ملالہ حملہ اور پھر ڈرون حملہ
Oct 11, 2012

 اس سے بھلا کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ کسی نہتی، بے ضرر اور معصوم بچی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے سفاک درندے دائرہ اسلام سے ہی نہیں، دائرہ انسانیت سے بھی خارج ہیں۔ پھر یہ حملہ ہماری قوم کی اس بیٹی، اس تابندہ اور درخشندہ ستارے پر کیا گیا جو قبائلی خاندانوں کی بچیوں کو حصول علم کی جانب راغب کرکے علم کی روشنی سے منور کرنے کا عزم ہی نہیں رکھتی، اس عزم پر کاربند بھی ہے۔ اس تابناک روشنی والی شمع کو بجھانے کی سازش بلاشبہ کوئی مسلمان نہیں کر سکتا کہ اسلامی تعلیمات کا نکتہ آغاز ہی ”اقرائ“ ہے۔ اگر ہمارا دین برحق ہمیں حصول علم کی راہ پر چلا رہا ہو اور اس راہ پر اپنے ساتھ دوسروں کو بھی چلانے والی بچی پر سفاکانہ حملہ کرکے اس کی جان لینے کی کوشش کی جائے تو ایسی کوشش کرنے والے ملعونوں کا بھلا امن و آشتی کے منبع دین اسلام سے کیا تعلق واسطہ ہو سکتا ہے۔ پھر اپنی قابل فخر اور روشن خیال بیٹی ملالہ یوسفزئی کی جان کے درپے شیطانوں کو ہم کیسے اپنے قبیلے، اپنے مذہب، اپنی قوم کا حصہ قرار دیں۔ ان بدبختوں کا اسلام ہی نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان سے بھی کوئی تعلق نہیں ہو سکتا اور ان کی سفاکانہ حرکت پر پوری قوم سخت غصے میں بھی ہے اور غم میں بھی ڈوبی ہے۔ اسلامیان پاکستان کا کوئی گھر ایسا نہیں ہو گا جس نے معصوم و بے گناہ بیٹی ملالہ کے زخمی ہونے پر اپنے دل میں دکھ محسوس نہ کیا ہو، کوئی آنکھ ایسی نہیں ہو گی جو ملالہ پر حملے کی اطلاع پاکر آنسوﺅں سے تر نہ ہوئی ہو اور کوئی ہاتھ ایسا نہیں ہو گا جو اس کی زندگی کی عاجزانہ دعا کے لئے خدا کے حضور نہ اٹھا ہو۔ ہر گھر، ہر مسجد، ہر مکتب اور ہر درسگاہ میں ہمارے تمغہ امتیاز، ستارہ جرا¿ت ملالہ کی زندگی اور درازی عمر کی گڑگڑاتی دعاﺅں کے ڈھیر لگے ہیں۔ جس ملالہ نے علم کی لگن میں چار دانگ عالم میں اپنے ملک اور ملت کا نام روشن کیا ہو، اُسے بجھانے کی گھناﺅنی سازش کرنے والوں کے لئے بھلا ہماری زبان سے کوئی کلمہ خیر نکل سکتا ہے؟ جی جناب، اس کا تصور بھی نہ کیا جائے مگر ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرکے اس بات کا جائزہ ضرور لے لیجئے کہ معصوم ملالہ کو کن حالات میں گھناﺅنی سازش کے تحت سفاکی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے۔ امریکی ادارے اور عوام بھی ڈرون حملوں پر واشنگٹن انتظامیہ کو لعن طعن کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے ہر مکتبہ زندگی کے لوگ ڈرون حملوں کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے اپنے ملک کی سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ اقوام متحدہ بھی ڈرون حملوں کا نوٹس لینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ چین، روس، فرانس اور اکثر یورپی ممالک کے اقتدار کے ایوانوں سے بھی ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان سے یکجہتی کا کھلم کھلا اظہار ہو رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکی، ایران، مصر اور بوسنیا سمیت ہر مسلمان ملک بھی پاکستان میں جاری ڈرون حملوں پر اپنی فکر مندی اور غم و غصے کا اظہار کر رہا ہے اور خود حکومت پاکستان ان حملوں کے خلاف عالمی فورموں پر اپنا سخت احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہے، چلیں عمران خان کے امن مارچ کو ان کی سیاست کے کھاتے میں ہی ڈال لیں پھر بھی جنوبی وزیرستان کی سرحد تک جانے والے اس امن مارچ کی بنیاد پر پورے عالمی میڈیا پر ڈرون حملوں کے مضمرات کا تذکرہ تو ہونے لگا ہے۔ چنانچہ امریکہ پر دباﺅ اتنا بڑھ گیا ہے کہ صرف اپنی سلامتی کی خاطر ڈرون حملے جاری رکھنے کی اس کی دلیل بودی پڑ گئی ہے بلکہ وہ عملاً دفاعی پوزیشن پر بھی آ چکا ہے۔

پھر حضور والا، ذرا سوچئے، ڈرون حملوں کے خلاف پیدا ہونے والی اس فضا میں یکا یک ملالہ کو نشانہ بنانا اور پھر کالعدم تحریک طالبان کے کسی ترجمان کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان آنا، کہیں ڈرون حملے برقرار رکھنے کا جواز پیدا کرنے کی گھناﺅنی سازش تو نہیں؟ اس سازش کی تو اب گرہیں بھی کھلنا شروع ہو گئی ہیں جناب، کہ ڈرون حملوں کے خلاف عالمی احتجاج پر اتنی دفاعی پوزیشن پر آئے ہوئے امریکہ کو ملالہ پر حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان کے کھاتے میں پڑنے کے اگلے ہی روز شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں پھر سفاکانہ ڈرون حملے کرنے کی سہولت مل گئی۔ منگل کی صبح ملالہ کو مینگورہ میں سکول سے گھر واپس جاتے ہوئے قاتلانہ حملے میں زخمی کیا گیا اور بدھ کی صبح میر علی کے گاﺅں ہرمز کے ایک گھر پر یکے بعد دیگرے آٹھ میزائل داغ کر پانچ انسانوں کی جان لے لی گئی۔ کیا یہی ایک واقعہ ملالہ کی جان لینے کی سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی نہیں؟

ذرا سا غور فرمائیے، کالعدم تحریک طالبان کے کسی نمائندے کے نام پر ملالہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ ہی پراپیگنڈہ شروع ہو گیا کہ طالبان کی جانب سے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بہت عرصے سے مل رہی تھیں۔ اگر یہی حقیقت ہے تو مینگورہ میں طالبان کی مسلسل نظروں میں آنے والی اس معصوم بچی کی شناخت بھلا اس پر حملہ کرنے والے ”طالبان“کے لئے کوئی مشکل مرحلہ ہوتا؟ اس بچی کی حفاظت کے لئے تو کوئی انتظامات بھی نہیں کئے گئے تھے۔ وہ فروغ تعلیم کے لئے اپنے علاقے کے کسی بھی مقام پر اور اپنے تعلیمی ادارے میں بس اپنی ہم جولیوں کے ساتھ ہی پہنچ جاتی تھی۔ وہ طالبان کے ہدف پر ہوتی تو بھلا اب تک زندہ رہ پاتی ۔ پھر اس پر حملے کے لئے آنے والے دہشت گردوں کو پہلے یہ تسلی کیوں کرنا پڑی کہ یہی وہ ملالہ ہے جس پر فائر کھول کر اس کی جان لینے کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی ہے۔

حضور والا، یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے تسلیم کر لیا جائے تو ہمارے ذہنوں پر طاری کی جانے والی تجسس و تشکیک کی فضا چھٹ جائے گی۔ کیا آپ کے سامنے نہیں کہ طالبان کے حوالے سے دین اسلام کے انتہا پسند ہونے کا پراپیگنڈہ تیز کرنے کے لئے اسی سوات کے علاقے میں ایک خاتون کو اس کے بھائیوں اور رشتہ دارووں سے کوڑے مروانے کی ایک جعلی ویڈیو تیار کرا کے عالمی میڈیا پر چلائی گئی اور اس کی خوب تشہیر کی گئی اور جب یہ ویڈیو جعلی ثابت ہوئی تو اس کی بنیاد پر دین اسلام کے انتہا پسند ہونے کا پراپیگنڈہ کرنے والوں کو اپنے کئے پر شرم و تاسف کا اظہار کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوئی۔ پھر ابھی چند ماہ قبل ہی قبائلی علاقے کی کسی شادی کی تقریب میں چار خواتین کے مردوں کے ساتھ رقص کرنے کی ویڈیو سامنے آئی اور اس کے ساتھ ہی پراپیگنڈہ شروع ہو گیا کہ ان چاروں خواتین اور ان کے ساتھ رقص میں شریک مردوں کو کسی جرگے کے حکم پر پکڑ کر قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ ڈرامہ بھی جھوٹا نکلا اس لئے کیا بعید ہے کہ ملالہ پر حملہ کی سازش بھی دین اسلام کے خلاف اس کے متشدد ہونے اور خواتین کی آزادی کو برداشت نہ کرنے کا پراپیگنڈا کرنے کے لئے تیار کی گئی ہو جبکہ میر علی میں گذشتہ روز ہونے والے ڈرون حملے سے بھی ملالہ پر قاتلانہ حملے کی سازش ہی بے نقاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس لئے ذرا کھوج لگا لیجئے کہ وہ کون لوگ ہیں جو دہشت گردی کی ہر واردات کی ذمہ داری قبول کرکے اسے طالبان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ ہمارے میڈیا کو بھی بغیر تصدیق کے ایسے کسی دعوے کو عام کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ میڈیا کے ذریعے ایسی اطلاعات کو عام کرنا بھی درحقیقت ہمارے دین اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کی گھناﺅنی سازشوں کا ہی حصہ ہے۔ ملالہ ہماری بیٹی ہے اور اس کی جان لینے کی سازش کرنے والے بدبختوں کا ہم سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ ان کے چہرے ضرور بے نقاب کریں مگر خود کو دشمن کی سازشوں کی کامیابی کا زینہ نہ بنائیں کہ وہ تو ہمیں بطور ملت صفحہ ہستی سے مٹانے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھے ہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com