”جیت جانے میں خسارہ اور ہے“
Oct 22, 2012

عجب مشکل آن پڑی ہے ان کے لئے۔ یہ مقام تو خوشی کا تھا۔ اپنے ساتھ ہونے والی سابقہ واردات کے طشت ازبام ہونے پر اپنی سرخروئی کا جشن منانے کا تھا مگر مستقبل کے خدشات و توہمات نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ نگلنے کا یارا نہیں اور اُگلے بغیر چارہ نہیں۔ جائیں تو جائیں کہاں۔ شائد ایسے ہی کسی نازک موقع کی مناسبت سے میاں محمد بخش بے ساختہ پکار اُٹھے تھے کہ

پھَس گئی جان شکنجے اندر، جِیوں ویلن وِچہ گنّا
روہ نُوں کہو ہُن رہو محمد، جے ہُن رہوے تاں منّاں

اور پروین شاکر نے بھی ایسے ہی کسی ماحول پر مضطرب ہو کر یہ لافانی شعر اپنی بیاض کا حصہ بنایا ہو گا کہ

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

ارے خوش بختو! سپریم کورٹ نے تو آپ کو ”وِنڈی کیٹ“ کیا ہے۔ آپ کو اس کا احساس بھی ہے۔ ادراک بھی ہے اور بیٹھے بٹھائے اپنے ان الزامات کا ثبوت بھی ہاتھ آ گیا ہے کہ سازش ہمیشہ پیپلز پارٹی کا اقتدار چھیننے کی ہی ہوئی ہے۔ آپ کو تو اصغر خاں کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ فریم کرا کے اپنے شہید قائدین کی تصویروں کے ساتھ سجا لینا چاہئے اور اس کے تعویذ بنا کر ہر پارٹی ورکر کے گلے میں لٹکا دینا چاہئے اور پھر اس فیصلے کو اپنا مستند طرہ¿ امتیاز بنا کر اگلے انتخابات کے لئے عوام کے پاس جا بیٹھنا چاہئے مگر آپ کریڈٹ لیتے لیتے پھر خود کو ڈس کریڈٹ کرنےکی راہ پر چل نکلے ہیں۔

حضور والا۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ فیصلے میں سے اپنے مطلب کی چیز کو اُچک لیں اور اس کی بنیاد پر اپنی مظلومیت کے ڈھنڈورے پیٹنا شروع کر دیں مگر آئین و قانون کی پاسداری کا تقاضہ کرنے والے فیصلے کے بنیادی نکتے کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جائیں۔ آپ یا تو فیصلے کو من و عن خوشدلی اور خوش اسلوبی سے قبول کریں یا اس فیصلہ کو بھی پہلے کی طرح اپنے خلاف صادر ہُوا سمجھ لیں پھر تاریخ خود ہی آپ کے بارے میں کوئی درست فیصلہ کر لے گی۔ آپ بے شک پیچ و تاب کھاتے رہیں مگر آپ اصغر خاں کیس کے فیصلہ میں ایوانِ صدر کے سیاسی کردار پر قدغن لگانے کی بات قبول نہیں کریں گے اور اس کردار کو اپنا زیور بنائے رکھیں گے تو پھر آپ کے خلاف 1990ءکے انتخابات کے موقع پر سرانجام دئیے گئے ایوانِ صدر کے سیاسی کردار کا جواز بھی ضرور نکل آئے گا۔ اگر آپ کے خلاف انتخابی نتائج کو چرانے والا صدر غلام اسحاق خان کا کردار غیر آئینی اور ناجائز تھا جسے سپریم کورٹ نے صدر مملکت کے منصب کے آئینی تقاضوں کے حوالے سے ناجائز قرار دیا ہے تو اب صدر زرداری کے ذریعے ایوانِ صدر کے ایسے ہی کردار کی ادائیگی کیونکر جائز قرار دی جا سکتی ہے؟

لوگ تو اصغر خاں کیس کے فیصلہ کی بنیاد پر ماضی کی گرہیں کھولتے ہوئے اب آپ کی شہید قائد کے ہاتھوں جنرل اسلم بیگ کے سینے پر سجائے گئے تمغہ¿ جمہوریت کو بھی یاد کر رہے ہیں اور جنرل اسد درانی آپ کی شہید محترمہ ہی کے ہاتھوں سندِ سفارت سے سرفراز ہوئے تھے تو لوگوں کے ذہنوں میں اصغر خاں کیس کے فیصلہ کی بنیاد پر شرارتی سوالات کیوں نہیں ابھریں گے۔ پھر جناب، یونس حبیب کا قصہ چھڑے گا تو ان کی شاہ خرچیوں کے فیض یافتگان میں سرفہرست موجود گرامی القدر نام بھلا کسی سے چھپ پائیں گے۔ یہ تو اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر اپنا ہی پیٹ دکھانے والی بات ہے۔ آپ اصولوں کی سیاست اور اپنی سیاست کے اصولوں کو ایک دوسرے میں گڈمڈ تو نہیں کر سکتے۔ یا چھپکلی نگلیں، یا اگلیں۔ اب دو دو چوپڑیوں والا زمانہ تو لد گیا کہ اب آئین و انصاف کی عملداری ہے۔ آپ نے 1990ءکے انتخابات کے نتائج چرائے جانے کی محلاتی سازشوں میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر اپنی مظلومیت کو ثابت کرنا اور پھر اس کا میٹھا پھل کھانا ہے تو پھر آپ کو موجودہ ایوان صدر کو سیاست سے پاک کرنے کا کڑوا گھونٹ بھی پینا ہو گا۔

یہاں آپ ایوان صدر کو اپنے پارٹی آفس میں تبدیل کرنا اپنا حق سمجھیں اور ایسے ہی کردار پر غلام اسحاق خاں اور ان کے مددگاروں جنرل اسلم بیگ، جنرل اسد درانی اور یونس حبیب کو گردن زدنی ٹھہرائیں تو آئین کی خلاف ورزی کے جرم میں کوئی پھندا آپ کی گردن کے لائق بھی تو نکل آئے گا۔ پھر جناب قمرالزمان کائرہ کس گمان میں ہیں؟ کیا انہیں صدر کی اہلیت سے متعلق آئین کی واضح دفعات کا علم نہیں ہے، ان آئینی دفعات کی موجودگی میں اگر کائرہ صاحب کو صدر مملکت کے ایوان صدر میں بیٹھ کر سیاسی کردار ادا کرتے رہنے والا کوئی سین نظر آ رہا ہے تو ایسا نظارہ آئین کی جانب آنکھ میچ کر ہی دیکھا جا سکتا ہے یا جرنیلی آمروں کی طرح آئین کو روند کر اس کردار پر اصرار برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اگر آئین نے صدر کے منصب کو سرکاری منصب کے زمرے میں شامل کیا ہے اور اسی بنیاد پر کسی رکن پارلیمنٹ کو اس منصب کے لئے نااہل ٹھہرایا ہے تو اس منصب پر فائز رہنے کے دوران ہی نہیں، اس منصب سے فارغ ہونے کے بھی دو سال بعد تک سیاست سے گریز کرنا اس منصب کا آئینی تقاضہ ہے۔ آپ کو سیاست کرنی ہے کہ اس کے بغیر آپ کا گذارا نہیں تو پھر ابھی ایوان صدر کو خیرباد کہیں اور دو سال پیچ و تاب کھاتے گذارا کرنے کے بعد پارٹی کی پوری کی پوری قیادت سنبھال لیں۔ سیاست کی عبادت صرف اپنے خالص منافع کے لئے تو نہ کریں۔ ورنہ یہ عبادت گناہ کے زمرے میں ہی آئے گی۔ ابھی تو آپ کے کرنے کا یہی کام ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں جن جن معتبرین کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب گردانا گیا ہے آپ ان پر آئین کی عملداری قائم کریں۔ زرداری سے فضل الٰہی بن جائیں۔ یہ جرم آئین کی دفعہ 6 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے تو تمام متعلقین پر اس آئینی دفعہ کا اطلاق کر کے مزید سرخرو ہو جائیں۔ آپ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے ذریعہ حاصل ہونے والے اپنی سرخروئی کے مواقع آخر ضائع کرنے پر ہی کیوں تلے ہوئے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ
ہارنا تو اک انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارہ اور ہے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com