دو سلطانی گواہ اور ایک خط
Oct 08, 2012

کیسی ستم ظریفی ہے کہ اپنے صدر کو بچانے اور مضبوط بنانے کے سر تا پا جتن کرنے والے دونوں وزیراعظم آج اپنے اپنے صدور کے معاملے میں بگڑے بگڑے نظر آ رہے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین اپنے جرنیلی صدر مشرف کی سرپرستی میں انہی کی تشکیل کردہ کنگز پارٹی کے سربراہ بنے۔ میر ظفراللہ جمالی کو ایوان اقتدار کی راہداریوں سے لڑھکا کر تین ماہ کے لئے اقتدار کا ہما بھی چودھری شجاعت حسین کے سر پر بٹھا دیا گیا۔ اسی سرخوشی میں ان کے برادر نسبتی چودھری پرویز الٰہی نے یہ تفکر کئے بغیر کہ ان کی مستقبل کی سیاست داﺅ پر لگ سکتی ہے، اپنے مربی جنرل مشرف کو مزید دس ٹرموں کے لئے باوردی صدر منتخب کرانے کا اعلانِ دلپذیر جاری کر دیا۔ وہ نائب وزیراعظم کے منصب پر جا بیٹھے ہیں مگر مشرف کو مزید دس ٹرموں کے لئے باوردی صدر منتخب کرانے کے ”باعزم“ اعلان نے آج تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

آسیب کے سائے کی لپیٹ میں آنے والے اسی دور میں مشرف کی جرنیلی بڑھک نے جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کا حشر کیا۔ جہاں تین روز تک جاری رکھے گئے من مانے آپریشن میں عفت مآب بچیوں کی چیخیں اور کراہیں بھی دبا دی گئیں۔ آپریشن کے بعد عینی شاہدین نے گواہی دی کہ معصوم بچیوں کی لاشوں کے ڈھیر جامعہ حفصہ کے باہر گندے نالے میں لگے تھے جنہیں آپریشن کلین اپ کر کے اٹھایا اور غائب کیا گیا۔ اس آپریشن کی دلدوز داستانیں ملکی اور عالمی میڈیا کے ذریعے جرنیلی رعونت کو بے نقاب کرتی رہیں۔ راسخ مذہبی گھرانے کے چودھری شجاعت حسین نے انسانیت کو شرمانے والے یہ سارے مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ایک مرحلہ میں وہ مہتمم جامعہ حفصہ کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں بھی شریک ہوئے مگر اسی دوران جرنیلی رعونت کے مظاہرے سے لبریز آپریشن شروع ہو گیا اور چودھری صاحب اپنا سا منہ لئے واپس لوٹ آئے۔ پھر ایسا ہی رعونت بھرا آپریشن نواب اکبر بگتی کے خلاف شروع ہوا جس کے دوران مشرف کا یہ خدائی دعویٰ منظرعام پر آیا کہ بگتی کو وہاں سے ہٹ کیا جائے گا کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلے گا، انہیں کیا چیز آ کر لگی ہے۔ بالکل ایسا ہی ہوا۔ کچھ ہٹ ہوا اور نواب بگتی اپنے ساتھیوں اور آپریشن میں شریک فوجی افسروں سمیت غار میں دب گئے۔ چودھری شجاعت حسین اس آپریشن کے دوران بھی اپنے سیکرٹری جنرل سید مشاہد حسین کو ساتھ لے کر ڈیرہ بگتی جا پہنچے تھے۔ ان کی نواب بگتی سے ملاقات تو نہ ہو پائی مگر انہوں نے آپریشن رکوانے کے لئے اپنی سفارشات ضرور مرتب کر کے اپنے سرپرست جرنیلی آمر کے حضور پیش کر دیں مگر انہیں بھی حقارت سے ٹھکرا کر چودھری صاحب کو ان کی حیثیت کا احساس دلا دیا گیا۔ اور چودھری صاحب نے جرنیلی آمر کے آسیب کا سایہ بننے کے بعد بھی طویل مدت تک اپنے منہ میں کھنگنیاں ڈالے رکھیں۔ شاید اس آمر کا ”دست شفقت“ اپنے سر سے ہٹنے کے باوجود انہیں یہ ہاتھ اپنے سر پر رکھا ہی نظر آتا رہا ہو گا۔ اب جرنیلی آمریت کے مُردے کا کفن پھاڑ کر کوئی آواز باہر آئی ہے تو وہ ہمارے دیدہ ور سیاستکار انہی حضرت چودھری شجاعت حسین کی ہے جو اب جامعہ حفصہ کی خونیں واردات اور نواب اکبر بگتی کے سفاکانہ قتل کے دونوں واقعات میں سلطانی گواہ بننے پر آمادہ نظر آ رہے ہیں۔

مشرف تو آج بھی ملک سے باہر بیٹھ کر رعونت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ پھکڑ مارتے نظر آتے ہیں کہ جامعہ حفصہ آپریشن میں کوئی ایک بچی بھی شہید نہیں ہوئی جبکہ نواب بگتی کے قتل سے بھی وہ اب خود کو بری الذمہ قرار دئیے بیٹھے ہیں۔ اس ماحول میں چودھری شجاعت حسین آج گواہی دے رہے ہیں کہ مشرف ہی بگتی کے قتل کے ذمہ دار ہیں اور لال مسجد میں معصوم بچوں کو مارا گیا۔ اس سانحہ پر اللہ مشرف کو معاف نہیں کرے گا۔ چودھری صاحب! آپ بھی ذرا اپنے ضمیر سے پوچھ لیں۔ ایسے انسانیت سوز مظالم پر اتنا عرصہ خاموش رہنے پر کیا اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کر دے گا۔ جبکہ ظلم ہوتا ہوا دیکھ کر خاموش رہنا اور اسے دل میں بُرا سمجھنا کمزور ترین ایمان کی دلیل ہے۔ چلیں اب ان کی گواہی کی نوبت تو آئی۔ جامعہ حفصہ کی مظلوم و معصوم بچیوں کے لواحقین اور نواب اکبر بگتی کے ورثاءاب انہیں عدالت کے کٹہرے میں لے آئیں اور ان سے حساب کتاب کر لیں۔ کوئی نہ کوئی گتھی تو سلجھ ہی جائے گی چاہے تاخیر سے ہی سہی، مگر موجودہ صدر محترم کے تو دورِ اقتدار میں ہی ان سے متعلق گتھیاں سلجھنے کی نوبت آ گئی ہے کہ انہیں بچاتے بچاتے وزارتِ عظمٰی سے فارغ اور پانچ سال کے لئے نااہل ہو کر گھر جانے والے گیلانی مرشد کو ابھی سے زبان لگ گئی ہے۔ وہ ایوان صدر کیجانب گھُوریاں ڈالتے، مٹھیاں بھینچتے، پاﺅں پٹختے سارے رازوں سے پردہ اٹھائے چلے جا رہے ہیں۔ ہم نے تو انہیں اسی وقت عرض کیا تھا کہ اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے۔ مگر وہ ایوان صدر اور پارلیمنٹ کی طاقت کا نشہ چڑھائے سپریم کورٹ کو للکارے مارتے رہے۔ اگر وہ اپنی آج والی سوچ کا اسی وقت اظہار کر دیتے تو بے شک عدم اعتماد وصول کر کے گھر جاتے مگر پانچ سال کی نااہلی سے تو بچ رہتے۔ اب انہیں یقیناً پچھتاوا تو ہو رہا ہو گا کہ جس ایوانِ صدر کی بقاءکی خاطر انہوں نے اپنی مستقبل کی سیاست کو بھی قربان کیا اس کی دہلیز سے گرفتار ہونے والے ان کے صاحبزادے کو اسی سپریم کورٹ کے ذریعے رہائی ملی جسے وہ ایوان صدر کی بقاءکی خاطر للکارے مار رہے تھے۔ مکافاتِ عمل سے زیادہ یہ عبرت کا مقام ہے اور خاطر جمع رکھئے حضور والا۔ موجودہ رعونتوں کے سلطانی گواہ تو ان کے عہد اقتدار میں ہی پیدا ہو گئے ہیں۔ اس صورتِ حال میں نوابزادہ نصراللہ خاں مرحوم کی زبان سے زدِعام ہونے والا ایک شعر بے ساختہ یاد آ گیا ہے

ان کے عہدِ شباب میں جینا
جینے والو تمہیں ہوا کیا ہے

آخر میں راولپنڈی کے ایک صاحب دوست محمد چودھری کا مراسلہ مرحوم نوابزادہ نصراللہ خاں کے صاحبزادگان نوابزادہ منصور اور نوابزادہ افتخار کی نذر کر رہا ہوں وہ چاہیں تو اس سے عبرت حاصل کریں اور لاثانی شخصیت اپنے والد مرحوم کی یاد تازہ رکھنے کے لئے کچھ کر جائیں۔

جاوید ہاشمی جس نے نوابزادہ صاحب کی میراث ملتان لے جا کر نام نہاد سونامی میں ڈبو دی، کو اتنی بھی توفیق نہ ہوئی کہ خان گڑھ جا کر ان کی برسی میں شامل ہو جاتے۔

نوابزادہ صاحب نے سیاست کی پرخار وادی میں 73 سال صرف کئے ہیں۔ وہ اپنی ڈائری لکھنے کے معاملہ میں بڑے مستعد تھے ان کی ذاتی ڈائریوں کا ایک انبار ہے۔ جو یقیناً ایک مستند تاریخ کی بنیاد ہے۔ پاکستان کی سیاسی و جمہوری تاریخ سمجھنے کے لئے اور سیاسی رازوں کو جاننے کے لئے یہ بڑی اہم دستاویز ہو گی۔ لہٰذا نوابزادہ صاحب کی ڈائریوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نوابزادہ منصور اور افتخار دونوں سے رابطہ کر کے اس طرف توجہ دلائی جائے۔ انہیں کہا جائے آپ جہاں جی چاہے چلے جائیں دن رات پارٹیاں بدلیں صبح شام لیڈرز بنائیں اور تبدیل کریں مگر مرحوم باپ کے ساتھ خدارا انصاف کریں۔ اُن کی ڈائریاں کسی دیانتدار راست باز، ہمدرد اور جمہوریت دوست لکھاری کے حوالے کر کے ان پر کام کروایا جائے۔ یہ بہت بڑی قومی خدمت ہو گی۔ نوابزادہ صاحب نے ساری عمر درس اتحاد دیتے گزار دی مگر اولاد ان کے مرتے ہی نفاق اور اختلاف کی داعی بن گئی۔ افسوس ہے“۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com