نوجوانوں کا اصل مسئلہ جاننے کا بیرو میٹر
Oct 25, 2012

آپ نوجوان ووٹروں کے دل جیتنے کیلئے ان کی خوشیوں اور رونق میلے کے ڈھیر سارے اہتمام کر رہے ہیں۔ ہر رونق میلے میں نوجوانوں کے جم غفیر آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں‘ آپ کی تان کے ساتھ تان ملاتے ہیں تو آپ کا دل بلیّوں اچھلنے لگتا ہے اور یہ سوچ کر آپ کو یک گو نہ اطمینان بھی ہوتا ہو گا کہ نوجوانوں کے مورچے میں سونامی کے تھپیڑے سے دخل در معقولات کرنے کی جو کوشش کی گئی تھی‘ آپ کے رونق میلوں نے اسے ناکام بنا دیا ہے۔ مگر ان نوجوانوں کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ آپ نے جاننے کی کوشش نہیں کی تو آپ اپنے اعلان کردہ پنجاب یوتھ انٹرن شپ پروگرام کیلئے الحمراءکے اوپن ائر کلچرل کمپلیکس میں سجائے گئے رونق میلہ میں خود تشریف بھی لے آتے تو پوسٹ گریجویٹ طلبہ و طالبات کے ہزاروں کے جم غفیر کے چہروں پر اس پروگرام کی منسوخی کے اعلان سے پڑنے والی سلوٹوں سے ان کے اصل مسئلہ سے آپ کو بخوبی ادراک ہو جاتا۔ یہ سب نوجوان بچے بچیاں اپنی اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں اپنے ہاتھوں میں اٹھائے پنجاب بھر سے اپنے والدین اور عزیز و اقارب کے ہمراہ لاہور آئی تھیں۔ لاہور اور اس کے مضافات سے بھی یقیناً ہزاروں طلبہ و طالبات اس رونق میلے کا حصہ بنے تھے جو طوفانِ بادوباراں کے باعث سج ہی نہ پایا۔ میرے اپنے اندازے کے مطابق اوپن ائر کلچرل کمپلیکس میں تقریباً 40 ہزار بچے بچیاں موجود تھیں جو اپنے ہردلعزیز خادمِ پنجاب کی کال پر ان کے ہاتھوں ماہانہ دس ہزار روپے کی سہہ ماہی انٹرن شپ کا حکمنامہ وصول کرنے آئی تھیں۔ کھلے آسمان کے نیچے دھکم پیل والے ماحول میں بیٹھے جب طوفانی تھپیڑوں کی گرد اور گرجتے بادلوں کی چھم چھم نے ان طلبہ و طالبات کو اپنی لپیٹ میں لیا تو انہوں نے کمالِ صبر و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھیگنا قبول کیا مگر بھاگنا مناسب نہ سمجھا۔ یہ سارا منظر اور ماحول دیکھ کر میرے حواس خطا ہو رہے تھے کہ کھچا کھچ بھرے اس کمپلیکس میں جہاں انٹرن شپ کیلئے آن لائن اپلائی کرنے والی پوسٹ گریجویٹ بچیوں کی تعداد زیادہ تھی‘ موسم کی تلخی میں کسی بدحواسی کی بنیاد پر بھگدڑ مچ جائے تو خدا کی پناہ‘ یہاں کیا ماحول بنے‘ اسی کلچرل کمپلیکس میں ایک نجی تعلیمی ادارے کے کنسرٹ کے دوران بھگدڑ کا ماحول پیدا ہونے پر چند ماہ قبل ہی چھ بچیاں پاوں تلے کچلی جا چکی ہیں۔ جبکہ یوتھ انٹرن شپ پروگرام کیلئے سجائے گئے اس میلے میں تو بچوں بچیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ بھگدڑ پیدا ہونے کی صورت میں خدا جانے کیا ہو جاتا۔ آفرین ہے ان بچوں بچیوں پر کہ انہوں نے تیزبارش اور آندھی میں بھیگتے ہوئے بھی مکمل ڈسپلن قائم رکھا اور اپنی نشستوں پر جمے بیٹھے رہے مگر تقریب کے منتظمین ان تمام بچوں بچیوں کو موسم کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود کو بھیگنے سے بچانے کیلئے محض کونوں کھدروں میں جا بیٹھے اور پھر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود احمد خاں کے ایماءپر شان بے نیازی سے اعلان کر دیا گیا کہ آج کا رونق میلہ بس یہیں ختم۔ اب دوبارہ عید کے بعد سجایا جائے گا۔ بھئی اگر پنجاب بھر سے اپنے اچھے مستقبل کی امیدیں دل میں بسا کر آنے والے ہزاروں طلبہ و طالبات نے اپنی استقامت کے ساتھ موسمی سختی برداشت کر لی تھی تو آپ بھی ان کا سفر کھوٹا نہ کرتے اور یہ موسمی سختی برداشت کرتے وزیراعلیٰ شہبازشریف خود ان بچوں بچیوں کے درمیان آ بیٹھتے اور ان کیلئے جس بھی لائحہ عمل کا اعلان مقصود تھا‘ وہ کر جاتے تو کیا وہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان بچوں بچیوں کے دلوں میں ان کیلئے عقیدت و اپنائیت کے کتنے جذبات ابھرتے مگر ادھر تو پہلے ان تمام بچوں بچیوں کو برستے آسمان کے نیچے چھوڑ دیا گیا اور پھر تقریب کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا گیا کہ دور دراز سے آنے والی بالخصوص بچیاں برستی بارش میں کہاں جائیں گی جبکہ بارش کے نتیجہ میں ٹریفک بھی مکمل جام تھی۔ اس ٹوٹی ہوئی افتاد پر بچوں بچیوں کے کیا جذبات ہوں گے‘ رونق میلے کے منتظمین خادم پنجاب کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہونے دیں گے۔

بات ہو رہی تھی نوجوانوں کے اس اصل مسئلے کی جو کلچرل کمپلیکس کے اس رونق میلے کے ذریعے اجاگر ہوا تو وہ سنگین مسئلہ ہے انتہا درجے کی بے روزگاری کا۔ پہلے پڑھا لکھا پنجاب کا ”ماٹو“ تھا‘ اب تعلیم عام کرنے اور ہونہاروں کو اعلیٰ تعلیم کے تمام درجات تک لے جانے کا جوش و ولولہ ہے جو اپنی جگہ ایک مثبت اور اچھی سوچ ہے مگر اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے نوجوانوں کو آپ ان کا کون سا مستقبل دکھا رہے ہیں؟ اس وقت کمرشلائز ہونے والی تعلیم کا حصول بذات نوجوانوں اور انکے والدین کےلئے گھمبیر مسئلہ ہے اور پھر جیسے تیسے تعلیم مکمل کرکے یہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے روزگار کے حصول کیلئے باہر نکلتے ہیں تو سوائے مایوسی کے انہیں کہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ نتیجتاً معمولی ملازمتوں کی اسامیوں پر بھی گریجویٹ ہی نہیں‘ پوسٹ گریجویٹ نوجوان بھی ہزاروں کی تعداد میں محکمہ محکمہ سرگرداں نظر آتے ہیں۔ میرٹ کا یہاں ویسے ہی جنازہ نکل چکا ہے‘ پبلک سروس کمیشن بھی نام نہاد ہی نظر آتا ہے جبکہ سفارش‘ رشوت‘ اقربا پروری میں اہلوں کو دھکیلتے ہوئے نااہل ہر منصب پر جا بیٹھے نظر آتے ہیں تو نوجوان ہی نہیں‘ ان کے والدین بھی مایوسی کے دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ میں اس معاملے کا ذاتی طور پر بھی خاصہ مشاہدہ کر چکا ہوں اسلئے ملازمتوں کے حصول کے معاملہ میں معاشرے میں پیدا ہونے والی مایوسی مجھے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بنتی نظر آ رہی ہے کیونکہ بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے بعد بیکاری کی جبری سزا بھگتنے والا نوجوان طبقہ غصیلے ردعمل میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اگر اس وقت سٹریٹ کرائمز اور دیگر سنگین جرائم کی شرح تیزی سے بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے تو اس کے محرکات میں بھی بیروزگاری سب سے بڑا عنصر ہے۔ ظاہر ہے بیروزگاری ہو گی تو روزمرہ کے مسائل بھی بڑھیں گے اور غربت کی شرح میں بھی اضافہ ہو گا۔ پھر اس پردرد ماحول میں ”مرتا کیا نہ کرتا“ کی کیفیت کیوں پیدا نہیں ہو گی۔

میں یوتھ انٹرن شپ کی کلچرل کمپلیکس والی تقریب کو بیروزگاری اور غربت کی وسعت جاننے کے بیرومیٹر سے تعبیر کرتا ہوں۔ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ صرف تین ماہ کی انٹرن شپ کی خاطر 40 ہزار کے قریب پوسٹ گریجویٹ طلبہ و طالبات اپنی ڈگریاں اٹھائے احکام کے منتظر نظر آتے ہیں تو اس سے کم تعلیم والے نوجوانوں میں بیروزگاری کا عالم کیا ہو گا۔ اگر کسی محکمہ میں چپڑاسی کی دو اسامیوں کیلئے ہزاروں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ قطاروں میں لگیں گے اور مایوس واپس لوٹیں گے تو اس مایوسی میں وہ کس معاشرے کا نقشہ بنائیں گے؟ اسلئے نوجوانوں کیلئے سجائے جانے والے رونق میلوں سے زیادہ خوش نہ ہوں۔ ان نوجوانوں کے دل تبھی جیتے جائیں گے جب انہیں ملازمتوں کی شکل میں محفوظ اور اچھے مستقبل کی ضمانت فراہم کی جائے گی۔ کس پارٹی کے منشور میں غربت اور بیروزگاری کے خاتمہ کی ٹھوس اور قابل عمل تجاویز موجود ہیں؟ محض نعرے‘ محض وعدے‘ محض دعوے.... تو بھائی صاحب! اس ماحول میں انقلاب ہے‘ بس انقلاب۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com