماع ہو، کوئی مذہبی اکٹھ ہو، کہیں شکوہ شکایت کی کوئی کچہری لگی ہو یا کھانے پینے کی کوئی نشست ہو۔ لوگوں کو تو گویا زبان ہی لگ گئی ہے۔ ارے یہ جمہوریت اور یہ جمہوری حکمران، ان کے لچھن تو دیکھو، پھر ان تبروں کے ساتھ ہی کہیں کھسر پھسر کرتے ہوئے اور کہیں فلسفیانہ انداز میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے عام آدمی کی زبان درازی بھی اقتدار کے ایوانوں کی خبر لیتی اور جمہوریت کی بساط الٹائے جانے کی ”نوید“ سناتی نظر آتی ہے۔ کہیں آنکھوں ہی آنکھوں میں اور کہیں اشاروں کنایوں میں ایک ہی تجسس، ایک ہی سوال دل کے اطمینان کا باعث بننے والے کسی جواب کا منتظر نظر آتا ہے۔ جبکہ حالات حاضرہ کی تھوڑی بہت شُد بُد رکھنے والے افراد تو ایسے سوالات کی زد میں آئے جواب دیتے دیتے ”ہف“ چکے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں اور مفتی اعظم سعودی عرب کے ارشادات کے حوالے دے کر جمہوری نظام کے بے فیض ہونے کے بارے میں ”عوام الناس“ کو مطمئن کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں تو ان کی دانشوری کی دھاک بھی بیٹھتی نظر آتی ہے، اور تو اور مزدور طبقہ تھڑا ہوٹلوں پر نان چھولے کھاتے ہوئے ہر لقمے کے ساتھ جمہوری نظام کے چل چلاﺅ کے لقمے دیتا بھی نظر آتا ہے۔ باربر شاپس پر کٹنگ کرتے ہوئے حجاموں کے قینچی استرے کے ساتھ ان کی زبان بھی چلتی اور جمہوریت کے بال اتار کر اس کی ٹنڈ بناتی نظر آتی ہے۔ گذشتہ روز تو حد ہی ہو گئی خاکروب صبح صبح جھاڑو لگا رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ موبائل ٹیلی فون کان سے لگائے بلند آواز کے ساتھ جمہوریت اور جمہوری سلطانوں کے بخیئے بھی ادھیڑے جا رہا تھا، نہ جانے کون خوش بخت اس کا روئے سخن ہو گا مگر تمسخر اڑاتے اس کے الفاظ سن کر مجھے جمہوریت بی بی پر فی الواقع ترس آنے لگا۔

عیدالاضحٰی کے دو روز ایسی ہی بے باکیوں اور سفاکیوں کے نظارے کرتے گذرے ہیں اور سچ پوچھیں تو ان بے باکیوں کے نظاروں میں جمہوریت کی درگت بنتی دیکھ کر سلطانی¿ جمہور پر میرا یقین بھی ڈگمگانے لگا ہے۔ بھئی 90ءکی اسمبلیوں میں بیٹھے سیاستدانوں کے لچھّن اور موجودہ اسمبلیوں میں اقتداری بھائیوالوں کی جمہور (راندہ¿ درگاہ عوام) پر ”مر مٹنے“ والی پالیسیاں۔ جرنیلی آمریتوں کے ساتھ ان کا تقابلی جائزہ لیتے جاﺅ تو جمہوریت کے تن پر چیتھڑوں کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

تو جناب، ایسے نامراد جنون کا ہے علاج کوئی تو موت ہے۔ ذرا سوچ رکھئے، سلطانی¿ جمہور سے وابستہ عوام کا نامراد جنون اب کہیں اس کی موت کا اہتمام تو نہیں کر رہا؟

میں شش و پنج میں تھا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بات بے بات جمہوریت کی بساط الٹانے کی قدرت رکھنے والوں نے اب کی بار جمہوری سلطانوں کے ہاتھوں جمہوریت کے کفن دفن کا اہتمام ہونے کے باوجود کسی بھی نادر موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور صبر و استقامت کے ساتھ جمہوریت کے پانچ سال پورے ہونے دینے کے عہد پر کاربند رہے ہیں، تو اب جبکہ جمہوری اسمبلیوں کی آئینی میعاد پوری ہونے کی نوبت آیا ہی چاہتی ہے، جمہوریت کی بساط الٹانے کی قدرت رکھنے والوں کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑے۔ نہیں جناب۔ اب تو سلطانی¿ جمہور کے پانچ سالوں کی تکمیل اس کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔ پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے۔ ایک کرمفرما ”ٹائمنگ“ کی جانب متوجہ کر رہے تھے۔ میرا بے نیازانہ انداز دیکھ کر طاقت کے زور پر اپنی منطق مسلط کرنے پر اتر آئے۔ ”ارے آپ سمجھ کیوں نہیں رہے۔ آپ آئینی میعاد کی تکمیل ہوتے دیکھ کر مطمئن ہیں مگر اس کے بعد کے منظرنامے کا مشاہدہ بھی کر لیں“۔

”وہ کیسے؟“

میں نے حضرت کے غصیلے لہجے کی جانب بھی دانستاً توجہ دئیے بغیر انہیں چڑانے کی کوشش کرتا ہوا سوال داغ دیا۔

”ارے ٹائمنگ دیکھو۔ ٹائمنگ“۔ اس کا چہرہ کسی اندرونی جذبے کی غمازی کرتا ہوا لال بھبھوکا ہو گیا۔

”آپ تو بہت ہی نکھد ثابت ہوئے ہیں، تھوڑا سا سنجیدہ ہو کر حالات کا مشاہدہ کریں۔ دو جمع دو چار کی طرح آپ کو مستند جواب مل جائے گا، پوچھ پرتیت کرنے، ذہن پر زور دینے اور گویڑ لگانے کی بھی ضرورت نہیں، بس حالات حاضرہ کا مشاہدہ کر لیں۔ آپ کی خواہش کے مطابق سسٹم کی آئینی میعاد پوری ہونے چلی ہے جس کے ساتھ ہی جمہوری سلطانوں اور ان کے مدمقابل دوسرے اشرافیاﺅں نے عوام کے پاس جانا ہے اگلے مینڈیٹ کے لئے، مگر آپ ٹائمنگ دیکھو۔ عین اس موقع پر اگلے ”بندوبست والوں“ نے اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے“۔

”کون سا منشور“؟ میں نے حضرت کی ”دُور کی سُوجھی“ پر سنجیدگی سے توجہ دی تو بخدا مجھے 14 طبق روشن ہوتے دکھائی دئیے“۔ سلطانی¿ جمہور نے اپنی پانچ سالہ میعاد میں جمہور کو قبر میں اتارنے کا سامان کیا تو اگلے بندوبست والوں کا منشور ابھی سے ریلیف دے کر جمہور کو زندگی کی نوید بھی دے رہا ہے۔ اور یہی ٹائمنگ ہے جناب“۔ اس کرمفرما کو اپنی منطق وزنی ثابت کرنے میں قطعاً دِقت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تھا گویا اس نے مسمرائز کر لیا۔ ”پھر سیٹ اپ کیا ہے“۔ میرا تجسس اور بھی گہرا ہو گیا۔ ”چلیں آپ سیٹ اپ تک تو آئے۔ تو سمجھ لیجئے کہ جمہوریت کی پانچ سالہ آئینی میعاد پوری کرنے والوں نے اپنا عہد نبھا لیا۔ اس کے بعد عبوری نگران حکومت آئے گی تو یہی اگلے بندوبست والوں کی حکمرانی ہو گی۔ انتخابات کے بکھیڑوں میں کیا جمہور کو راندہ¿ گاہ بنانے والوں کو پھر سے مسلط ہونے کا موقع دے دیا جائے، اب یہ ورق پھاڑ دیجئے۔ سارا بندوبست ہو گیا ہے اور یہ بندوبست جمہور کے فائدے کا ہے“۔

کرمفرما تو میرے ذہن کو الجھا کر رفوچکر ہو چکے ہیں۔ اب جمہوری سلطانوں کے پاس سلطانی¿ جمہور کو سچا ثابت کرنے کی کوئی دلیل ہے تو جھٹ پٹ لے آئیں۔ ورنہ اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پی لینے کی نوبت آنے میں بھلا کوئی کسر رہ گئی ہے؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com